روزے میں بڈیٹ سے استنجاء کرنا کیسا؟
روزے کی حالت میں بڈیٹ (Bidet) سے استنجا کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کینیڈا میں جہاں ہم رہتے ہیں، ہم بڈیٹ (Bidet) استعمال کرتے ہیں۔ بڈیٹ دراصل ٹوائلٹ سیٹ میں لگا ایک جدید آلہ ہوتا ہے جو پیشاب یا پاخانے کے بعد جسم کے نچلے حصے یعنی شرم گاہ کو صاف کرتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ عام طور پر بڈیٹ کا پانی زور کے ساتھ نکلتا ہے، جس کی وجہ سے تھوڑا سا پانی مخرج (مقعد) کے اندر چلا جاتا ہے اور فوراً دباؤ کے ساتھ باہر نکل آتا ہے، تو کیا اس صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ کیونکہ پانی معدے تک نہیں پہنچتا، صرف مخرج کے اندرونی حصے تک جاتا ہے اور فوراً باہر آجاتا ہے۔
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مطلقاً پانی کے مقعد کے اندرجانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا جب تک کہ پانی حقنہ (enema) کی جگہ تک نہ پہنچ جائے۔ اور یہ اُسی وقت ممکن ہوتا ہے کہ جب جان بوجھ کر اور ارادے کے ساتھ پانی یا دوا کو اتنی گہرائی تک پہنچایا جائے۔بڈیٹ (Bidet) یا ہینڈ شاور کے پانی میں اگرچہ دباؤ (pressure) ہوتا ہے، مگر یہ دباؤ صرف بیرونی صفائی کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے عام استعمال سے پانی حقنہ کی جگہ تک کسی صورت نہیں پہنچتا، لہذا روزے کی حالت میں بڈیٹ یا ہینڈ شاور کے عام استعمال سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، روزہ درست اور برقرار رہتا ہے۔ خوامخواہ کے شکوک و شبہات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
در مختار میں ہے:
و لو بالغ في الاستنجاء حتى بلغ موضع الحقنة فسد، و هذا قلما يكون ولو كان فيورث داء عظيما
ترجمہ: اگر آدمی استنجا میں مبالغہ کرے یہاں تک کہ حقنہ کی جگہ تک (پانی) پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا یہ بہت کم ہی ہوتا ہے اور اگر ایسا ہو تو یہ بہت بڑی بیماری لاحق کر دیتا ہے۔
اس کے تحت رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے:
قال في الفتح: و الحد الذي يتعلق بالوصول إليه الفساد قدر المحقنة اهـ. أي قدر ما يصل إليه رأس المحقنة التي هي آلة الاحتقان
ترجمہ: فتح القدیر میں فرمایا: وہ حد کہ جس تک پہنچنے کی صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے وہ حقنہ کی قدر ہے یعنی اتنی مقدار کہ جہاں تک حقنہ لینے کے آلے کا سِرا پہنچتا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 424، دار المعرفۃ، بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: روزہ دار کو یہ بہتر توہے کہ استنجا کرنے میں اوپر سانس بقوت نہ لے مگر اس قدر سے روزہ نہ جائے گا، نہ مطلقاً پانی چڑھنے سے(روزہ جائے گا) جب تک پانی موضع حقنہ تک نہ پہنچے، اور ایسا ہوگا تو درد شدید پیدا ہوگا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-963
تاریخ اجراء: 05 جمادی الاولی 1446ھ / 27 اکتوبر 2025ء