Chain smoker کے لیے روزہ رکھنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نیو مسلم Chain smoker کے لیے روزے کا حکم ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نیو مسلم چین اسموکرChain Smoker (مسلسل یا کثرت سے سگریٹ پینے والا) ہوں، روزے نہیں رکھ پا رہا، میں کیا کروں؟
جواب
ہر عاقل، بالغ، مقیم اور تندرست مسلمان پر رمضان کا روزہ فرض اور بلا عذرِ شرعی چھوڑنا گناہ ہے۔ چین اسموکر (Chain Smoker) ہونا رمضان کا روزہ چھوڑنے کا عذر نہیں، لہذا کسی ماہر طبیب سے طبی رہنمائی لے کر اِس عادت پر قابو پائیں، تا کہ فرض روزہ چھوڑنے کی نوبت نہ آئے اور جو روزے اِس وجہ سے چھوڑے ہیں۔ اُنہیں چھوڑنے پر سچی توبہ کریں اور رمضان کے بعد اُن کی قضا کرنا بھی ضروری ہے۔
یاد رکھیں کہ روزہ محض کھانے پینے سے اجتناب کا نام نہیں، بلکہ اِس کے پیچھے بہت بڑی حکمت حصولِ تقویٰ اور اللہ کی رضا کی خاطر اپنی پسندیدہ چیزوں کو قربان کرنے کی مشق ہے، لہذا جب سگریٹ کی شدید طلب ہے، تو اِسی کیفیت میں خود کو روکنا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا ”صبر“ اور ”مجاہدہ“ ہے اور اللہ کی بارگاہ میں اس صبر کا بڑا اجر ہے، چنانچہ ارشاد ہوا
﴿اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴾
ترجمہ کنزالعرفان: ’’صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔‘‘(پ 23، الزمر: 10) خواہشاتِ نفس کو روکنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے دوسری جگہ فرمایا گیا۔
﴿وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى (40) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰى﴾
ترجمہ کنزالعرفان: ’’اوررہا وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔ تو بیشک جنت ہی (اس کا) ٹھکانہ ہے۔ (پ 30، النازعات: 40.41)
حل: سوال میں بیان کردہ کیفیت کا بہت مؤثر اور مقبول حل نکوٹین پیچ (Nicotine Patch) کا استعمال ہے۔ یہ سگریٹ نوشی ترک کرنے یا اس کی عادت پر قابو پانے کا ایک مؤثر طبی ذریعہ ہے، جسے ”نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی“ (NRT) کہا جاتا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ جب پیچ کو جسم پر چپکایا جاتا ہے، تو اس میں موجود نکوٹین آہستہ آہستہ جلد کے مسامات کے ذریعے جذب ہو کر خون میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ یہ عمل سگریٹ کے دھوئیں کی طرح فوری نہیں، بلکہ دھیمی رفتار سے ہوتا ہے، جس سے خون میں نکوٹین کی ایک متوازن مقدار برقرار رہتی ہے اور دماغی ریسیپٹرز کو تسکین ملتی ہے، یوں سگریٹ کی شدید طلب (Craving) اور بے چینی میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے، لیکن یہ یاد رکھیں کہ یہ جواب صرف اسی نکوٹین پیچ (Nicotine Patch) کے متعلق ہے۔ نکوٹین کے استعمال کے دوسرے طریقوں کا حکم ان کے طریقہ استعمال کے مطابق جدا ہوسکتا ہے۔
نکوٹین پیچ (Nicotine Patch) کا تعارف:
امریکہ کی سرکاری ویب سائٹ جو کہ طبی معلومات اور بالخصوص منشیات کی لغت پر مشتمل ہے، اُس میں نکوٹین پیچ کا تعارف یہ بیان کیا گیا کہ یہ جلد پر چپکنے والی ایک ایسی پٹی (پیچ) ہے، جس پر نکوٹین کی ایک معمولی مقدار کی تہہ موجود ہوتی ہے، جو جلد کے ذریعے جذب ہو کر خون میں شامل ہو جاتی ہے۔ یہ نکوٹین کی طلب کو ختم کرنے میں مدد کرتی ہے اور ان علامات کو کم کرتی ہے جو سگریٹ نوشی چھوڑنے کی کوشش کے دوران ظاہر ہوتی ہیں۔ نکوٹین پیچ ڈاکٹر کے نسخے کے ساتھ اور اس کے بغیر دونوں طرح سے دستیاب ہوتے ہیں۔
ویب سائٹ کی عبارت:
“A patch that sticks on the skin and contains a small dose of nicotine, which enters the blood by being absorbed through the skin. This helps stop nicotine cravings and relieves symptoms that occur when a person is trying to quit smoking. Nicotine patches are available with and without a prescription.”
استعمال کا طریقہ:
نکوٹین پیچ کا استعمال یوں کیا جاتا ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ سگریٹ نوشی کا عادی ہو، تو اُس کی عادت کو ملحوظ رکھ کر اُسی مقدار کے مطابق مناسب ڈوز مثلاً 7، 14 یا 21 ملی گرام کا انتخاب کر کے اسے جسم کے اوپری حصے مثلاً سینے، بازو، کندھے یا کمر کی صاف، خشک اور بالوں سے خالی جلد پر لگا کر اچھی طرح دبا دیا جاتا ہے، تاکہ وہ مضبوطی سے چپک جائے۔ جلد کی جلن سے بچنے کے لیے ہر بار لگانے کی جگہ تبدیل کی جاتی ہے۔ عام طور پر اسے 24 گھنٹے تک لگائے رکھا جاتا ہے اور پھر اتار دیا جاتا ہے۔یہ معلومات درج ذیل ویب سائٹ پر موجود تفصیلی طریقہ کار کا خلاصہ ہے۔
حکم شرعی سے متعلق فقہی عبارات:
سگریٹ پینے سےروزہ ٹوٹ جاتا ہے، چنانچہ درِ مختار مع ردالمحتار میں ہے:
(قوله: أنه لو أدخل حلقه الدخان) أي بأي صورة كان الادخال، حتى لو تبخرببخور وآواه إلى نفسه واشتمه ذاكرا لصومه أفطر لامكان التحرز عنه، و هذا مما يغفل عنه كثيرمن الناس ...وبه علم حكم شرب الدخان، ونظمه الشرنبلالي في شرحه على الوهبانية بقوله:
ويمنع من بيع الدخان وشربه
وشاربه في الصوم لا شك يفطر
ويلزمه التكفير لو ظن نافعاً
كذا دافعا شهوات بطن فقرروا۔
ترجمہ: اگر کسی نے اپنے حلق میں دھواں داخل کیا، یعنی حلق میں دھواں اتارنے کی کوئی بھی صورت ہو، حتی کہ کسی نے بخور (خوشبو) کی دھونی لی اور روزہ یاد ہونے کے باوجود اسے اپنی طرف کھینچا اور قصداً سونگھا، تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہے، یہ ایسا معاملہ ہے جس سے بہت سے لوگ غافل ہیں، اسی سے تمباکو نوشی ( سگریٹ ) کا حکم بھی معلوم ہو گیا۔ علامہ شرنبلالی رحمہ اللہ نے شرح وہبانیہ میں اس کو نظماً یوں بیان کیا: تمباکو کی خرید و فروخت اور اس کو پینے سے منع کیا جائے گا اور روزے کی حالت میں تمباکو نوشی کرنے والے کے روزہ ٹوٹنے میں کوئی شک نہیں اور (رمضان کا فرض روزہ ہونے کی صورت میں) کفارہ بھی لا زم ہوگا، جب کہ اس چیز کو نفع مند گمان کر کے استعمال کیا جائے یا اس کو خواہشِ نفس کی تسکین کے لیے استعمال کیا جائے، فقہائے کرام نے اس کو ثابت رکھا ہے۔ (درمختار مع ردالمحتار، جلد 02، صفحہ 395، مطبوعہ دار الفكر، بيروت)
”بہارِ شریعت“ میں ہے: ’’حُقّہ، سگار، سگریٹ، چرٹ پینے سے روزہ جاتا رہتا ہے، اگرچہ اپنے خیال میں حلق تک دھواں نہ پہنچاتا ہو۔ ‘‘ (بھارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 986، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نکوٹین پیچ کے استعمال سے بے چینی بھی باقی نہیں رہتی اور روزہ بھی نہیں ٹوٹتا، کیونکہ مسامات سے اگر کوئی چیز بدن میں داخل ہو تو اُس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، چنانچہ فتاویٰ عالَم گیری میں ہے:
’’وما يدخل من مسام البدن من الدهن لا يفطر هكذا في شرح المجمع‘‘
ترجمہ: جو چیز بدن کے مسامات سے داخل ہو، مثلاً: تیل وغیرہ، وہ روزہ نہیں توڑتی، یونہی ”مجمع البحرین“ کی شرح میں ہے۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد 01، صفحہ 203، مطبوعہ کوئٹہ)
”فتاوٰی فیض الرسول“ میں ہے: ’’اندرونِ جسم کسی جگہ دوا اور غذا کا مسام کے ذریعہ پہنچنا روزہ نہیں توڑتا۔‘‘ (فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 518، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور)
بلاعذرِ شرعی رمضان کا فرض روزہ چھوڑنا گناہ اور حرام ہے۔ اگر کوئی چھوڑ دے تو اُس پر قضا لازم ہے، چنانچہ ”در مختار“ میں ہے:
’’(أو أصبح غير ناو للصوم فأكل عمداً)۔۔۔(قضى) في الصور كلها (فقط)‘‘
ترجمہ: اگر کسی نے روزے کی نیت نہیں کی تھی اور پھر جان بوجھ کر کچھ کھا لیا، تو اس پر صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔ (درمختار مع ردالمحتار، جلد 02، صفحہ 403، مطبوعہ دار الفكر، بيروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9835
تاریخ اجراء: 13 رمضان المبارک1447ھ/03 مارچ 2026