ظہر کا وقت کب تک رہتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز ظہر کا وقت کب تک رہتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ نمازِ ظہر کا وقت کب تک رہتا ہے؟ اکثر یہ سنتے ہیں کہ شام 4 بجے کے بعد ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرما دیجیے کہ ظہر کی نماز کا وقت اصل میں کب تک رہتا ہے؟
جواب
احناف کے نزدیک ظہر کا وقت سورج کے ڈھلنے سے لے کر اس وقت تک رہتا ہے، جب ہر چیز کا سایہ، اصلی سائے کے علاوہ، دو مثل ہو جائے۔ اور یہ وقت گرمی سردی، اور جگہ کے اعتبار سے گھٹتا بڑھتا رہتا ہے، لہذا یہ کہنا درست نہیں کہ (بہر صورت) شام چار بجے کے بعد ظہر کا وقت ختم ہوتا ہے۔
نوٹ:
ظہر بلکہ اس کے علاوہ دیگر نمازوں کے درست اوقات جاننے کے لیے دعوت اسلامی کی (Prayer Times) ایپ Play Store سے ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے علاقے کی لوکیش سیٹ کر لیں۔ ان شاء اللہ آپ کو تمام نمازوں کے آغاز و اختتام کی درست معلومات مل جائیں گی۔
تنویر الابصار میں ہے "ووقت الظهر من زواله إلى بلوغ الظل مثليه" ترجمہ: ظہر کا وقت زوال آفتاب سےلے کر سائےکے دو مثل ہونے تک ہے۔ (تنویر الابصار ودر مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 19، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے "حضرت سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک جب تک سایہ ظل اصلی کے علاوہ دو مثل نہ ہوجائے وقتِ عصر نہیں آتا ۔۔۔ قولِ امام ہی احوط و اصح اور ازروئے دلیل ارجح ہے۔ عموماً متون مذہب قولِ امام پر جزم کیے ہیں اور عامہ اجلہ شارحین نے اُسے مرضی و مختار رکھا اور اکابر ائمہ ترجیح و افتا بلکہ جمہور پیشوایانِ مذہب نے اسی کی تصحیح کی۔" (فتاوی رضویہ، جلد 05، صفحہ 132، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے ”وقت ظہر و جمعہ: آفتاب ڈھلنے سے اس وقت تک ہے، کہ ہر چیز کا سایہ علاوہ سایہ اصلی کے دو چند ہو جائے۔ “ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 03، صفحہ 449، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5195
تاریخ اجراء: 01 صفر المظفر 1448ھ/16 جولائی 2026ء