Sahib e-Nisab Walid Par Na baligh Bache Ki Qurbani Lazim Hai?
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا صاحبِ نصاب والد پر نابالغ بچے کی طرف سے بھی قربانی لازم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ والد، صاحبِ نصاب ہو تو کیا اس پر اپنے مال سے اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی قربانی کرنا واجب ہے یا نہیں؟
جواب
والد پر اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنا مستحب ہے کہ اگر کرے گا، تو ثواب پائے گا، لیکن کرنا واجب نہیں کہ اگرنہ کرے تو گنہگار ہو۔ جیسا کہ فقیہ النفس امام قاضی خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:
و فی الولد الصغیر عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی روایتان فی ظاھرالروایۃ یستحب و لا یجب بخلاف صدقۃ الفطر و روی الحسن عن أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی انہ یجب أن یضحی عن ولدہ الصغیر و ولد ولدہ الذی لا أب لہ و الفتوی علی ظاھرالروایۃ
ترجمہ: نابالغ بچے پر قربانی واجب ہونے کے بارے میں امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے دو روایتیں ہیں: ظاہرالروایہ میں ہے کہ والد پر بچے کی قربانی مستحب ہے، واجب نہیں بخلاف صدقہ فطر اور امام حسن نے امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے روایت کی کہ والد پر اپنے چھوٹے بچے اور ایسے پوتے جس کا والد نہ ہو، کی طرف سے قربانی واجب ہے اور فتوی ظاہر الروایہ (واجب نہیں) پر ہے۔ (فتاوی خانیہ، کتاب الاضحیۃ، ج 03، ص 345، مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:
فتجب عن نفسہ لاعن طفلہ علی الظاھر، بخلاف الفطرۃ
ترجمہ: والد پر اپنی قربانی واجب ہے نہ اپنے بچے کی، بخلاف صدقہ فطرکے کہ وہ اپنے بچہ کا بھی واجب ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الاضحیہ، ج 09، ص 524، مطبوعہ کوئٹہ)
اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: اولادِ صغارکی طرف سے قربانی اپنے مال سے کرنا واجب نہیں، ہاں مستحب ہے اور قربانی جس پر واجب ہے اس پر ایک ہی واجب ہے زیادہ نفل ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 454، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Book-157
تاریخ اجراء: 03 صفرالمظفر1437ھ / 16نومبر2015ء