logo logo
AI Search

چادر یا جیکٹ پر سجدہ ہو جائے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

چادر یا جیکٹ وغیرہ پر سجدہ کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل سردیوں کا موسم ہے، بہت سارے لوگ جرسی، جیکٹیں اور موٹی چادریں استعمال کر رہے ہیں، بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب وہ نماز پڑھنے مسجد میں آتے ہیں، تو وہ اپنی جیکٹ یا موٹی چادر اتار کر سامنے سجدہ کی جگہ رکھ دیتے ہیں اور اسی پر سجدہ کرتے ہیں۔ پوچھنا یہ تھا کہ کیا اس طرح کرنے سے سجدہ صحیح طور پر ادا ہو جاتا ہے؟ نیز نماز پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب

سجدہ نماز کے فرائض میں سے ایک اہم فرض ہے، قوانینِ شرعیہ کے مطابق سجدہ کی ادائیگی کے لیے  لازم و ضرور ی ہے کہ سجدہ اس انداز سے ہو کہ پیشانی اور ناک زمین پر اس طرح جم جائیں کہ زمین کی سختی محسوس ہو اور مزید دبانے سے نہ دبے، ورنہ سجدہ صحیح طور پر ادا نہیں ہوگا، جس کے نتیجے میں نماز بھی نہیں ہوگی، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر کسی نے موٹی چادر یا کوئی جرسی، جیکٹ وغیرہ سجدہ کی جگہ رکھی اور دورانِ نماز اسی پر سجدہ کیا اور سجدہ میں ناک اور پیشانی زمین پر خوب جم گئی کہ اب مزید دبانے سے نہیں دبے گی، تو سجدہ صحیح ادا ہوجائے گا، لیکن چادر کی گٹھڑی یا بھاری قسم کے کوٹ پر سجدہ کرنے میں بہت احتیاط اور زور لگانے کی حاجت ہوتی ہے، تو ایسی صورت میں ممکن ہے کہ پیشانی نہ جمنے کی صورت میں سجدہ ہی نہ ہو یا ناک کی سخت ہڈی نہ جمنے کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہو یا تعظیم و خشوع کے خلاف ہو نے کی وجہ سے مکروہ تنزیہی ہوجائے، تو اس طریقے سے بچنے میں عافیت ہے۔

کسی چیز پر سجدہ کرنے سے سجدہ کب صحیح طور پر ادا ہوگا اور کب نہیں؟ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے علامہ ابو المَعَالی بخاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 616ھ/1219ء) لکھتے ہیں:

”إذا سجد على أرض الثلج إن لبد جاز؛ لأنه بمنزلة الأرض، وإذا لم يلبد وكان تغيّب وجهه فيه، فلا يجد حجمه لم يجز؛ لأنه بمنزلة الساجد على الهواء، وعلى هذا إذا لقي في المسجد حشيش كثير، فسجد عليه إن وجد حجمه يجوز وإلا فلا وإذا صلى على التبن أو القطن المحلوج، وسجد عليه إن استقر جبهته وأنفه على ذلك ووجد الحجم يجوز وإن لم تستقر جبهته لا يجوز؛ لأن في الوجه الأول هو في معنى الأرض، وفي الوجه الثاني لا “

ترجمہ: جب کسی نے برف والی زمین پر سجدہ کیا، تو اگر وہ برف جمی ہوئی ہو، تو جائز ہے، کیونکہ یہ زمین کی مثل ہے۔ اور اگر جمی ہوئی نہ ہو اور اس کا چہرہ اس میں غائب ہوجائے، تو اس نے زمین کی سختی کو نہ پایا، تو یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ اب وہ ہوا میں سجدہ کرنے والے کی مثل ہوگا۔ اور اسی پر یہ مسئلہ متفرع ہے کہ جب مسجد میں کثیر گھاس بچھا دی گئی ہو، تو اس پر کسی نے سجدہ کیا، تو اگر وہ زمین کی سختی کو پائے تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ اور جب کسی نے بھوسے یا دھنی ہوئی روئی پر نماز پڑھی اور اس پر سجدہ کیا، تو اگر پیشانی اور ناک اس پر  جم گئی اور اس نے زمین کی سختی پائی، تو نماز ہوجائے گی، اور اگر پیشانی نہ جمی تو جائز نہیں، کیونکہ پہلی صورت میں وہ زمین کے حکم میں ہے اور دوسری صورت میں زمین کے حکم میں نہیں۔ (المحیط البرھانی، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ   365، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

اسی طرح ’’در مختار مع ردالمحتار‘‘ میں ہے:

”(وأن يجد حجم الأرض والناس عنه غافلون) أي عن اشتراط وجود الحجم في السجود على نحو الكور والطراحة“

ترجمہ: اور یہ کہ نمازی (سجدہ میں) زمین کی سختی پائے، اور لوگ اس سے غافل ہیں، یعنی لوگ عمامے کے پیچ اور گدے  پر سجدہ کرنے میں زمین کی سختی کے پائے جانے کی شرط سے غافل ہیں۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 1، صفحہ 501، دارالفکر، بیروت)

زمین کی سختی محسوس ہونے کی صورت میں اگر چہ سجدہ صحیح ادا ہوجائے گا، لیکن بلا وجہ اس طرح کی کسی چیز پر سجدہ کرنا، مکروہ تنزیہی ہے، چنانچہ علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ/1562ء) لکھتے ہیں:

”قال الحسن كان القوم يسجدون على العمامة والقلنسوة فدل ذلك على الصحة، ‌وإنما ‌كره ‌لما ‌فيه ‌من ‌ترك ‌نهاية ‌التعظيم، وما في التجنيس من التعليل بترك التعظيم راجع إليه وإلا فترك التعظيم أصلا مبطل للصلاة،۔۔۔وظاهر أن الكراهة تنزيهية لنقل فعله - صلى اللہ عليه وسلم - وأصحابه من السجود على العمامة تعليما للجواز فلم تكن تحريمية، وقد أخرج أبو داود عن صالح بن حيوان أن «رسول اللہ - صلى اللہ عليه وسلم - رأى رجلا يسجد، وقد اعتم على جبهته فحسر عن جبهته» إرشادا لما هو الأفضل والأكمل ولا يخفى أن محل الكراهة عند عدم العذر أما معه فلا “

ترجمہ: امام حسن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لوگ عمامے اور ٹوپی پر سجدہ کیا کرتے تھے، پس یہ(عمامے اور ٹوپی پر سجدے کے) صحیح ہونے کی دلیل ہے، البتہ نہایتِ تعظیم کے ترک ہونے کی وجہ سے یہ مکروہ ہے، اور جو ’’تجنیس‘‘ میں ترکِ تعظیم سےاس کی تعلیل بیان کی گئی ہے، اس سے یہی (نہایتِ تعظیم) مراد ہے، ورنہ اصلا حی تعظیم کا ترک کرنا تو نماز کو باطل کر دیتا ہے، اور اس کا ظاہر یہ ہے کہ یہ مکروہ تنزیہی ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام علیھم الرضوان کے بیانِ جواز کے لیے عمامے پر سجدہ کرنےکے منقول ہونے کی وجہ سے، لہذا یہ مکروہ تحریمی نہیں ہے، اور امام ابو داؤد نے صالح بن حیوان سے نقل کیا کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سجدہ کرتے دیکھا، اس نے اپنی پیشانی پر عمامہ باندھا ہوا تھا تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشانی سے عمامہ ہٹا دیا‘‘ یہ افضل و اکمل عمل کی طرف رہنمائی کے لیے تھا، اور یہ مخفی نہیں کہ محل کراہت عذر نہ ہونےکی صورت میں ہے، البتہ اگر عذر ہو تو کراہت بھی نہیں۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد  01، صفحہ  337، دار الکتب الاسلامی، بیروت)

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ’’کسی نرم چیز۔مثلاً: گھاس، روئی، قالین وغیرہا پر سجدہ کیا، تو اگر پیشانی جم گئی یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے، تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ بعض جگہ جاڑوں میں مسجد میں پیال بچھاتے ہیں، ان لوگوں کو سجدہ کرنے میں اس کا لحاظ بہت ضروری ہے کہ اگر پیشانی خوب نہ دبی، تو نماز ہی نہ ہوئی اور ناک ہڈی تک نہ دبی، تو مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی، کمانی دار گدّے پر سجدہ میں پیشانی خوب نہیں دبتی، لہٰذا نماز نہ ہوگی، ریل کے بعض درجوں میں بعض گاڑیوں میں اسی قسم کے گدّے ہوتے ہیں، اس گدّے سے اتر کر نماز پڑھنی چاہیے۔‘‘ (بھارشریعت، جلد 01، حصہ 03، ص 514، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0200
تاریخ اجراء: 29 رجب المرجب 1447 ھ/19 جنوری 2026 ء