logo logo
AI Search

شور والی جگہ نماز پڑھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

شور و غل والی جگہ نماز پڑھنا جبکہ اور جگہ نہ مل رہی ہو

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

جہاں بہت زیادہ شور ہورہا ہے، وہاں نماز پڑھنا شرعاً مکروہ و ناپسندہ ہے، لہٰذا یا تو ایسی جگہ نماز پڑھیں جہاں شور کی وجہ سے خوش و خضوع میں خلل نہ آئے یاپھر کچھ ٹائم کے لئے گھر والوں کو چپ کروایا جائے، البتہ اگر شور میں ہی نماز پڑھ لی تو ادا ہوجائے گی، دوہرانے کی حاجت نہیں۔

سراج الدین علامہ ابن نجیم مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: و ما عن ابن عباس (نهينا أن نصلی إلى النيام والمتحدثين) فمحمول فی الأول على ما إذا خاف ظهور ما يضحكه من النائم أو يخجله إذا انتبه، و فی الثانی ما إذا رفعوا أصواتهم وخشی المصلی أن يزل فی القراءة أو شغل البال“ ترجمہ: اور جو حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ ہمیں سونے اور گفتگو کرنے والوں کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے تو سونے والوں کی جانب رُخ کرنے سے ممانعت اِس وجہ سے ہے کہ سونے والے سے کسی ایسی آواز (مثلاً خراٹے) آنے کا اندیشہ ہو، جو اِسے ہنسا دے یا جب وہ اٹھے تو اِس نمازی کے سبب شرمندگی اٹھائے اور دوسری صورت میں ممانعت یوں ہے کہ جب گفتگو کرنے والے اپنی آواز بلند کریں اور نمازی کو خدشہ ہو کہ وہ قراءت بھول جائے گا یا اُس کا دل باتوں میں متوجہ ہوگا۔ (نہر الفائق، جلد 01، صفحہ 286، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

در مختار میں ہے: تکرہ فی اماکن۔ ۔ ۔ زاد فی الكافی: و مرابط دواب و إصطبل و طاحون“ ترجمہ: چند جگہوں پر نماز پڑھنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔ الکافی میں مزید مقامات یہ ہیں: جانوروں کے باڑے، اصطبل اور جہاں چکی لگی ہو، وہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 02، صفحہ 557. 562، مطبوعہ دار الثقافۃ والتراث، دمشق)

اس کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لعل وجهه شغل البال بصوتها تأمل“ ترجمہ: چکی کی صورت میں وجہِ کراہت یہ ہے کہ شاید چکی کی آواز سے اس کا دل قراءت سے ہٹ کر اِدھر اُدھر متوجہ ہو۔ اس مسئلہ پر خوب غوروفکر کرو۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 02، صفحہ 562، مطبوعہ دار الثقافۃ و التراث، دمشق)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2542
تاریخ اجراء: 11 ربیع الآخر 1446ھ /15 اکتوبر 2024ء