logo logo
AI Search

منفرد کے پیچھے اقتدا کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

اکیلے نماز پڑھنے والے کی اقتدا کی نیت سے لوگ شامل ہوجائیں تو نماز کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

مقتدی کو اقتداء کی نیت کرنا ضروری ہےیعنی مقتدی کی نماز اسی وقت درست ہوگی جب وہ نماز کی نیت کرنے کے ساتھ امام کی اقتدا کی نیت کرے اور مقتدی کی نمازصحیح ہونے کے ليے امام کو نیتِ امامت ضروری نہیں لہذا اگر کوئی شخص اکیلے فرض نماز پڑھ رہا ہو اور دوسرا شخص آکراس کی اقتدا میں نماز شروع کرےتومقتدی کی نمازاداہوجائےگی جبکہ اقتداء کی دیگرتمام شرائط پائی جائیں (بہار شریعت میں اقتداء کی 13 شرائط لکھی ہیں، نماز درست ہونے کے لئے ان سب کا بیک وقت پایا جانا ضروری ہے)۔ اس صورت میں اکیلے نماز پڑھنے والے کو اختیار ہوگا کہ امامت کی نیت کرے یا نہ کرے، دونوں صورتوں میں مقتدی کی نماز درست ہے البتہ امام نے امامت کی نیت نہ کی تو اسے جماعت کا ثواب نہیں ملےگا۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ اس صورت میں اگر اکیلے نماز پڑھنےوالاپیچھے والوں کی امامت کی نیت کرتا ہے تو امامت سے متعلقہ ضروری احکام کی رعایت رکھنا اس پر لازم ہوگا جیسے اگر کسی نے اکیلےجہری نماز مثلاً مغرب، عشا کےفرض شروع کیے اور کسی نے اس کی اقتدا کی اور اس نے اس کے امام بننے کی نیت کی تو اب یہ قراءت میں جہاں تک پہنچا ہے اس سے آگے جہراً قراءت کرے کیونکہ جہری نمازوں میں امام پر جہری قراءت واجب ہے البتہ جتنی قراءت آہستہ آواز میں پہلے کرچکاتھا، وہ دوبارہ جہراً کرنے کی حاجت نہیں، یونہی تکبیراتِ انتقالات بلند آواز سے کہے گا و علی ھذا القیاس۔

یہ بھی واضح رہے کہ مندرجہ بالا تفصیل (یعنی اکیلے پڑھنے والے کا نیتِ امامت کرنا) جماعت کا ثواب پانے اور امامت کے تقاضے اس پر لازم ہونے کے اعتبار سے تھی۔ کوئی دوسرا شخص اکیلے نماز پڑھنے والے کے ساتھ جماعت کے طور پر شامل ہونا چاہے تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ بعد میں آنے والا اکیلا مرد ہے تو سنت یہ ہے کہ یہ امام کے برابر اس کی دائیں جانب کھڑا ہواوربرابر کھڑے ہونے میں اس چیزکا لحاظ فرض ہے کہ قیام، رکوع، سجود کسی بھی رکن میں اس کے پاؤں کا ٹخنہ،امام کے ٹخنے سے آگے نہ بڑھے۔ اگردو مرد مقتدی ہیں تو سنت یہ ہے کہ امام کے پیچھے کھڑے ہوں البتہ اگر دونوں امام کے برابر دائیں، بائیں جانب کھڑے ہوئےتو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اگر مرد مقتدی دو سے زیادہ ہوں تو واجب ہے کہ امام کے پیچھے کھڑے ہوں، ان کےلئےامام کے برابر کھڑا ہونا مکروہِ تحریمی وگناہ ہے۔ یونہی تنہا پڑھنے والے کی اگر عورت اقتدا کر ے تو اس حوالے سے ایک علیحدہ تفصیل ہے جس کا ذکر فقہ کی کتب میں مصرّح ہے۔

منفرد کے پیچھے اقتدا کرنے سےمقتدی کی نماز ادا ہوجائے گی اورامام کے لئے نیت امامت ضروری نہیں جیسا کہ محقق و مدقق علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: و الامام ينوی صلاته فقط و لا يشترط لصحة الاقداء نية امامة المقتدی بل لنيل الثواب“ یعنی امام صرف اپنی نماز کی نیت کرےگا، مقتدی کی نماز درست ہونے کے لئے امام کو امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں ہاں ثواب پانے کے لئے نیتِ امامت کرنی ہوگی۔

اس کے تحت خاتمۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1254ھ) لکھتےہیں: و الحاصل ما قاله في الاشباه من انه لا يصح الاقتداء الا بنيته و تصح الامامة بدون نيتها ۔ ۔ ۔ (قوله بل لنيل الثواب) معطوف على قوله لصحة الاقتداء ای بل يشترط نية امامة المقتدی لنيل الامام ثواب الجماعة (عبارت کا خلاصہ) حاصلِ کلام وہ ہے جو اشباہ ونظائر میں لکھا ہے کہ مقتدی کی نماز نیتِ اقتداکے بغیر درست نہیں ہوگی اور بغیر نیتِ امامت امامت درست ہےلیکن امام کو جماعت کا ثواب اسی صورت میں ملے گا جب وہ مقتدیوں کی امامت کی نیت کرے(ورنہ ثواب نہیں ملے گا،نماز اگرچہ ادا ہوجائے گی)۔ (الدرّ المختارو ردّ المحتار، ج 02، ص 128، مطبوعہ کوئٹہ ملتقطاً)

فتاوی عالمگیری میں ہے: و الامام ينوي ما ينوی المنفرد و لا يحتاج الى نية الإمامة ۔ ۔ ۔ و لو كان مقتديا ينوی ما ينوی المنفرد و ينوی الاقتداء ايضاً لان الاقتداء لا يجوز بدون النية“ یعنی امام منفرد والی نیت کرے، اسے نیتِ امامت کی حاجت نہیں جبکہ مقتدی کو منفرد والی نیت کے ساتھ نیتِ اقتدا بھی ضروری ہے کیونکہ بغیر نیت اقتدا درست نہیں۔ (الفتاوی الھندیۃ، ج 1، ص 66، مطبوعہ کوئٹہ ملتقطاً)

کسی نے منفرد کی اقتدا کی تو منفرد اگر نیتِ امامت کرے تو امامت کے تقاضے اس پر لازم ہیں جیسا کہ علامہ ابراہیم بن محمدحلبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 956ھ)حلبی کبیرفرماتے ہیں: شرع منفرداً فی صلاة جهرية فقرا الفاتحة مخافتۃ ثم اقتدى به جماعة يجهر بالسورةان قصد الامامة و الا فلا اذ لا يلزمه مالم يلتزمہ“ یعنی کسی نے جہری نماز اکیلے شروع کی، سورہ فاتحہ آہستہ آواز میں پڑھی پھر کچھ لوگوں نے اس کی اقتدا کی، اگر ان کی امامت کا ارادہ کرے تو بقیہ قراءت جہر یعنی بلند آواز سے کرےورنہ نہیں کیونکہ آدمی جب تک اس کا التزام نہ کرےاس پر اس چیز کے تقاضے لازم نہیں ہوں گے۔ (غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی، ج 2، فصل فی مسائل شتی، ص 566، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

امام پر امامت کے تقاضے اسی وقت لازم ہوں گے جب وہ امامت کی نیت کرے، اگر امامت کی نیت نہیں کرتا تو وہ اپنی نماز کے حق میں منفرد ہوگا اور اس پر منفرد والے احکام نافذ ہوں گے اگرچہ کوئی دوسرا اس کی اقتدا کی نیت سے اس کے پیچھے نماز پڑھے اور اگر امام امامت کی نیت نہیں کرتا تو امام کو جماعت کا ثواب بھی نہیں ملے گاچنانچہ درمختار میں حلبی کبیر کی مذکورہ عبارت کو ذکر کیا گیا ہے، اس کے تحت فتاوی شامی میں ہے: (قوله ان قصد الامامة الخ) عزاه في القنية الى فتاوى الكرمانی و وجهه ان الامام منفرد فی حق نفسه و لذا لا يحنث فی لا يؤم احداً ما لم ينو الامامة ولا يحصل ثواب الجماعة الا بالنية ۔ ۔ ۔ فاذا كان كذلك فكيف تلزمه احكام الامامة بدون التزام فافهم‘‘ یعنی کسی نے دوسرے کی اقتدا کی اور نماز جہر والی ہو تو امام پر جہر اس وقت واجب ہوگا اگروہ امامت کی نیت کرے۔ قنیہ میں اس مسئلے کو فتاوی کرمانی کی طرف منسوب کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ امام اپنی نماز کے حق میں منفرد ہوتا ہے اسی سبب اگر کسی نے قسم کھائی کہ وہ کسی کی امامت نہیں کرے گا اور کسی نے نماز میں اس کی اقتدا کی تو جب تک وہ امامت کی نیت نہیں کرتا، حانث نہیں ہوگا نیز امام کو جماعت کا ثواب بھی نہیں ملےگا مگر یہ کہ امامت کا قصد کرے (پھر علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرح کے مزید کچھ نظائر بیان فرمائے، پھر فرمایا) تو جب معاملہ یہ ہوا کہ نیتِ امامت ضروری ہے تو امامت کا التزام کئے بغیر اس پر امامت کے احکام کس طرح لازم ہوسکتے ہیں؟ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 305، مطبوعہ کوئٹہ)

منفرد سری قراءت کر رہا ہو اور کوئی دوسرا شخص اس کی اقتدا کی نیت سے اس کی نماز میں شامل ہوجائے اور اس منفرد نے اس کی امامت کی نیت کی تو اگر جہری نماز ہے تو قراءت کاجو حصہ باقی ہے، امام اسے جہر سے پڑھے اور جو پڑھ چکا ہے اس کا اعادہ نہیں کرے گا جیسا کہ حلبی کبیر والی مذکورہ عبارت کی شرح بیان کرتے ہوئے حاشیہ رحمتی میں لکھاہے: ظاھر (قولہ: یجھر بالسورۃ) انہ لا یلزمہ اعادۃ الفاتحۃ و یمکن حملہ علی ارادۃ ان الجھر صار واجباً فی حقہ بعد ان کان مندوباً ۔ ۔ ۔ و لعل الاوجہ ما ذکرہ الحلبی انّ من حین اقتدی بہ و نوی الامامۃ عند ذلک صار اماماً فیجھر بہ و لا یکلف ما مضی‘‘ یعنی صرف سورت کی جہری قراءت کرے گا اور دوبارہ سورہ فاتحہ پڑھنا لازم نہیں کیونکہ امامت کی نیت سے پہلے جہری قراءت مستحب تھی اور نیت کرنے کے بعد واجب ہوگئی اور زیادہ بہتر بات وہ ہے جو علامہ حلبی نے ذکر فرمائی کہ جب کسی نے دوسرے کی اقتدا کی اور اس نے مقتدی کے آنے پر اس کی امامت کی نیت کی تو نیت کرنے سے وہ امام ہوگیا لہذا آگے کی قراءت میں جہر کرے گا اور پچھلی قراءت جہر سے دوبارہ کرنےکا پابند نہیں کیا جائے گا۔ (منحۃ الباری لمصطفی الانصاری علی الدر المختار، ص 130 - 131، مخطوط، ملتقطاً)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مقتدی کو اقتدا کی نیت بھی ضروری ہے اور امام کو نیت اِمامت مقتدی کی نماز صحیح ہونے کے ليے ضروری نہیں، یہاں تک کہ اگر امام نے یہ قصد کرلیا کہ ميں فلاں کا امام نہیں ہوں اور اس نے اس کی اقتدا کی نماز ہوگئی، مگر امام نے اِمامت کی نیت نہ کی تو ثواب جماعت نہ پائے گا اور ثواب جماعت حاصل ہونے کے ليے مقتدی کی شرکت سے پیشتر نیت کر لینا ضروری نہیں، بلکہ وقت شرکت بھی نیت کر سکتا ہے۔ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 03، ص 495، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

اکیلے نماز پڑھنے والی کی اقتدا کرنے کے حوالے سے آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آہستہ پڑھ رہا تھا کہ دوسرا شخص شامل ہوگیا تو جو باقی ہے اسے جہر سے پڑھے اور جو پڑھ چکا ہے اس کا اعادہ نہیں۔ (ایضاً، ص 544)

ایک یا زائد مقتدی ہوں تو وہ کہاں کھڑے ہوں گے؟ اس متعلق امام اہلسنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب صرف ایک مقتدی ہو تو سنت یہی ہے کہ وہ امام کے برابر دا ہنی طرف کھڑا ہو مگر اس کا لحاظ فرض ہے کہ قیام، قعود، رکوع، سجود کسی حالت میں اس کے پاؤں کا گِٹّا، امام کے گِٹّے سے آگے نہ بڑھے۔ اسی احتیاط کے لئے امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ فرماتے ہیں کہ یہ اپنا پنجہ امام کی ایڑی کے برابر رکھے، اور اگردو مقتدی ہوں تو اگرچہ سنت یہی ہے کہ پیچھے کھڑے ہوں، پھر بھی اگرامام کے دہنے بائیں برابر کھڑے ہوجائیں گے حرج نہیں مگردو سے زیادہ مقتدیوں کا امام کے برابر کھڑا ہونا یا امام کا صف سے کچھ آگے بڑھا ہونا کہ صف کی قدر جگہ نہ چھوٹے یہ ناجائز و گناہ ہے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 201، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Nor-13562
تاریخ اجراء: 15 ربیع الآخر 1446ھ / 19 اکتوبر 2024ء