Hiran Ki Qurbani Karna Kaisa?
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ہرن کی قربانی کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے گھر میں ہرن پالی ہوئی ہے، اس کی قربانی ہو سکتی ہے یا نہیں؟
جواب
قربانی صرف گھریلو پالتو جانوروں کی جائز ہے، اس کے علاوہ وحشی جانور جیسے ہرن، جنگلی گائے، بیل اور نیل گائے وغیرہ کی قربانی جائز نہیں، اگرچہ ان کو کسی نے گھر میں پال رکھا ہو۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
لا یجوز فی الأضاحی شیٔ من الوحشی فإن کان متولداً من الوحشی و الأنسی فالعبرۃ للأم فإن کانت أھلیۃ تجوز و إلا فلا، حتی لو کانت البقرۃ وحشیۃ و الثور أھلیاً لم تجز
وحشی جانوروں میں سے کسی کی قربانی جائز نہیں، اگر کوئی جانور وحشی اور گھریلو جانور کے ملنے سے پیدا ہوا ہے، تو اعتبار مادہ جانور کا ہے، اگر مادہ گھریلو ہے، تو قربانی جائز ہے، ورنہ نہیں، حتی کہ اگر گائے جنگلی ہو اور بیل گھریلو ہو، تو ان سے پیدا ہونے والے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ (فتاوی عالمگیری، ج 5، ص 367، مطبوعہ کراچی)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: وحشی جانور جیسے نیل گائے اور ہرن ان کی قربانی نہیں ہو سکتی، وحشی اور گھریلو جانور سے مل کر بچہ پیدا ہوا مثلاً ہرن اور بکری سے اس میں ماں کا اعتبار ہے یعنی اس بچہ کی ماں بکری ہے، تو جائز ہے اور بکرے اور ہرنی سے پیدا ہے، تو نا جائز۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، ص 340، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Book-162
تاریخ اجراء: 14جمادی الثانی1437ھ /24 مارچ 2016ء