دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا نماز کے قومہ و جلسہ میں تسمیع وغیرہ پڑھنے کے بعد تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار خاموش ٹھہرے رہنا خلافِ واجب ہے؟ ایسا کرنا دو فرض، دو واجب کے درمیان ایک رکن کی مقدار فاصلے کی طرح ہوگا؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں نمازی اگر نماز کے قومہ میں تسمیع و تحمید یا جلسہ میں ایک بار
اللّٰھم اغفرلی یا رب اغفرلی
پڑھنے کے بعد ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار خاموش رکا رہے اور سجدے میں نہ جائے، تو یہ ترکِ واجب ہو گا، کیونکہ اس طرح نماز کے فرض سجدے میں تاخیر ہو گی اور دو فرض یا دو واجب یا واجب و فرض کے درمیان ایک رکن یعنی تین تسبیح کے برابر تاخیر نہ کرنا واجب ہے، لہٰذا اتنا وقت خاموش رہنے سے یہ واجب ترک ہوتا ہے اور بھول کر ایسا ہو ، تو سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے، جبکہ جان بوجھ کر ایسا کرنا مکروہِ تحریمی ہے، جس سے وہ نماز واجب الاعادہ یعنی دوبارہ پڑھنی واجب ہو جاتی ہے۔ البتہ اگر قومہ میں تسمیع و تحمید اور جلسہ میں اللّٰھم اغفر لی پڑھنے کی وجہ سے اتنا وقت لگ جائے اور خاموش رہنے یا سوچنے کی وجہ سے ایسا نہ ہو، تو اس سے نماز میں کوئی حرج واقع نہیں ہو گا، کیونکہ اس صورت میں اس نے قومہ و جلسہ کے مسنون و مستحب اذکار پڑھے، جو کہ تاخیر نہیں، بلکہ سنت و مستحب ہیں۔
بھول کی وجہ سے نماز کے کسی فرض یا واجب کی ادائیگی میں ایک رکن کے برابر تاخیر ہو، تو سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے:
فی سھو البحر: قیدہ فی فتح القدیر بان یکون مقدار ما یتأدی بہ رکن اھ، ای: لان الظاھر ان العلۃ ھی تاخیر۔۔۔ و ھو ما دون رکن معفوّ عنہ، ملخصا
ترجمہ: بحر الرائق کے سہو کے باب میں ہے: فتح القدیر میں سہو کے حکم کے لیے یہ قید بیان کی کہ سہو اِتنے وقت تک ہو کہ جتنے وقت میں ایک رکن ادا ہو جاتا ہے اھ۔ یعنی کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ اس کی وجہ تاخیر ہونا ہے اور ایک رکن سے کم تاخیر معاف ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 188، مطبوعہ کوئٹہ(
درِ مختار میں نماز کے واجبات کے مسائل میں ہے:
و ترک۔۔۔ کل زیادۃ تتخلل بین الفرضین
ترجمہ: دو فرضوں کے درمیان زیادتی (اضافے) کو ترک کرنا واجب ہے۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے:
و یدخل فی الزیادۃ السکوت، حتی لو شک فتفکر سجد للسھو کما مر و قولہ (بین الفرضین) غیر قید، فتدخل الزیادۃ بین فرض و واجب کالزیادۃ بین التشھد الاول و القیام الی الرکعۃ الثالثۃ کما مر۔۔۔ ذکر البلخی فی نوادرہ عن ابی حنیفۃ : من شک فی صلاتہ فأطال تفکرہ فی قیامہ او رکوعہ او قومتہ او سجودہ او قعدتہ لا سھو علیہ، و ان فی جلوسہ بین السجدتین فعلیہ السھو۔۔۔ اھ، و قولہ لا سھو علیہ مخالف للمشھور فی کتب المذھب، ملخصا
ترجمہ: اور زیادتی میں خاموش رہنا بھی داخل ہے، حتی کہ اگر شک کی وجہ سے سوچنے لگ گیا، تو سجدۂ سہو کرے، جیسا کہ اس کا مسئلہ پیچھے گزرا اور شارح رحمۃ اللہ علیہ کا قول (دو فرضوں کے درمیان) قید نہیں ہے، لہٰذا اس میں فرض و واجب کے درمیان زیادتی بھی داخل ہے، جیسا ہ پہلے قعدہ کے تشہد اور تیسری رکعت کے قیام کے درمیان زیادتی کرنا، جیسا کہ اس کا مسئلہ پیچھے گزرا۔ امام بلخی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نوادر میں امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ جو شخص نماز میں شک میں مبتلا ہوا، پھر قیام یا رکوع یا قومے یا سجدے یا قعدے میں زیادہ وقت تک سوچتا رہا، تو اس پر سجدۂ سہو لازم نہیں۔ البتہ اگر دو سجدوں کے درمیان جلسے میں ایسا کیا، تو اس پر سجدۂ سہو واجب ہے۔ اور ان کا یہ قول کہ اس پر سجدۂ سہو واجب نہیں، مذہب کی کتابوں میں موجود مشہور قول کے مخالف ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 202، مطبوعہ کوئٹہ)
الجوھر الکلی شرح عمدۃ المصلی میں نماز کے واجبات کے مسائل میں ہے:
الخامس: اتیان کل فرض من فرائض الصلاۃ، و المراد بہ الارکان فی موضعہ الذی شرع اداؤہ فیہ من غیر تاخیر لہ عنہ قدر رکن، و السادس: اتیان کل واجب من واجبات الصلاۃ کذلک یعنی فی موضعہ الذی شرع اداؤہ فیہ من غیر تاخیر، حتی لو۔۔۔ تفکر فی صلاتہ و لم یشتغل حالۃ التفکر بقرأۃ و لا تسبیح حتی مکث قدر اداء رکن وجب علیہ سجود السھو، ملخصا
ترجمہ: پانچواں واجب: نماز کا ہر فرض ادا کرنا، اس سے مراد یہ ہے کہ ارکان کو جس مقام پر ادا کرنا مشروع کیا گیا، انہیں اسی مقام پر ایک رکن کی مقدار تاخیر کیے بغیر ادا کرنا۔ چھٹا واجب: نماز کا ہر واجب اسی طریقے سے ادا کرنا، یعنی اسے جس مقام پر ادا کرنا مشروع کیا گیا، اسی مقام پر تاخیر کیے بغیر ادا کرنا، حتی کہ اگر نماز میں سوچنے لگ گیا اور سوچنے کی حالت میں قراءت یا تسبیح میں مشغول نہ رہا، یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک رکن ادا کرنے کی مقدار رکا رہا، تو اس پر سجدۂ سہو واجب ہو جائے گا۔(الجوھر الکُلّی شرح عمدۃ المصلی، ص 173، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر میں ہے:
عدم اتیانہ فی محلہ صادق بتاخیرہ عن محلہ۔۔۔ بفعل اجنبی کمسئلۃ التفکر، ملخصا
ترجمہ: اسے (یعنی فرض یا واجب کو) اپنے مقام پر ادا نہ کرنا اسے کسی اجنبی فعل کے ذریعے اپنے مقام سے مؤخر کرنے پر بھی صادق آتا ہے، جیسا کہ سوچنے کے مسئلے میں۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، ج 1، ص 210، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نماز کے واجبات میں فرماتے ہیں: ”دو فرض یا دو واجب یا واجب، فرض کے درمیان تین تسبیح کی قدر وقفہ نہ ہونا (واجب ہے)۔“ (بھارِ شریعت، حصہ 3، ج 1، ص 519، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سجدۂ سہو کے بیان میں فرماتے ہیں: ”قراء ت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کے وقفہ ہوا، سجدۂ سہو واجب ہے۔ (مزید آگے فرماتے ہیں:) ایک رکن کی قدر خاموش رہا اور سوچتا رہا۔۔۔ تو سجدۂ سہو واجب ہے۔“ (بھارِ شریعت، حصہ 4، ج 1، ص 715، ص 719، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مسائلِ سجدۂ سہو میں ہے: ”دو فرض یا دو واجب یا واجب اور فرض کے درمیان تین تسبیح کی مقدار وقفہ نہ ہونا واجب ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص رکوع سے اٹھنے کے بعد بھول کر تین تسبیح کی مقدار کھڑا سوچتا رہا ، تو اس پر سجدۂ سہو واجب ہے اور اگر قصدا (جان بوجھ کر) اتنی دیر کھڑا رہا ، تو نماز لوٹائے۔“ (مسائلِ سجدۂ سھو، ص 79، مطبوعہ ناگپور، ھند)
قومہ میں تسمیع و تحمید کے سنت ہونے کے متعلق صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”رکوع سے اٹھنے میں امام کے ليے سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہنا اور مقتدی کے ليے
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَ لَکَ الْحَمْد
کہنا اورمنفرد کو دونوں کہنا سنت ہے۔“ (بھارِ شریعت، حصہ 3، ج 1، ص 527، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
دو سجدوں کے درمیان دعا مستحب ہونے کے متعلق امامِ اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اللّٰھم اغفرلی
کہنا امام و مقتدی و منفرد سب کو مستحب ہے اور زیادہ طویل دعا سب کو مکروہ ۔ ہاں منفرد کو نوافل میں مضائقہ (حرج) نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 182، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Aqs-2870
تاریخ اجراء: 03 جُمادَی الاخریٰ 1447ھ / 25 نومبر 2025ء