نماز میں Meta Glasses سے دیکھ کر قرآن پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز میں Meta Glasses کے ذریعے دیکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ سننے میں آ رہا ہے کہ آنے والے رمضان میںMeta Glasses پہن کر تراویح میں بغیر غلطی کے قرآن سنانا ممکن ہوگا، اگر ایسا ہوا، تو اس طرح نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنے کا کیا حکم ہوگا؟
جواب
نماز میں Meta Glasses پہن کر اس میں قرآنِ پاک دیکھ کر تلاوت کرنے سے نماز فاسد ہو جائے گی، کیونکہ احناف کے نزدیک خواہ نمازِ تراویح ہو یا کوئی اور، بہرصورت نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر تلاوت کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ نماز فاسد ہونے کی وجہ فقہائے کرام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ نمازی جب قرآنِ پاک میں دیکھ کر تلاوت کرے گا، تو گویا وہ قرآنِ پاک سے سیکھ کر تلاوت کرے گا، اور نماز میں غیر سے سیکھنے کا عمل نماز کو فاسد کر دیتا ہے۔ یہی علت نماز میں Meta Glasses پہن کر اس میں قرآنِ پاک دیکھ کر سنانے میں بھی پائی جاتی ہے۔ لہٰذا Meta Glasses پہن کر، تراویح میں قرآنِ پاک دیکھ کر سنانے سے تراویح کی نماز نہیں ہوگی۔
در مختارمیں ہے ”(وقراتہ من مصحف) ای: مافیہ قرآن (مطلقا) لانہ تعلم“ ترجمہ: مصحف یعنی جس میں قرآن لکھا ہے، اس سے دیکھ کر تلاوت کرنا مطلقا مفسد نماز ہے، کیونکہ یہ سیکھنا ہے۔
"لانہ تعلم" کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمۃ رد المحتار میں فرماتے ہیں: ”ذکروا لابی حنیفۃ فی علۃ الفساد وجھین، احدھما ان حمل المصحف والنظر فیہ وتقلیب الاوراق عمل کثیر، والثانی انہ تلقن من المصحف فصار کما اذا تلقن من غیرہ، وعلی الثانی لا فرق بین الموضوع والمحمول عندہ وعلی الاول یفترقان، وصحح الثانی فی الکافی تبعا للسرخسی“ ترجمہ: علمائے کرام نے نماز فاسد ہونے کے متعلق امام اعظم علیہ الرحمۃ کے مؤقف میں دو علتوں کو ذکر فرمایا ہے، ان میں سے ایک یہ کہ قرآن پاک اٹھانا، اس میں دیکھنا، اس کےا وررق پلٹنا عمل کثیر ہے، اور دوسری علت یہ ہے کہ یہ قرآن پاک سے سیکھنا ہے، لہذا یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی اور سے سیکھے، دوسری علت کی بنا پر سامنے رکھے ہوئے اور اٹھائے ہوئے قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہو گا اور پہلی علت میں فرق واقع ہو گا، دوسری علت کو کافی میں امام سرخسی کی اتباع کرتے ہوئے صحیح قرار دیا ہے ۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، ج 2، ص 463، 464، مطبوعہ:کوئٹہ)
فتاوٰی امجدیہ میں ہے ”اگرچہ مصحف شریف کی طرف نظر کرنا عبادت ہے مگر اس میں دیکھ کر پڑھنا خارج سے تعلم ہے اور یہ منافی نماز جیسے زبان سے حالت نماز میں امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کرنے سے نماز فاسد ہو جائے گی، اگرچہ یہ دونوں عبادت ہیں مگر چونکہ منافی نماز ہیں لہذا نماز فاسد۔ “ (فتاوی امجدیہ، ج 1، حصہ 1، ص 185، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5188
تاریخ اجراء: 24 محرم الحرام 1448ھ/10 جولائی 2026ء