دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ (1)سردیوں میں سر اور کانوں کی حفاظت کے لیے ایسی ٹوپیاں استعمال ہوتی ہیں، جنہیں پیشانی وغیرہ کی جانب سے فولڈ کر کے پہنا جاتا ہے۔ اسی طرح بعض علاقوں میں بَل والی ٹوپی پہننے کا رواج ہے، جسے کئی بَل دے کر سر پہ رکھا جاتا ہے، تو ایسی ٹوپیاں پہن کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے، جبکہ ہمیں کپڑا فولڈ کر کے نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے؟
(2)سردی میں ایسی ٹوپی بھی پہنی جاتی ہے، جو پورے سر اور ماتھے کو ڈھانپ لیتی ہے اور ماتھے کے اوپر ڈبل طے ہونے کی وجہ سے نرم ہوتی ہے ،تو اس کےپیشانی پر ہونے کی حالت میں سجدہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ سائل: علی رضا (گوجرانوالہ)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
(1)سردی سے حفاظت کے لیے ایسی ٹوپیاں جنہیں پیشانی وغیرہ کی جانب سے فولڈ کر کے پہنا جاتا ہے، اسی طرح بَل والی ٹوپی کہ جسے کئی بَل دے کر پہنتے ہیں، انہیں پہن کر نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ بلاشبہ نماز میں کفِ ثوب (لباس کے کسی حصے کا فولڈ کرنا) مکروہِ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے اور اس حالت میں پڑھی گئی نماز کا اعادہ بھی لازم ہوتا ہے، لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب کپڑا فولڈ کرنا خلافِ معتاد طریقے پر(یعنی عادت سے ہٹ کر) ہو، اگر عرف و عادت میں ہی کسی کپڑے یا لباس کو فولڈ کر کے پہنا جاتا ہو، تو اسے فولڈ کرنا حکمِ ممانعت میں داخل نہیں ہوگا اور سوال میں جن ٹوپیوں کا ذکر کیا گیا، انہیں فولڈ کر کے پہننے کا رواج ہے، لہٰذا انہیں فولڈ کرکے نماز پڑھنا بلا کراہت درست ہے۔
نماز میں کفِ ثوب سے ممانعت کے متعلق نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’امرت ان اسجد علی سبعۃ اعظم ،لا اکف شعرا ولا ثوبا‘‘
ترجمہ:مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہےاور اس چیز کا کہ اپنے بالوں اور کپڑوں کو نہ لپیٹوں۔ (صحیح بخاری، کتاب الاذان، جلد1، صفحہ 113، مطبوعہ کراچی)
تنویر الابصار و در المختار میں ہے:
’’(و)کرہ( کفہ) ای رفعہ ولو لتراب کمشمر کم او ذیل‘‘
ترجمہ : (نماز میں )کپڑے سمیٹنا یعنی اس کو اوپر اٹھا لینا مکروہ ہے، اگرچہ گردو غبار کی وجہ سے ایسا کیا ہو،جیساکہ آستین یا دامن کو سمیٹے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
اس کے تحت علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
’’حرر الخیر الرملی مایفید ان الکراھۃ فیہ تحریمیۃ‘‘
ترجمہ:علامہ خیر الدین رملی علیہ الرحمۃ نے اس مسئلے پر جو تحریر فرمایا ،اُس سے مستفاد یہ ہے کہ کف ثوب میں کراہت تحریمی ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الصلوۃ، جلد2، صفحہ 490، مطبوعہ پشاور)
اور کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی نماز کا اعادہ واجب ہے۔علامہ علاء الدین حصکفی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
’’ كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها‘‘
ترجمہ:ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے، اس کا اعادہ واجب ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الصلوۃ، جلد2، صفحہ 182، مطبوعہ پشاور)
لیکن ممانعت کا یہ حکم خلافِ معتاد طریقے سے فولڈ کرنے کے ساتھ مقید ہے۔اوپر ذکر کردہ حدیث پاک کے تحت نزہۃ القاری میں ہے: ’’(نماز میں)بال یا کپڑے کو غیر ِمعتاد طریقے سے سمیٹنا (ممنوع ہے)مثلاً(مَردوں کو)بالوں کا جوڑا باندھنا ،یا ان کو سمیٹ کر عمامے کے اندر کر لینا یا آستین چڑھا لینا یا تہبند اور پاجامے کو گھرس لینا ،اس سے نماز مکروہِ تحریمی ہوتی ہے۔“ (نزھۃ القاری ،جلد2، صفحہ464،فرید بک سٹال،لاہور)
فتاوی خلیلیہ میں ہے: ’’شلوار کو اوپر اُڑس لینا یا اس کے پائنچہ کو نیچے سے لوٹ لینا، یہ دونوں صورتیں کفِ ثوب یعنی کپڑا سمیٹنے میں داخِل ہیں اور کف ثوب یعنی کپڑا سمیٹنا مکروہ اور نماز اِس حالت میں ادا کرنا، مکروہِ تحریمی واجب الاعادہ کہ دہرانا واجب، جبکہ اِسی حالت میں پڑھ لی ہواور اصل اِس باب میں کپڑے کا خلافِ معتاد استعمال ہے، یعنی اس کپڑے کے استعمال کا جو طریقہ ہے، اس کے برخلاف اُس کا استعمال۔ (فتاوی خلیلیہ،جلد1،صفحہ246، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
(2)سجدے کی حالت میں پیشانی اور زمین کے درمیان کوئی نرم ٹوپی یا موٹا کپڑا حائل ہو اور اس کی وجہ سے پیشانی زمین پر نہ جمے اور زمین کی سختی محسوس نہ ہو، یوں کہ پیشانی دبانے سے مزید دبے گی، تو اس طرح سجدہ ہی ادا نہیں ہو گا اور نماز نہیں ہو گی، البتہ اگر پیشانی زمین پر جم جائے، زمین کی سختی محسوس ہو کہ مزید دبانے سے نہیں دبے گی، تو اس طرح سجدہ کرنا درست ہےاور نماز بھی ہو جائے گی۔
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:
”ولو صلی علی القطن المحلوج، ان وجد صلابۃ الارض اجزأہ والا فلاوکذا علی الحشیش الموضوع والتبن“
ترجمہ:کسی نے دھنی ہوئی روئی پر نماز پڑھی، (تو سجدے میں) اگر زمین کی سختی محسوس کی، تو سجدہ ہوگیا، ورنہ نہیں، اسی طرح اگر بچھی ہوئی گھاس یا تنکوں پر سجدہ کیا (تو بھی یہی حکم ہے)۔ (الجوھرۃ النیرۃ،جلد1،صفحہ 53،مطبوعہ المطبعۃ الخیریۃ)
بدائع الصنائع میں ہے:
”ولو سجد على كور العمامة ووجد صلابة الأرض جاز عندناو كذا ذكر محمد في الآثار“
ترجمہ: اگر کسی نے عمامہ کے پیچ پر سجدہ کیا اور زمین کی سختی محسوس کی، تو احناف کے نزدیک جائز ہے، اس طرح امام محمد (رحمۃ اللہ علیہ)نے آثار کتاب میں ذکر کیا ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 210، مطبوعہ بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو چیز ایسی ہو کہ سجدہ میں سر اُس پر مستقر ہو جائے یعنی اس کا دبنا ایک حد پر ٹھہر جائے کہ پھر کسی قدر مبالغہ کریں، اس سے زائد نہ دبے ایسی چیز پر نماز جائز ہے۔۔۔ علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں:
"ضابطہ ان لا یتسفل بالتسفیل، فحینئذ جاز سجودہ علیہ"
(اس کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر دبانے سے نیچے نہ دبے، تواس صورت میں اس پر سجدہ جائز ہے)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 346، 347، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں: ’’عمامہ کے پیچ پر سجدہ کیا اگر ماتھا خوب جم گیا، سجدہ ہو گیا اور ماتھا نہ جما، بلکہ فقط چھو گیا کہ دبانے سے دبے گا یا سر کا کوئی حصہ لگا، تو نہ ہوا۔“ (بھار شریعت، حصہ3، جلد 1 ، صفحہ 515، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)
نوٹ:عموماً سجدوں کے دوران اتنی توجہ نہیں رہتی کہ ہر سجدے میں سر اتنا زور سے دبایا جائے کہ مزید نہ دبے اور اگر اس جانب توجہ رکھیں، تو خشوع و خضوع میں خلل واقع ہو سکتا ہے، لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ بوقت نماز پیشانی کو خالی کر لیاجائے تا کہ سجدہ اچھی طرح ادا ہو سکے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب : ابوتراب محمد علی عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر : Pin-7685
تاریخ اجراء : 28 جمادی الاولی 1447 ھ/20نومبر 2520 ء