عذر کی وجہ سے قعدہ میں مختلف انداز سے بیٹھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
عذر کی وجہ سے نماز کے قعدے میں پاؤں اور گھٹنوں کے بل بیٹھنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
کسی عذر کے سبب اگر کوئی شخص قعدہ یا جلسہ میں مسنون طریقے کے مطابق نہیں بیٹھتا، بلکہ قدموں اور گھٹنوں کے سہارے سرین اٹھا کر بیٹھتا ہے اور وہ اِسی طرح بیٹھنے میں آسانی محسوس کرتا ہے، تو اُسے حکم ہے کہ وہ اِسی طرح بیٹھے۔ اُس کے لیے یہی قعدہ اور جلسہ ہے۔
علامہ طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1231ھ / 1815ء) نے لکھا: صلی قاعدا کیف شاء ای متربعا او محتبیا او کالمتشھد۔ترجمہ: بیٹھ کر جیسے چاہے نماز پڑھے، یعنی پالتی مار کر یا گھٹنے کھڑے کر کے یا تشہد میں بیٹھنے والے کی طرح دو زانو ہو کر۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر، جلد 1، باب صلاۃ المریض، صفحہ 318، مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: أي كيف تيسر له بغير ضرر من تربع أو غيره۔ ترجمہ: یعنی اُس کے لیے بغیر تکلیف کے جیسے بھی آسانی ہو، اُسی طرح بیٹھے، مثلاً پالتی مار کر یا کسی بھی اور طریقے سے۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 04، باب صلاۃ المریض، صفحہ 532، مطبوعہ دار الثقافۃ والتراث، دمشق)
جب عذر کے سبب ارکان ساقط ہو سکتے ہیں، تو ہیئتِ مخصوصہ کا ساقط ہونا بدرجہ اولی ہے، چنانچہ در مختار میں ہے: أن المرض أسقط عنه الأركان فالهيئات أولى۔ ترجمہ: بے شک مرض نے اُس سے ارکان کو ساقط کر دیا، تو ہیئت بدرجہ اولی ساقط ہو جائے گی۔ (درمختار مع رد المحتار، جلد 04، باب صلاۃ المریض، صفحہ 532، مطبوعہ دار الثقافۃ والتراث، دمشق)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9997
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء