گھر کی نفل نماز مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے افضل

نفل نماز گھر میں پڑھنا مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے بھی افضل ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ حدیثِ پاک سے ثابت ہے کہ نفل نماز گھر میں پڑھنا مسجد میں پڑھنے سے افضل ہے، تو کیا یہ فضیلت مسجد حرام و مسجد نبوی میں نوافل پڑھنے کے مقابلہ میں بھی ہے، یعنی کسی شخص کا گھر میں نوافل ادا کرنا، مسجدین کریمین میں نوافل ادا کرنے سے بھی افضل کہلائے گا؟ سائل: غلام رسول عطاری (راولپنڈی)

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

بلاشبہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل مبارک سے یہ بات ثابت ہے کہ فرائض کے علاوہ نوافل وغیرہ گھر میں پڑھنا افضل ہے، اور یہ فضیلت مطلقاً ہے، خواہ مسجدِ نبوی و مسجدِ حرام ہی کیوں نہ ہو، لہذا گھر میں سنن و نوافل ادا کرنا مسجدینِ کریمین میں ادا کرنے سے بھی افضل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نوافل میں اخفاء (پوشیدگی) زیادہ پسندیدہ ہے، اور گھر میں نوافل ادا کرنے میں زیادہ پوشیدگی اور ریا کاری سے حفاظت ہے، اور اس سے گھر میں رحمت و برکت کا نزول بھی ہو گا۔

تاہم آج کل فرائض کے ساتھ سنن و نوافل بھی مساجد میں ادا کرنے کا عام رواج ہے، اگر کوئی مسجد میں سنت ونفل نہ پڑھے، تو لوگ بدگمانی کا شکار ہوں گے اور ویسے بھی گھر جاکر دیگر کاموں میں مشغول ہو جانے کے سبب سنن و نوافل چھوٹ جانے کا اندیشہ رہتا ہے اور اگر ادا کئے بھی جائیں، تو مساجد جیسا ماحول میسر نہ ہونے کی وجہ سے بسا اوقات زیادہ خشوع و خضوع حاصل نہیں ہو پاتا، لہذا فی زمانہ فرائض کے ساتھ سنن و نوافل بھی مسجد میں ہی ادا کر لینے چاہییں، تاکہ زیادہ اطمینان کے ساتھ ادا ہو سکیں اور لوگ بھی بدگمانی میں مبتلا نہ ہوں۔

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

صلاة المرء في بيته أفضل من صلاته في مسجدي هذا، إلا المكتوبة

 ترجمہ: آدمی کی نماز اس کے گھر میں میری اس مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے، سوائے فرض نماز کے۔ (سنن أبي داود، ج1، ص274، المکتبۃ العصریہ، بیروت)

علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ بالا حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں:

فعلى هذا: لو صلى نافلة في مسجد المدينة كانت بألف صلاة على القول بدخول النوافل في عموم الحديث، وإذا صلاها في بيته كانت أفضل من ألف صلاة، و هكذا حكم مسجد مكة و بيت المقدس

ترجمہ: تو اس حدیث کے مطابق اگر کوئی شخص نفل نماز مسجدِ مدینہ میں پڑھے تو یہ ایک ہزار نماز کے برابر ہوگی، اس قول کے مطابق کہ نوافل حدیث کے عموم میں داخل ہیں، جبکہ اگر وہ اپنے گھر میں پڑھے تو یہ ایک ہزار نماز سے بھی افضل ہے۔ اسی طرح مسجدِ مکہ اور بیت المقدس کا بھی حکم ہے۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج5، ص267، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سنن و نوافل گھر میں پڑھنے کی عادت مبارکہ کے حوالے سے سنن ابی داؤد میں ہے:

عن عبد الله بن شقيق، قال: سألت عائشة رضي الله عنها عن صلوۃ رسول الله صلى الله عليه وسلم من التطوع، فقالت: كان يصلي قبل الظهر أربعًا في بيتي، ثم يخرج فيصلي بالناس، ثم یرجع الی بيتي فيصلي ركعتين، وكان يصلي بالناس المغرب، ثم یرجع الی بيتي فيصلي ركعتين، وكان يصلي بھم العشاء، ثم يدخل بيتي فيصلي ركعتين۔۔۔ وكان إذا طلع الفجر صلى ركعتين، ثم يخرج فيصلي بالناس صلاة الفجر

 ترجمہ: حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے، پھر باہر تشریف لے جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر واپس میرے گھر آکر دو رکعتیں ادا فرماتے۔ (یونہی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز لوگوں کو پڑھاتے، پھر گھر آکر دو رکعتیں ادا فرماتے، اور (اسی طرح) عشاء کی نماز لوگوں کو پڑھاتے، پھر گھر آکر دو رکعتیں ادا فرماتے۔۔۔ جب فجر طلوع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت (سنتِ فجر) پڑھتے۔ پھر آپ باہر تشریف لے جا کر لوگوں کو نمازِ فجر پڑھاتے۔(سنن ابی داؤد، ج2، ص18، ملتقطاً، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

گھر میں نوافل پڑھنے کی ترغیب کی وجوہات بیان کرتے ہوئے امام محی الدین یحیی بن شرف النووی رحمۃ اللہ علیہ  ارشاد فرماتے ہیں:

 إنما حث على النوافل في البيوت لكونها أخفى وأبعد من الرياء، وأصون من المحبطات، وليتبرك البيت بذلك، وتنزل فيه الرحمة والملائكة، وینفر منه الشياطين

 ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوافل گھر میں پڑھنے کی ترغیب اس لیے دی تاکہ یہ (نوافل) زیادہ پوشیدہ، ریا سے دور، اور عمل ضائع کرنے والے اسباب سے محفوظ ہوں، نیز اس لیے کہ اس کی وجہ سے گھر میں برکت ہو، رحمت اور فرشتوں کا نزول ہو، اور شیطان وہاں سے فرار ہوجائے۔ (شرح النووی علی المسلم، ج6، ص68، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

گھر میں جا کر دیگر کاموں میں مشغول ہونے کا اندیشہ ہو تو مسجد میں ہی نفل پڑھ لیے جائیں، جیسا کہ در مختار مع رد المحتار میں ہے:

(و الأفضل في النفل غير التراويح المنزل إلا لخوف شغل عنها و الأصح أفضلية ما كان أخشع و أخلص) شمل ما بعد الفريضه و ما قبلها۔۔۔ و حيث كان هذا أفضل يراعی ما لم يلزم منه خوف شغل عنها لو ذهب لبيته أو كان في بيته ما يشغل باله و يقلل خشوعه فيصليها حينئذ في المسجد، لأن اعتبار الخشوع أرجح

 ترجمہ: تراویح کے علاوہ نفل نماز کی ادائیگی کے لیےگھر افضل ہے، سوائے اس صورت میں کہ جب یہ اندیشہ ہو کہ گھر جاکر سنت ونفل کی ادائیگی سے غافل ہوجائے گا۔ جبکہ اصح قول یہ ہے کہ جو نماز زیادہ خشوع و خلوص سے پڑھی جائے، وہی افضل ہے۔ یہ حکم فرض نماز سے قبل و بعد کے سنن و نوافل کو شامل ہے۔۔۔پس جب یہ (نفل نماز گھر میں پڑھنا) افضل ہے تو اس کی رعایت کی جائے گی، جبکہ اس سے یہ خدشہ نہ ہو کہ اگر گھر جائے گا تو نماز سے غافل ہوجائے گا، یا پھر گھر میں کوئی ایسی مصروفیت ہو جو اس کے دل کو مشغول کر دے گی اور خشوع وخضوع کم کر دے گی۔ تو ایسی صورت میں وہ مسجد میں ہی نوافل پڑھ لے، کیونکہ خشوع و خضوع کا اعتبار زیادہ راجح ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج2، ص22، دار الفکر، بیروت)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں: ”سنن ونوافل کا گھر میں پڑھنا افضل اور یہی رسول صلی تعالٰی علیہ وسلم کی عادت طیبہ۔۔۔ بالجملہ اصل حکم استحبابی یہی ہے کہ سنن قبلیہ مثل رکعتین فجر ورباعی ظہر و عصر و عشا مطلقاً گھر میں پڑھ کر مسجد کو جائیں کہ ثواب زیادہ پائیں اور سنن بعدیہ مثل رکعتین ظہر و مغرب و عشاء میں جسے اپنے نفس پر اطمینان کامل حاصل ہو کہ گھر جاکر کسی ایسے کام میں جو اسے ادائے سنن سے باز رکھے مشغول نہ ہوگا، وہ مسجد سے فرض پڑھ کر پلٹ آئے اور سنتیں گھر ہی میں پڑھے، تو بہتر اور اس سے ایک زیادتِ ثواب یہ حاصل ہوگی، کہ جتنے قدم بارادہ بادائے سنن گھر تک آئے گا وہ سب حسنات میں لکھے جائیں گے، اور جسے یہ وثوق نہ ہو وہ مسجد میں پڑھ لے کہ لحاظ افضلیت میں اصل نماز فوت نہ ہو، اور یہ معنی عارضی افضلیت صلٰوۃ فی البیت کے منافی نہیں۔ نظیر اس کی نماز وتر ہے کہ بہتر اخیر شب تک اس کی تاخیر ہے مگر جو اپنے جاگنے پر اعتماد نہ رکھتاہو وہ پہلے ہی پڑھ لے۔ مگر اب عام عمل اہل اسلام، سنن کے مساجد ہی میں پڑھنے پر ہے اور اس میں مصالح ہیں کہ ان میں وہ اطمینان کم ہوتا ہے جو مساجد میں ہے اور عادت قوم کی مخالفت موجب طعن و انگشت نمائی و انتشار ظنون و فتح باب غیبت ہوتی ہے اور حکم صرف استحبابی تھا تو ان مصالح کی رعایت اس پرمرجح ہے۔(فتاوی رضویہ، ج07، ص415، 416، ملتقطاً، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”نفل نماز گھر میں پڑھنا بہ نسبت مسجد کے افضل ہے کہ نوافل میں اِخفاء اور سَتْر زیادہ اچھا ہے تاکہ رِیا و نُمود کو دخل نہ ہو۔ لیکن آج کل مساجد ہی میں نوافل کا عام رواج ہو گیا ہے اگر کوئی مسجد میں نفل نہ پڑھے، تو عوام اسے متہم کردیں گے، اس لئے عوام کو بدگمانی سے بچانے کے لئے مسجد ہی میں پڑھنا ایک حد تک ضروری ہے۔(نزھۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج2، ص380، ملتقطاً، فرید بک سٹال، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب : مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر : pin-7680

تاریخ اجراء : 12جمادی الاولی1447ھ/4 نومبر2025ء