تصویر والے قالین پر نماز کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جس قالین پر تصویر بنی ہو اس پر نماز کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
قالین پر تصویر بنی ہو، تو کیا اس پر نماز ہو جائے گی؟
جواب
تصویر والے قالین کو بچھاکر اس پر نماز پڑھنا مکروہ نہیں، جبکہ سجدہ تصویر پر نہ ہو۔ علامہ مَرْغِینانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ/1196ء) لکھتے ہیں:
”ولو كانت الصورة على وسادة ملقاة أو على بساط مفروش لا يكره، لأنها تداس وتوطأ بخلاف ما إذا كانت الوسادة منصوبة“
ترجمہ: تصویر اگر نیچے پڑے سرہانے یا بچھے ہوئے بستر پر ہو، تو اس میں کراہت نہیں، کیونکہ اس پر چلا جاتا ہے اور اس کو روندا جاتا ہے برخلاف اس کے کہ جب سرہانہ کھڑا کیا ہوا ہو۔ (الھدایۃ، جلد 1، صفحہ65، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بيروت)
بہارِ شریعت میں ہے ”اگر تصویر ذلت کی جگہ ہو، مثلاً جوتیاں اُتارنے کی جگہ يا اور کسی جگہ فرش پر کہ لوگ اسے روندتے ہوں يا تکیے پر کہ زانو وغیرہ کے نیچے رکھا جاتا ہو، تو ایسی تصویر مکان میں ہونے سے کراہت نہیں، نہ اس سے نماز میں کراہت آئے، جب کہ سجدہ اس پر نہ ہو۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ3، صفحہ 628، مکتبۃ المدینہ، کراچی )
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4660
تاریخ اجراء: 03 شعبان المعظم1447ھ/23 جنوری 2026ء