دارالافتاء اہلسنت)دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ زید ایک مسجد کا امام ہے، اس کی عادت ہے کہ جب بھی صلوٰۃ التسبیح پڑھاتا ہے، تو ہمیشہ احتیاطا ًآخر میں سجدہ سہو کرتا ہے اور سجدہ سہو کا وہ پہلے سے بتا دیتا ہےکہ ہم احتیاطاً آخر میں سجدہ سہو کریں گے، خواہ نماز کا کوئی واجب ترک ہو یا نہ ہو، اب پوچھنا یہ ہے کہ زید کا ایسا کرناکیسا ہے؟ زید ہمیشہ سجدہ سہو کا سلام درودِ پاک پڑھنے سے پہلے پھیرتا ہے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
شریعت کی رو سے نماز کے واجباتِ اصلیہ میں سے کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، اذکار و تسبیحات میں کمی بیشی سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا، نیز نماز میں سجدہ سہو واجب نہ ہو توبلا ضرورت سجدہ سہو کرنا نماز میں زیادتی ہے اور شرعاً ممنوع ہے، اور ایسا شخص احتیاطی سجدہ سہو کا سلام پھیرتے ہی نماز سے نکل جائے گا، اسی لیے اگر کسی امام نے احتیاطی سجدہ سہو کیا اور مسبوق مقتدی(جس کی امام کے ساتھ تمام یا بعض رکعتیں رہ جائیں) نے بھی امام کے ساتھ احتیاطی سجدہ سہو کر لیا، تو اس کی نماز فاسدہوجائے گی، نیز جوشخص امام کے احتیاطی سجدہ سہو کرنے کے بعد اس کی اقتدا کرے گا تو اس کی نمازبھی نہیں ہوگی، البتہ امام ومُدرِک مقتدی(جو جماعت میں شروع سے آخر تک شامل رہا) کی نماز ادا ہوجائے گی۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زید کا صلوٰۃ التسبیح کی جماعت میں بغیر کسی سبب کے احتیاطی سجدہ سہو کرنا شرعاًممنوع ہے، البتہ ایسی صورت میں زیداور مُدرِک مقتدیوں کی نماز ادا ہوجائے گی، لیکن اگرکوئی مسبوق مقتدی احتیاطی سجدہ سہو میں زید کی پیروی کرے گا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، نیز زید کے احتیاطی سجدہ سہوکرنے کے بعد اس کی اقتدا کرنے والوں کی نماز بھی نہیں ہوگی۔
یاد رہےکہ اگر کسی امام کی یہ عادت ہو کہ وہ جان بوجھ کرصلوٰۃ التسبیح کی جماعت میں ہمیشہ ہی درودِ پاک پڑھنے سے پہلے بغیر کسی سبب کے احتیاطاً سجدہ سہو کرتا ہے، تو وہ امام اپنے اس عمل کی وجہ سے گناہ گار بھی ہوگا، کیونکہ ایسا امام اگرچہ احتیاطی سجدہ سہو کے بعد درودِپاک پڑھ بھی لے، مگر وہ نماز میں پڑھنا شمار نہیں ہوگا، کیونکہ وہ احتیاطی سجدہ سہو کا سلام پھیرتے ہی نماز سےنکل جائےگا، لہٰذا صلوٰۃ التسبیح کی جماعت میں درودِ پاک نہ پڑھنا اس کی عادت شمار ہوگا، جبکہ قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعددرودِ پاک پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے اور اس کے ترک کی عادت بنا لینا گناہ ہے نیز ایسےامام کےاحتیاطی سجدہ سہو کرنے کی صورت میں اگر کوئی مسبوق مقتدی نماز میں شامل ہوگا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی اور مسبوق مقتدی کی نماز فاسد ہونے کا سبب امام کااحتیاطی سجدہ سہو ہوگا، اوراس کا قصور وار بھی امام ہی ہوگا۔
نماز کے واجبات اصلیہ میں سے کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، چنانچہ علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ/1562ء)لکھتے ہیں:
”سببه ترك واجب من واجبات الصلاة الأصلية سهوا و هو المراد بقوله بترك واجب لا كل واجب“
ترجمہ: سجدہ سہو کا سبب نماز کے واجبات اصلیہ میں سے کسی واجب کا سہواً ترک کرنا ہے، اور صاحب کنز الدقائق کے اس قول "واجب کو ترک کرنے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے" سے یہی مراد ہے، نہ کہ ہر (طرح کا) واجب ترک کرنا۔(بحر الرائق شرح کنزالدقائق، کتاب الصلاة، باب سجود السهو، جلد 2، صفحه 101، دار الكتاب الإسلامي)
نماز میں پڑھی جانے والی تسبیحات میں کمی ہونے کی صورت میں سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا، چنانچہ بحرالرائق شرح كنزالدقائق میں ہے:
”لایجب بترک السنۃ کالثناء والتعوذوالتسمیۃ وتکبیرات الرکوع والسجود وتسبیحاتھا“
ترجمہ: (نماز میں کوئی)سنت ترک کرنے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا، جیسےثناء، تعوذ، تسمیہ، تکبیرات رکوع وسجود، اور ان دونوں کی تسبیحات ترک کرنے سے سجدہ سہولازم نہیں ہوگا۔ (بحرالرائق شرح کنزالدقائق، جلد2، صفحه 106، مطبوعہ دارلکتاب الاسلامی)
نماز میں بغیر سبب کے سجدہ سہو کرنے کے متعلق اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال (جس نماز میں سہو نہ ہوا اور سجدہ سہو کیا تو نماز جائز ہے یا نہیں؟)کے جواب میں لکھتے ہیں: ”بے حاجت سجدہ سہو نماز میں زیادت اور ممنوع ہے، مگر نماز ہوجائے گی۔ ہاں!اگر یہ امام ہے تو جو مقتدی مسبوق تھا یعنی بعض رکعات اس نے نہیں پائی تھیں، وہ اگر اس سجدہ بے حاجت میں اس کا شریک ہوا تو اس کی نماز جاتی رہے گی، لانہ اقتدی فی محل الانفراد (کیونکہ اس نے محلِ انفراد میں اس کی اقتدا کی)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 328، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مسبوق مقتدی احتیاطی سجدہ سہو میں امام کی اتباع کرے گا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی، چنانچہ شمس الآئمہ، امام سَرَخْسِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 483ھ/1090ء) لکھتے ہیں:
”أن المسبوق لو تابع الإمام في سجود السهو تبين أنه لم يكن على الإمام سهو، فصلاة المسبوق فاسدة“
ترجمہ: مسبوق مقتدی نے اگر سجدہ سہو میں امام کی پیروی کی، پھر یہ ظاہر ہوا کہ امام پر سجدہ سہو واجب نہیں تھا تو مسبوق مقتدی کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ (المبسوط للسرخسی، باب سجودالسھو، جلد01، صفحہ 229، مطبوعہ دار المعرفۃبیروت)
احتیاطی سجدہ سہو میں امام کی نماز سجدہ سہو کا سلام پھیرتے ہی ختم ہوجائے گا، چنانچہ امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال (امام بھول کرسجدہ سہو کرلے تو اس صورت میں نماز امام و مقتدین اور بعد سجدہ سہو کے جو مقتدی ملے ان سب کی نماز کیسی ہوگی؟ اور حقیقت میں سہو نہیں تھا۔) کے جواب میں لکھتے ہیں: ”امام و مقتدیانِ سابق کی نماز ہوگئی، جو مقتدی اس سجدہ سہو میں جانے کے بعد ملے ان کی نماز نہیں ہوئی کہ جب واقع میں سہونہ تھا، دہنا سلام کہ امام نے پھیرا ختمِ نماز کا موجب ہوا یہ سجدہ بلا سبب لغو تھا، تو اس سے تحریمہ نماز کی طرف عود نہ ہوا اور مقتدیان ما بعد کو کسی جزء امام میں شرکت امام نہ ملی، لہٰذا ان کی نماز نہ ہوئی ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 185، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوٰی فقیہ ملت میں ایک سوال (نماز میں سجدہ سہو واجب نہ تھا مگر کیا تو کیا حکم ہے؟) کے جواب میں ہے: ”اگر وہ شخص منفرد ہے اور سجدہ سہو واجب نہیں تھا، لیکن کیا تو اس کی نماز ہوگئی، اسی طرح اگر امام نے بلا ضرورت سجدہ سہو کیا تو مُدرک اور امام کی نمازیں ہوجائیں گی، اس لئے کہ جب سہو واجب نہ ہو تو اس کی نیت سے سلام پھیرتے ہی نماز تمام ہو جاتی ہے۔“ (فتاوٰی فقیہ ملت، باب سجود السھو، جلد01، صفحہ 397، مطبوعہ نشان منزل پبلی کیشنزلاہور)
بلاعذرِ شرعی نماز کو توڑنے کے متعلق فتاوٰی عالمگیری میں ہے:’’ان قطع الصلاۃ لا یجوز الا لضرورۃ ‘‘ ترجمہ: بیشک نماز کو توڑنا جائز نہیں مگرضرورت کی وجہ سے۔ (الفتاوی الھندیۃ، باب فیما یفسد الصلاۃ ویکرہ فیھا، جلد1، صفحہ109، دارالفكر بيروت)
بہارِ شریعت میں ہے: ”نماز توڑنا بغیر عذر ہو تو حرام ہے۔“ ( بھارِ شریعت، حصہ 4، صفحہ 697، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ناجائز کام کا سبب بننے والا کام بھی ناجائز ہوتا ہے، چنانچہ الہدایہ، تبیین الحقائق اور فتح القدیر میں ہے:
والنظم للاول ’’الأصل أن سبب الحرام حرام‘‘
ترجمہ: اُصول یہ ہے کہ حرام کام کا سبب بھی حرام ہوتا ہے۔ (الھدایہ، جلد04، صفحہ 374، مطبوعہ دار احیاءالتراث)
جمہور فقہائےکرام کے نزدیک قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد درود ِ پاک پڑھناسنت ہے، چنانچہ فتح القدیر، المبسوط للسرخسی اور فتح باب العنایہ میں ہے:
و اللفظ للآخر: ”(وبعد التشهد) الأخير(يصلي على النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وهي سنة عندنا ويسيء تاركها، وليست بواجبة، وعليه الجمهور)“
ترجمہ: قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنا ہمارے (احناف کے)نزدیک سنت ہے، اس کا تارک اساءت کا مرتکب ہوگا، نماز میں درود پڑھنا واجب نہیں ہےاور یہی جمہور کا مذہب ہے۔ (فتح باب العنایہ، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 267، دار الارقم، بیروت)
فتاویٰ امجدیہ میں ہے: ”نماز میں درود شریف پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 75، مکتبہ رضویہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے: ”سنتیں بعض مؤکدہ ہیں کہ شریعت میں اس پر تاکید آئی، بلاعذر ایک بار بھی ترک کرے، تو مستحق ملامت ہے اور ترک کی عادت کرے تو فاسق، مردود الشہادۃ، مستحق نار ہے۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 662، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
فتوی نمبر: OKR-0143
تاریخ اجراء: 18 جمادی الاولیٰ1447 ھ /10 نومبر 2025 ء