جمعہ کے دن شہر میں ظہر باجماعت پڑھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شہر میں جمعہ کے دن ظہر باجماعت پڑھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جس پر جمعہ فرض ہے اسے شہر میں جمعہ ہو جانے سے پہلے ظہر پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، بلکہ امام ابن ہمام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حرام ہے۔ اور اگر جمعہ ہونے سے پہلے ظہر پڑھ لی جب بھی جمعہ کے ليے جانا فرض ہے، اور اگر شہر میں جمعہ ہوگیا، اور کہیں بھی نہیں مل سکتا، تو اگر بلاوجہ شرعی جمعہ چھوڑا، تو اس کا گناہ سر پر رہے گا، اس سے سچی توبہ لازم ہے، اور اب ظہرپڑھنے میں کراہت نہیں،بلکہ اب تو ظہر پڑھنا فرض ہے، لیکن جماعت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے، بلکہ علیحدہ علیحدہ پڑھیں گے، اسی طرح مریض یا مسافر یا قیدی یا کوئی اور جس پر جمعہ فرض نہیں، ان لوگوں کو بھی جمعہ کے دن شہر میں جماعت کے ساتھ ظہر پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، خواہ جمعہ ہونے سے پہلے جماعت کریں یا بعد میں۔
درمختار میں ہے (و حرم لمن لا عذر له صلاة الظهر قبلها) ۔ ۔ ۔ (في يومها بمصر) لكونه سببا لتفويت الجمعة و هو حرام“ ترجمہ: جس کے لیے (ترکِ جمعہ کا) کوئی عذر نہیں ہے، اسے شہر میں جمعہ کی نماز سے پہلے جمعہ کی بجائے ظہر ادا کرنا حرام ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ظہر پڑھنا جمعہ چھوڑنے کا سبب ہوگا اور جمعہ چھوڑنا حرام ہے۔
ہدایہ میں ہے "و من صلى الظهر في منزله يوم الجمعة قبل صلاة الإمام و لا عذر له كره له ذلك" ترجمہ: اور جس نے جمعہ کے دن بلا عذر امام کی نماز سے پہلے اپنے گھر میں ظہر کی نماز پڑھ لی، تو اس کے لیے ایسا کرنا مکروہ ہے۔
مذکورہ بالا عبارت کے الفاظ ”كره له ذلك“ کےتحت فتح القدیر میں ہے "لا بد من كون المراد حرم عليه ذلك۔ ۔ ۔؛ لأنه ترك الفرض القطعي باتفاقهم الذي هو آكد من الظهر فكيف لا يكون مرتكبا محرما، غير أن الظهر تقع صحيحة و إن كان مأمورا بالإعراض عنها" ترجمہ: (مکروہ کہنے سے) یہ مراد لینا ضروری ہے کہ اس پر ایسا کرنا حرام ہے؛ کیونکہ اس نے اُس فرضِ قطعی کو چھوڑا ہے، جو بالاتفاق ظہر سے زیادہ مؤکد ہے، تو کیسے یہ حرام کا مرتکب نہیں ہوگا؟! یہ الگ بات ہے کہ اس کی ظہر صحیح ہو جائے گی اگرچہ اسے حکم یہ تھا کہ ظہر نہ پڑھے۔ (فتح القدیرعلی الھدایۃ، جلد 2، صفحہ 60، 61، مطبوعہ: کوئٹہ)
درمختار میں ہے (كره) تحريما (لمعذور و مسجون) و مسافر (أداء ظهر بجماعة في مصر) ۔ ۔ ۔ ۔ (و كذا أهل مصر فاتتهم الجمعة) فإنهم يصلون الظهر بغير أذان و لا إقامة و لا جماعة" ترجمہ: معذور، قیدی اور مسافر، اسی طرح وہ شہری کہ جن کا جمعہ نکل گیا، ان کےلیے شہر میں (جمعہ کے وقت) باجماعت ظہر ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے؛ لہذاوہ اذان، اقامت اور جماعت کے بغیر ظہر پڑھیں گے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 36، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہار شریعت میں لکھتے ہیں: جس پر جمعہ فرض ہے اسے شہر میں جمعہ ہو جانے سے پہلے ظہر پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، بلکہ امام ابن ہمام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حرام ہے اور پڑھ لیا جب بھی جمعہ کے ليے جانا فرض ہے اور جمعہ ہو جانے کے بعد ظہر پڑھنے میں کراہت نہیں بلکہ اب تو ظہر ہی پڑھنافرض ہے اگر جمعہ دوسری جگہ نہ مل سکے مگر جمعہ ترک کرنے کا گناہ اس کے سر رہا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 773، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مزید فرماتے ہیں: مریض یا مسافر یا قیدی یا کوئی اور جس پر جمعہ فرض نہیں ان لوگوں کو بھی جمعہ کے دن شہر میں جماعت کے ساتھ ظہر پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، خواہ جمعہ ہونے سے پیشتر جماعت کریں یا بعد میں۔ یوہیں جنھیں جمعہ نہ ملا وہ بھی بغیر اذان و اقامت ظہر کی نماز تنہا تنہا پڑھیں، جماعت ان کے لیے بھی ممنوع ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، ص 774، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5251
تاریخ اجراء: 22 صفر المظفر 1448ھ / 06 اگست 2026ء