دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ اگر کسی مقتدی کو اقامت اور تکبیر تحریمہ کے درمیان کوئی بات کرنی ہو، مثلا امام صاحب سے عرض کرنا کہ آپ اعلان کر دیں کہ آگے صفوں میں جگہ باقی ہے، پہلے وہ مکمل کر لیں یا چھوٹے بچوں کو خاموش رہنے کی تاکید کرنا کہ دورانِ جماعت شور نہیں کرنا، تو کیا اقامت کے بعد اِس طرح کی گفتگو کرنے کی اجازت ہے؟
سائل: نثار احمد
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اقامت اور تکبیرِ تحریمہ کے درمیان بلاضرورت گفتگو کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے، البتہ اگر کسی دینی معاملے کےلیے بات کرنی ہو، مثلاً امام صاحب کو آگاہ کرنا کہ ”اگلی صفوں میں خلا ہے، اعلان کر دیں کہ پہلے اگلی صفیں مکمل کریں“ یا ”بہت چھوٹے بچوں کو سمجھا کر پچھلی صفوں میں بھیجنا“ یا ”بچوں کو شور شرابا کرنے سے روکنا“ یا ساتھ کھڑے نمازی کو آدابِ نماز سے آگاہ کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے، بلکہ اقامت ہو جانے کے بعد صفیں درست کرنے کا کہنا تو احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔
اقامت اور تکبیرِ تحریمہ کے مابین کلام کرنا نبی اکرمﷺ سے ثابت ہے، چنانچہ ابو عبداللہ امام محمد بن اسماعیل بخاری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 256ھ / 870ء) روایت کرتے ہیں:
أقيمت الصلاة، و النبي صلى اللہ عليه و سلم يناجي رجلا في جانب المسجد۔
ترجمہ:نمازِ عشاء کے لیے تکبیر پڑھی جا چکی اور نبی اکرم ﷺ مسجد کے ایک کونے میں کسی شخص سے سرگوشی فرما رہے تھے۔(صحیح البخاری، جلد 01، صفحہ 130، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)
اس حدیث مبارک کے تحت ”نجاح القاری لصحیح البخاری“ میں ہے:
قال صاحب التلویح فیه جواز الکلام بعد الإقامة وإن کان إبراهیم و الزهری و تبعهما الحنفیة کرهوا ذلک۔۔۔ و أنت خبیر بأنه إنما کره الحنفیة الکلام بین الإقامة والإحرام لغیر الضرورة و أما إذا کان لأمر من أمور الدین فلا یکره۔
ترجمہ:صاحبِ تلویح نے فرمایا: اس میں اقامت کے بعد کلام کرنے کا جواز پایا جاتا ہے، اگرچہ حضرت ابراہیم و زہری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہما اور ان کی پیروی کرنے والے احناف نے اِسے مکروہ قرار دیا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ احناف نے اقامت اور تکبیر تحریمہ کے درمیان کلام کرنے کو صرف اس صورت میں مکروہ قرار دیا ہے، جب کلام غیر ضروری ہو، البتہ اگر وہ کلام دینی امور میں سے کسی کام کے لیے ہو، تو مکروہ نہیں ہوگا۔ (نجاح القاری، جلد 05، صفحۃ 140، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
کسی امرِ دینی کے لیے کلام کرنا بلاکراہت جائز ہے، چنانچہ علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 855ھ / 1451ء) نے لکھا:
قلت: إنما كره الحنفية الكلام بين الإقامة والإحرام إذا كان لغير ضرورة، و أما إذا كان لأمر من أمور الدين فلا يكره۔
ترجمہ: میں نے کہا:احناف نے تب ہی اقامت اور تکبیرِ تحریمہ کے درمیان کلام کرنے کو مکروہ قرار دیا، جب وہ بلا ضرورت ہو، لہذا اگر کسی دینی معاملے پر کوئی بات کی، تو اس میں کراہت نہیں۔ (عمدۃ القاری، جلد 05، کتاب مواقیت الصلاۃ، صفحہ158، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت)
جب عام گفتگو کرنا درست ہے، تو صفوں کی درستی کے لیے امام صاحب کو یاددہانی کروانا اور پھر امام صاحب کا اعلان کرنا بھی جائز ہے، چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں:
أقيمت الصلاة، فأقبل علينا رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم بوجهه فقال: أقيموا صفوفكم وتراصوا، فإني أراكم من وراء ظهري۔
ترجمہ:اقامت پڑھی جا چکی تھی، تو نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نےہماری جانب رُخ کرتے ہوئے فرمایا:اپنی صفوں کو سیدھا رکھو اور باہم مل کر کھڑے ہو۔ بے شک میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔ (صحیح البخاری، جلد 01، باب إقبال الإمام على الناس، صفحہ 145، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)
اِسی روایت کو امام نسائی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے صیغہِ استمرار کے ساتھ روایت کیا، جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ ایک دفعہ کا واقعہ نہیں، بلکہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عموماً اقامت کے بعد یہ اعلان فرمایا کرتے تھے، چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے نقل فرمایا:
عن انس أن النبي صلى اللہ عليه وسلم كان يقول:«استووا، استووا، استووا، فوالذي نفسي بيده إني لأراكم من خلفي، كما أراكم من بين يدي۔
ترجمہ:حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عموماً یوں فرمایا کرتے تھے:اپنی صفیں برابر کر لو، اپنی صفیں برابر کر لو، اپنی صفیں برابر کر لو۔ اُس ذات کی قسم! جس کے قبضہِ قدرت میں میری جان ہے، بے شک میں تمہیں اپنے پیچھے ہوتے ہوئے بھی اُسی طرح دیکھتا ہوں، جیسے تمہیں سامنے ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ (سنن النسائی، جلد 02، صفحہ 91، مطبوعہ المكتبة التجارية الكبرى، قاهرة)
شارِح بخاری، علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حدیثِ بخاری کے تحت لکھا:
مما يستفاد منه: جواز الكلام بين الإقامة وبين الصلاة ووجوب تسوية الصفوف۔
ترجمہ:اِس روایت سے اِقامت اور نماز کے درمیان کلام کرنے کا جواز اور صفوں کے برابر ہونے کا وجوب مستفاد ہوتا ہے۔ (عمدۃ القاری، جلد 05، صفحہ 255، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت)
خلیفہِ مفتی اعظم ہند، شیخ الحدیث علامہ غلام رسول رضوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال:1422ھ/2001ء) نے لکھا: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامت اور تکبیرِ تحریمہ کے درمیان کلام کرنا، جائز ہے، نیز اس حدیث میں آپ ﷺ کا یہ معجزہ ہے کہ اشیاء کو دیکھنے میں آپ ﷺ دیگر انسانوں سے مختلف ہیں۔ آگے پیچھے سے دیکھنا اور روشنی وتاریکی میں دیکھنا آپ کی شانِ امتیازی ہے۔ اِس میں آپ کی نظیر معدوم ہے۔(تفھیم البخاری، جلد 01، صفحہ 1078، مطبوعه تفھیم البخاری پبلی کیشنز، فیصل آباد)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-9575
تاریخ اجراء: 28 ربیع الثانی1447ھ/ 22 اکتوبر 2025ء