دارالافتاء اہلسنت)دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ محلہ کی مسجد میں دوسری جماعت کے لیے اقامت کہی جائے گی یا نہیں؟ رہنمائی فرمادیں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
ہر عاقل، بالغ مسلمان پر مسجد کی جماعت اُولیٰ کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے، بغیر عذر شرعی جماعت کو چھوڑ دینا نا جائز و گناہ ہے، احادیث میں جماعت چھوڑنے کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے، ہاں !اگر کچھ لوگ کسی عذرِ شرعی کی بنا ء پر جماعت سے رہ جائیں اور ان میں کوئی امامت کے لائق شخص موجود ہو، تو محراب سے ہٹ کر اپنی نماز باجماعت ادا کرسکتے ہیں، مگر اذان کا اعادہ کیے بغیر کہ دوسری جماعت کے لیے اذان کا اعادہ جائز نہیں ہے، البتہ دوسری جماعت کے لیے اقامت کہنے میں کوئی حرج نہیں، شرعاً جائز ہے۔
نوٹ: شرعی رخصت کےعلاوہ، محض سستی کی وجہ سے جماعت ثانی کی امید پر جماعت اولی کو بلاوجہ شرعی چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔
جماعت کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ تعا لی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
”من سمع النداء و لم یاتہ فلا صلوة لہ الا من عذر“
ترجمہ: جس نے اذا ن سنی اور نماز کے لئے حا ضر نہ ہو، تواس کی نماز ہی نہیں مگریہ کہ کوئی عذر ہو۔ (سنن ابن ماجہ، جلد1، حدیث793، صفحہ 260، مطبوعہ دار إحياء الكتب العربية)
اسی طرح کی حدیث مبارک کی شرح بیان کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”جہاں تک اذان کی آواز پہنچے، وہاں تک کے لوگوں کو مسجد میں آنا بہت ضروری ہے۔ (مرأۃالمناجیح، جلد2، صفحہ153، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
ہرعاقل، بالغ مسلمان پر مسجد کی جماعت اُولیٰ کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے اور بلاعذر شرعی جماعت کا ترک گناہ ہے، جیسا كہ بدائع الصنائع، درر الحكام شرح غرر الاحكام اور فتاوی عالمگیری میں ہے:
والنظم للآخر: ’’تجب علی الرجال العقلاء البالغین الأحرار القادرین علی الصلاۃ بالجماعۃ من غیر حرج‘‘
ترجمہ: جماعت عاقل بالغ آزاد مرد جو بغیر حرج کے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے پر قادر ہوں، واجب ہے۔ (الفتاوی الھندیہ، کتاب الصلاۃ، جلد01، صفحہ82، مطبوعہ دار الفكر، بيروت)
امامِ اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”پانچوں وقت کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ واجب ہے ایک وقت کا بھی بلاعذر ترک گناہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 07، صفحہ 194، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
دوسری جماعت کو اذان کا اعادہ کیے بغیر محراب سے ہٹ کر ادا کیا جائے گا، جیسا کہ امامِ اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اس بارے میں عین تحقیق و حق وثیق و حاصلِ انیق و نظرِ دقیق و اثرِ توفیق یہ ہے کہ اس صورت میں تکرارِ جماعت باعادۂ اذان ہمارے نزدیک ممنوع و بدعت ہے، یہی ہمارے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہبِ مہذب و ظاہر الروایہ ہے، جس کا حاصل عند التحقیق کراہت اذانِ جدید کی طرف راجع نہ نفسِ جماعت کی طرف اور اگر بغیر اس کے تکرارِ جماعت کریں، تو قطعاً جائز و روا ہے اسی پر ہمارے علماء کا اجماع ہوا ہے۔ پھر یہ جواز مطلقاً محض و خالص ہے یا کہیں کراہت سے بھی مجامع اس میں صحیح یہ ہے کہ اگر محراب میں جماعتِ ثانیہ کریں، تو مکروہ اور محراب سے ہٹ کر تو اصلاً کراہت نہیں، خالص مباح و ماذون فیہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ ملتقطاً، جلد7، صفحہ 125 تا 128، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ” مسجدِ محلہ میں جس کے ليے امام مقرر ہو، امام محلہ نے اذان و اقامت کے ساتھ بطریق مسنون جماعت پڑھ لی ہو تو اذان و اقامت کے ساتھ ہيات اُولی (پہلی ہيئت) پر دوبارہ جماعت قائم کرنا مکروہ ہے اور اگر بے اذان جماعتِ ثانیہ ہوئی، تو حرج نہیں جب کہ محراب سے ہٹ کر ہو۔ ہيات بدلنے کے ليے امام کا محراب سے دہنے یا بائیں ہٹ کر کھڑا ہونا کافی ہے۔“ (بہارشریعت، جلد01، صفحہ583، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
دوسری جماعت کے لیے اقامت کہنے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ فتاوی رضویہ میں سوال ہواکہ ”جماعت ثانیہ میں اقامت کہی جائے یانہیں اور جماعت ثانیہ میں امام کو زور سے جہری نماز میں قرأت کرنی چاہئے یا جماعت اولٰی کے لوگ جو سنتیں پڑھ رہے ہوں ان کے خیال سے برائے نام آواز سے پڑھے تاکہ دوسروں کی نماز میں ذہن نہ منتقل ہو؟“ اس کے جواب میں امامِ اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”جماعت ثانیہ کے لئے اعادہ اذان ناجائز ہے تکبیر میں حرج نہیں اور اس کا امام نماز ِجہری میں بقدر حاجت جماعت جہر کرے گا اگرچہ اور لوگ سنتیں پڑھتے ہوں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 07، صفحہ 194، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
ایک اور جگہ پر لکھتے ہیں: ”مسجدِ محلّہ میں جماعت ثانیہ کے لئے اعادہ اذان منع ہے تکبیر میں حرج نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد05، صفحہ 157، رضافاؤنڈیشن لاہور)
شرعی رخصت کے بغیرجماعت ثانی کی امید پر جماعت اولی کو بلاوجہ شرعی چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے، جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے:
’’اقول لسنانبیح تعمد ترک الجماعۃ الأولی اتکالا علی الاخری فمن سمع منادی ﷲ ینادی ولم یجب بلاعذر اثم وعزر
اقول (میں کہتاہوں) ہم جماعت اُولیٰ کے عمداً ترک کو دوسری جماعت پر بھروسا کی بناء پر مباح نہیں رکھتے اور جس شخص نے بھی ﷲ تعالٰی کی طرف سے بلاوا سنا اور اس نے اسے قبول نہ کیا وہ گنہگار ہوگا اور وہ قابل تعزیر ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 162، رضا فاؤنڈیشن لاھور )
فتاوی فیض الرسول میں ہے: ”یہ جماعتِ ثانیہ کا جواز صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو کبھی کسی عذر کے سبب جماعتِ اولیٰ کی حاضری سے محروم رہے نہ یہ کہ جماعتِ ثانیہ کے بھروسے پر بلا عذرِ شرعی قصداً جماعت ترک کرے یہ بلا شبہ ناجائز و گناہ ہے۔“ (فتاوی فیض الرسول، جلد1، صفحہ 357، 358، نشان منزل پبلیکیشنز، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
فتوی نمبر: OKR-0146
تاریخ اجراء: 20جمادی الاول1447ھ/12نومبر 2025 ء