امام کا سنتیں پڑھے بغیر امامت کروانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سنت قبلیہ پڑھے بغیر امامت کروانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام کا ظہر کی سنت قبلیہ پڑھے بغیر امامت کروانا کیسا ہے؟
جواب
ظہر کی سنت قبلیہ پڑھے بغیر امامت کروانے کے حوالے سے تفصیل درج ذیل ہے کہ:
(الف) اگر تو وقت صرف بقدر فرض ہی کے باقی ہے، تو اب تو سنتیں چھوڑنی ہی پڑیں گی، ایسی صورت میں اگر اس وقت امامت کے قابل کوئی اور ایسا فرد موجود ہے، کہ جس نے سنتیں پڑھ لی ہیں، تو وہی امامت کروائے، اور اگر وہاں اس امام کے علاوہ کوئی اور امامت کے قابل نہیں، یا جو امامت کے قابل ہے، اس نے بھی ابھی سنتیں نہیں پڑھیں، تو ایسی صورت میں امام، بغیر سنت قبلیہ پڑھے امامت کروا سکتا ہے۔
(ب) اور اگر وقت میں وسعت ہے، کہ سنت قبلیہ پڑھ کر فرض نماز ادا کی جا سکتی ہے، تو ایسی صورت میں امام کاسنت قبلیہ ادا کیے بغیر امامت کروانا خلاف سنت اور مکروہ ہے۔
در مختار میں ہے "یکرہ ۔۔۔ترک کل سنۃ" ترجمہ: ہر سنت کا ترک مکروہ ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 2، ص 511-512، کوئٹہ)
فتاوی امجدیہ میں سوال ہوا "فجر و ظہر میں کوئی بلا سنت پڑھے، نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں اگر پڑھائے تو ایسی حالت میں نماز کیسی ہوگی ؟"
اس کے جواب میں فرمایا: "اگر اتنا وقت باقی ہے کہ سنت پڑھ لینے کے بعد فرض ادا کرلیگا تو سنتوں کے پڑھنے کے بعد نماز پڑھائے، ۔۔۔ظہر کی سنتیں اگرچہ بعد فرض پڑھ لے گا مگر بلاعذر اس کو اس کی جگہ سے ہٹانا بھی برا ہے کہ سنت قبلیہ میں اصل سنت یہی ہے کہ وہ فرض سے قبل پڑھی جائے، جماعت قائم ہوچکنے بعد مقتدی کا جماعت میں مشغول ہونا اور سنت کا موخر کرنا عذر شرعی کی وجہ سے ہے مگر بلاوجہ امام کا موخر کرنا سنت کے خلاف ہے ۔" (فتاوی امجدیہ، ج 01، ص 200، مکتبہ رضویہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے "ہر سنت کا ترک مکروہ ہے ۔" (بھار شریعت، ج 01، حصہ 02، ص 301، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-10802
تاریخ اجراء: 14 محرم الحرام 1443ھ/23 اگست 2021ء