امام دوسری رکعت پر سلام پھیر دے تو نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
امام کا دوسری رکعت پر بھولے سے سلام پھیرنے کے بعد لقمے سے نماز مکمل کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں امام کا ایسا کرنا درست تھا، اور اس کی وجہ سے نمازمیں کوئی خلل نہیں آیا، جس کی تفصیل یہ ہے کہ
اگر نمازی کو یہ گمان ہو کہ اس نے نماز مکمل کرلی ہے، اور اس نے اس گمان پر چار رکعت پوری ہونے سے پہلے سلام پھیر دیا، تو اس کے لیے حکم یہ ہوتا ہے کہ اگر اس نے نماز کے منافی کوئی عمل نہیں کیا، تو وہ بقیہ رکعتیں ادا کرکے آخر میں سجدہ سہو کے ساتھ نماز مکمل کرلے، اور پوچھی گئی صورت میں بھی جب بھول کر دو رکعت پر ایک طرف سلام پھیرا تھا، تو ابھی تک امام نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا، جو نماز کے منافی ہو، لہذا وہیں سے اٹھ کربقیہ رکعتیں مکمل کر کے، آخرمیں سجدہ سہو کرلینا کافی تھا، اور امام نے ایسا کیا بھی ہے، تو امام کا ایسا کرنا بالکل درست تھا، اور اس کی وجہ سے نماز میں کوئی خلل نہیں آیا۔
نیز ایسی صورت میں جب امام چار رکعت والی نماز میں دوسری رکعت کے قعدہ کو لمبا کردے، جس سے یہ گمان ہو کہ امام بھول کر اسے آخری رکعت سمجھ رہا ہے، تو اس مقام پر حکم شرعی یہ ہوتا ہے کہ مقتدی لقمہ نہ دے، کیونکہ ممکن ہے کہ امام نے اسے آخری رکعت نہ سمجھا ہو، بلکہ دوسری سمجھ کر ہی التحیات پڑھ رہا ہو، لیکن اس بار التحیات کو آہستہ آہستہ ترتیل سے پڑھ رہا ہو، اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ واقعی اس نے اس دوسری رکعت کو آخری سمجھا ہو، تو ایسی صورت میں چونکہ کثیر تاخیر کی وجہ سے ترک واجب اور سجدہ سہو لازم ہوچکا ہوگا، لہٰذا ان دونوں صورتوں میں لقمہ بلا ضرورت ہونے کی وجہ سے، لقمہ نہ دینے کا حکم ہوتا ہے، اور سوال میں مذکور صورت میں سلام پھیرنے سے پہلے چونکہ مقتدیوں نے لقمہ نہیں دیا تھا، جیسا کہ واضح ہورہا ہے، لہٰذا مقتدیوں نے درست عمل کیا کہ امام کے سلام پھیرنے سے پہلے لقمہ نہیں دیا۔
پھر جب امام نے ایک طرف سلام پھیرا، تو اب حاجت اور ضرورت ثابت ہوئی ،کہ اب نہ بتانے سے خلل وفساد نماز ہوسکتا تھا، کہ امام نے نماز مکمل سمجھ کر سلام پھیرا ہے، ممکن ہے کہ امام سے منافی نماز کوئی کام مثلاً کلام وغیرہ واقع ہو اور نماز فاسد ہوجائے، لہٰذا اس مقام پر مقتدیوں کو لقمہ دینے کا حکم ہوتا ہے، اور سوال میں مذکور صورت میں مقتدی نے امام کے سلام پھیرنے پر بالکل برمحل لقمہ دیا، اور درست عمل کیا، جس کی وجہ سے نمازمیں کوئی خلل نہیں آیا۔
نور الايضاح مع مراقی الفلاح ميں ہے (لوتوھم مصل رباعية) فريضة (أو ثلاثية) و لو وترا (أنه أتمها فسلم ثم علم) قبل إتيانه بمناف (أنه صلى ركعتين أتمها و سجد للسهو) لبقاء حرمة الصلاة‘‘ ترجمہ: چار رکعت فرض نماز ،یا تین رکعت نماز پڑھنے والے نے اگرچہ وہ وتر ہو، اگر یہ گمان کیا کہ اس نے نماز پوری کرلی اور سلام پھیردیا پھر نماز کے خلاف کوئی عمل کرنے سے پہلے اسے یاد آگیا کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے حکم ہے کہ وہ بقیہ نمازپوری کرے اور سجدہ سہو کرے کیونکہ (منافی نماز کوئی کام نہ کرنے کی وجہ سے) نماز کی تحریمہ باقی ہے (لہذا اسی پر بنا کرنا درست ہے)۔ ( نور الایضاح مع مراقی الفلاح، صفحہ 247، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے ظہر کی نماز پڑھتا تھا اور یہ خیال کر کے کہ چار پوری ہو گئیں دو رکعت پر سلام پھیر دیا، تو چار پوری کر لے اور سجدۂ سہو کرے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 718، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوی رضویہ میں ہے جب امام کوقعدہ اولیٰ میں دیرہوئی اور مقتدی نے اس گمان سے کہ یہ قعدہ اخیرہ سمجھا ہے، تنبیہ کی تودو حال سے خالی نہیں، یا تو واقع میں اس کا گمان غلط ہوگا، یعنی امام قعدہ اولیٰ ہی سمجھا ہے اور دیر اس وجہ سے ہوئی کہ اس نے اس بار التحیات زیادہ ترتیل سے ادا کی، جب تو ظاہر ہے کہ مقتدی کابتانا نہ صرف بے ضرورت، بلکہ محض غلط واقع ہوا، تو یقینا کلام ٹھہرا اور مفسد نماز ہوا ۔ ۔ ۔ یا اس کا گمان صحیح تھا، غورکیجئے تو اس صورت میں بھی اس بتانے کامحض لغو و بے حاجت واقع ہونا اور اصلاح نماز سے اصلاً تعلق نہ رکھنا ثابت کہ جب امام قدہ اولیٰ میں اتنی تاخیر کرچکا، جس سے مقتدی اس کے سہو پر مطلع ہوا، تو لاجرم یہ تاخیر بقدرکثیر ہوئی اور جوکچھ ہونا تھا، یعنی ترک واجب ولزوم سجدہ سہو وہ ہوچکا، اب اس کے بتانے سے مرتفع نہیں ہو سکتا اور اس سے زیادہ کسی دوسرے خلل کا اندیشہ نہیں، جس سے بچنے کو یہ فعل کیاجائے کہ غایت درجہ وہ بھول کر سلام پھیردے گا، پھر اس سے نماز تو نہیں جاتی،وہی سہو کا سہو رہے گا، ہاں جس وقت سلام شروع کرتا، اس وقت حاجت متحقق ہوتی اور مقتدی کو بتانا چاہئے تھا کہ اب نہ بتانے میں خلل وفساد نماز کا اندیشہ ہے کہ یہ تو اپنے گمان میں نماز تمام کرچکا، عجب نہیں کہ کلام وغیرہ کوئی قاطع نماز اس سے واقع ہوجائے، اس سے پہلے نہ خلل واقع کا ازالہ تھا،نہ خلل آئندہ کا اندیشہ، تو سوا فضول وبے فائدہ کے کیا باقی رہا، لہٰذا مقتضائے نظر فقہی پر اس صورت میں بھی فساد نماز ہے، نظیر اس کی یہ ہے کہ جب امام قعدہ اولیٰ چھوڑ کر پورا کھڑا ہوجائے، تو اب مقتدی بیٹھنے کا اشارہ نہ کرے، ورنہ ہمارے امام کے مذہب پر مقتدی کی نماز جاتی رہے گی کہ پوراکھڑے ہونے کے بعد امام کوقعدہ اولیٰ کی طرف عود ناجائز تھا، تو اس کا بتانا محض بے فائدہ رہا اور اپنے اصلی حکم کی رو سے کلام ٹھہر کر مفسد نماز ہوا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 07، صفحہ 264، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5192
تاریخ اجراء: 29 محرم الحرام 1448ھ / 15 جولائی 2026ء