logo logo
AI Search

نماز میں سورت بھولنے پر پچھلی سورت تلاوت کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نماز میں سورت بھول جانے پر پچھلی سورت تلاوت کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

نماز میں اگر کوئی سورت شروع کی مثلاً سورۂ ہمزہ، اور پہلی آیت پوری یاد نہ آئی، دو لفظ کی تکرار کی لیکن پھر بھی یاد نہ آئی، تو ”ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ“ والی آیت پڑھ لی، تو ایسی صورت میں نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا نماز ہوگئی

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر سورۂ ہمزہ یاد کرنے کی کوشش میں ایک رکن یعنی تین مرتبہ ”سبحان اللہ“ کہنے کی مقدار خاموشی نہیں پائی گئی، تو نماز درست ہو گئی اور سجدۂ سہو بھی لازم نہیں ہوا، لیکن اگر سوچ بچار میں تین مرتبہ ”سبحان اللہ“ کہنے کی مقدار خاموشی پائی گئی تھی، تو سجدۂ سہو واجب ہو گیا تھا، اگر سجدۂ سہو کر کے نماز مکمل کرلی تھی، تو نماز درست ہوگئی، اور اگر سجدۂ سہو نہیں کیا، اور ایسے ہی نماز مکمل کرلی، تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا۔

نیز واضح رہے کہ قرآن پاک کی ترتیب کے ساتھ تلاوت واجب ہے اور جان بوجھ کر ترتیب کے خلاف پڑھنا، ناجائز و گناہ ہے۔ سورۂ بقرہ، سورۂ ہمزہ سے پہلے ہے تو سورہ ہمزہ کے بعد سورہ بقرہ کی کسی آیت کی تلاوت کرنا، ترتیب کے خلاف تلاوت کرنا ہے۔ خلافِ ترتیب تلاوت سے اگرچہ نماز فاسد نہیں ہوتی اور سجدۂ سہو بھی لازم نہیں ہوتا، کیونکہ ترتیب کے ساتھ پڑھنا تلاوت کا واجب ہے، نماز کا نہیں، مگر جان بوجھ کر خلافِ ترتیب تلاوت کرنا گناہ ہے، جس سے توبہ لازم ہے۔

نماز میں ایک آیت بھول کر دوسری آیت کی طرف منتقل ہونے کے متعلق سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے فتاوی رضویہ میں سوال ہوا کہ امام نے نمازِ جمعہ میں ایک آیت پڑھی، بسبب بھول جانے کے اُس کو دوسری بار پڑھ کر دوسری آیتوں کی طرف منتقل کیا۔ ایسی صورت میں نماز مکروہ تحریمی یا تنزیہی یا جائز بلاکراہت یا سجدہ لازم ہے یا نہیں ؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: ”جبکہ بمجبوری سہو تھا کچھ کراہت نہیں، اور اگر آیت کے یاد کرنے میں بقدر ر کن ساکت (خاموش) نہ رہا تو سجدہ سہو بھی نہیں، ورنہ سجدہ لازم ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 333، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

سوچنے میں تین سبحان اللہ کی مقدار سکوت کیا، تو سجدہ سہو واجب ہوگا، اگر سجدہ سہو  نہ کیا تو نماز کا لوٹانا واجب ہوگا، چنانچہ فتاوی رضویہ ہی میں ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ”سکوت اتنی دیر کیا کہ تین بار سبحان اللہ کہہ لیتا، تو یہ سکوت اگر بر بنائے تفکر تھا کہ سوچتا رہا کہ کیا پڑھوں، تو سجدہ سہو واجب ہے، اگر نہ کیا تو اعادہ نماز کا واجب ہے اور اگر وہ سکوت عمداً بلا وجہ تھا، جب بھی اعادہ واجب۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 192، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

ترتیب کے ساتھ قرآن پڑھنا تلاوت کے واجبات سے ہے اور خلاف ترتیب تلاوت ناجائز و گناہ ہے، چنانچہ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے

”یجب الترتیب فی سور القرآن، فلو قرأ منکوسا أثم لكن لا يلزمه سجود السهو لأن ذلک من واجبات القراءۃ لا من واجبات الصلاۃ “

 ترجمہ: قرآن کی سورتوں میں ترتیب کا لحاظ رکھنا واجب ہے تو اگر کسی نے قرآن کو خلاف ترتیب پڑھا تو گنہگار ہوگا، لیکن اس پر سجدہ سہو لازم نہیں کیونکہ قرآن کو ترتیب سے پڑھنا قراءت کے واجبات میں سے ہے، نماز کے واجبات میں سے نہیں۔ (رد المحتار علی الدرالمختار ، جلد  2، صفحہ  183، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوٰی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”نماز ہو یا تلاوت بطریق معہود ہو، دونوں میں لحاظِ ترتیب واجب ہے، اگر عکس کرے گا گنہگار ہوگا۔۔۔ سورتیں بے ترتیبی سے سہواً پڑھیں، تو کچھ حرج نہیں، قصداً پڑھیں تو گنہگار ہوا، نماز میں کچھ خلل نہیں۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 6، صفحہ 239، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4650
تاریخ اجراء:26 رجب المرجب1447ھ/ 16 جنوری 2026ء