logo logo
AI Search

Afzal Qubani: 45000 Ka 1 Bakra Ya Itni Hee Qeemat ke 3 Bakre

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قربانی میں 45 ہزار کا ایک موٹا تازہ بکرا افضل ہے یا 45 ہزار کے 3 بکرے کرنا افضل ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بکرا جس کی قیمت 45 ہزار روپے ہے اور 3 بکرے جن میں سے ہر ایک کی قیمت 15، 15 ہزار روپے ہے ان 3 بکروں کی مجموعی مالیت 45 ہزار روپے بنتی ہے، جبکہ 45 ہزار والا بکرا 15 ہزاروالے بکروں کی بنسبت موٹا، فربہ اور خوبصورت ہے۔

اس بارے میں سوال یہ ہے کہ ایک شخص کا اپنی طرف سے 45 ہزار کے صرف ایک بکرے کی قربانی کرنا افضل ہے یا 45 ہزار کے 3 بکروں کی قربانی کرنا افضل ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ میں قربانی کے جانور میں افضیلت کا مدار تعداد پر نہیں، بلکہ قیمت اور گوشت کے اعتبار سے اعلیٰ ہونے پر ہے یعنی اس کی قیمت اور گوشت دوسروں کی بنسبت مقدار میں زیادہ ہو، لہذا صورت مسؤلہ میں جس جانور کی قیمت 45 ہزار ہے اور دوسروں کی بنسبت موٹا اور فربہ ہے، اس کی قربانی کرنا 15, 15 ہزار کے تین جانورں کی قربانی کرنے سے افضل ہے۔

کس طرح کے جانور کی قربانی کرنا افضل ہے اس بارے میں حدیث پاک میں ہے:

إن أفضل الضحایا أغلاھا و أسمنھا

یعنی: قیمت اور گوشت کے اعتبار سے اعلیٰ جانور کی قربانی کرنا افضل ہے۔ (المستدرک للحاکم، ج 4، ص 257، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

علامہ عبد الرؤف المناوی اس حدیث مبارک کی شرح کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

(ان أفضل الضحایا أغلاھا) أی ارفعھا ثمنا (و اسمنھا) أکثرھا شحما و لحما فالأسمن أفضل من العدد

یعنی: اغلاھا کا مطلب یہ ہے کہ قیمت کے اعتبار سے زیادہ ہو اور اسمنھا کا مطلب یہ ہے کہ گوشت اور چربی کے اعتبار سے زیادہ ہو اور موٹا ور فربہ ہونا تعداد سے افضل ہے۔ (التیسیر بشرح الجامع الصغیر، ج 1، ص 312، مکتبۃ الإمام الشافعی، الریاض)

امام نووی علیہ الرحمۃ شرح صحیح مسلم میں لکھتے ہیں:

فإن التضحیۃ بشاۃ سمینۃ أفضل من التضحیۃ بشاتین دونھا فی السمن

یعنی: ایک موٹی اور فربہ بکری کی قربانی کرنا ان دو بکریوں کی قربانی سے افضل ہے، جو اس سے موٹے اور فربہ ہونے میں کم ہو۔ (شرح النووی علی مسلم، ج 2، ص 79، دار إحیاء التراث العربی، بیروت)

ایک جانور جو دو جانوروں کی بنسبت اعلیٰ ہو اس کی قربانی کے افضل ہونے کے بارے میں محیط البرہانی میں ہے:

شراء الأضحیۃ بثلاثین درھماً شاتان أفضل من شراء واحدۃ قال: و شراء الواحدۃ بعشرین أفضل من شراء شاتین بعشرین لأن بثلاثین درھماً توجد شاتان علی ما یجب من کمال الاضحیۃ فی السن و الکبر، و لا یوجد بعشرین کذلک حتی لو وجد کان شراء الشاتین أفضل، و لو لم یوجد بثلاثین کذلک کان شراء الواحدۃ أفضل

یعنی: قربانی کے لیے دو بکریاں تیس درہم کی خریدنا ایک بکری خریدنے سے افضل ہے اور کہا کہ بیس درہم کی ایک بکری خریدنا، بیس درہم کی دو بکریاں خریدنے سے افضل ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ تیس درہم والی دو بکریوں سے عمر اور بڑے ہونے کی وجہ سے قربانی کی ادائیگی کمال طریقے سے ہوگی بنسبت بیس درہم والی ان دو بکریوں سے جو ان صفات پر نہیں۔ یہاں تک کہ مذکورہ صفات اگر بیس درہم والی ان دو بکریوں میں پائی جائیں تو یہ افضل ہوجائیں گی اور اگرمذکورہ صفات تیس درہم والی بکریوں میں بھی نہ پائی جائیں تو بیس درہم والی ایک بکری کی قربانی کرنا افضل ہوگا۔ (المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی، ج 6، ص 94، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Book-161
تاریخ اجراء: 30 ذیقعدہ 1438ھ/23 اگست2017ء