logo logo
AI Search

اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا جانور بیچ کر اپنے لیے استعمال کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور کو بیچ کر اپنی ضرورت میں استعمال کرنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ گاؤں میں جن لوگوں کے پاس جانور ہوتے ہیں، وہ اپنے جانوروں میں سے ایک جانور کا بچہ اللہ تعالی کے نام پر چھوڑ دیتے ہیں، یعنی اس پر صدقہ کی نیت کرلیتے ہیں، کوئی لفظ وغیرہ ساتھ نہیں بولتے، جب وہ بچہ بڑا ہو جاتا ہے، تو اس کو ذبح کرکے پکا کر خیرات کر دیتے ہیں یا اس کو زندہ ہی سیل کر کے اس کی رقم مسجد، مدرسہ یا کسی غریب پر صدقہ کر دیتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسے جانور کو سیل کر کے آدھی رقم کا ایک اور نیا جانور خرید کر اللہ تعالی کے نام پر چھوڑنا اور بقیہ رقم کو کسی بھی نیک کام میں خرچ کر دینا شرعا ً کیسا ہے؟ اس طرح کرنے کا مقصد کہ نیکی کا یہ سلسلہ چلتا رہے۔

نیز بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ والد نے کسی جانور کو اسی طرح اللہ تعالی کے نام پر چھوڑ دیا ہوتا ہے، لیکن گھر میں کسی مشکل حالت کے وقت گھر والے کہتے ہیں کہ فی الحال اس کو بیچ کر ہم اپنی ضرورت کو پورا کر لیتے ہیں، بعد میں کوئی دوسرا جانور اللہ کے نام پر چھوڑ دیں گے، تو کیا یہ بھی کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ رہنمائی فر مادیں۔

جواب

سوال میں بیان کردہ صورت میں  جانور کو اللہ تعالی کے نام پر چھوڑنا ، بہت اچھا اور ثواب کا کام ہے، کیونکہ یہ اس جانور کو کار ِخیر میں صدقہ کرنے کی نیت  و ارادہ  ہے اور حدیث پاک میں نیکی اور ثواب کے کام کی نیت پر بھی اجر ملنے کی بشارت دی گئی ہے، نیز جب اس جانور کو کارِ خیر میں صدقہ کر دیا جائے گا، تو مزید صدقہ کا ثواب بھی ملے گا، خواہ اسے پکا کر خیرات کیا جائے یا زندہ ہی بیچ کر اس کی رقم کو کسی نیک کام میں خرچ کیا جائے۔ البتہ چونکہ یہ ایک نیکی کا ارادہ اور نیت ہے، جسے پورا کرنا بہت اچھا اور سعادت مندی والا کام ہے اور بلا وجہ اس سے پھرنا  نہیں چاہیے، لیکن جب تک اس میں شرعی منت کی دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ شرعی منت کے الفاظ (مثلا ً؛ اللہ تعالی کے لیے مجھ پر اس جانور کو صدقہ کرنا لازم ہے، وغیرہ) نہ بولے گئے ہوں، تب تک  اس جانور یا اس کی قیمت کو صدقہ کرنا لازم و ضروری نہیں ہے، لہذا ایسی صورت میں اگر وہ شخص کسی وجہ سے اس  جانور کو صدقہ نہ کر سکے، تو وہ شرعاً گناہ گار نہیں ہوگا۔

بیان کردہ تفصیل سے سوال میں پوچھی گئی دونوں صورتوں کا حکم واضح ہوگیا کہ اس جانور کو بیچ کر آدھی رقم سے مزید ایک جانور اسی غرض سے خریدنا اور بقیہ آدھی رقم کسی نیک کام میں خرچ کرنا جائز ہے، بلکہ چونکہ قربانی کی طرح شرعا متعین بھی نہیں، اس لئے ایک اعتبار سے زیادہ فضلیت والا عمل ہے، کہ اس میں نیکی کے اس کام کو مسلسل جاری رکھنے کا معاملہ ہے۔ نیز  اگر کسی ضرورت کے سبب اس جانور کو ذاتی کام میں صرف کر لیا گیا اور بعد میں اس کی جگہ کوئی اور جانور دے دیا یا نہ دیا، تو اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔

بخاری شریف کی حدیث پاک ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”من هم بحسنة فلم يعملها كتبها الله له عنده حسنة كاملة، فإن هو هم بها وعملها كتبها الله له عنده عشر حسنات إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة“

ترجمہ: جو کسی نیکی کا ارادہ کرے، لیکن اسے کر نہ سکے، تو اللہ تعالی  اپنے پاس اس کے لیے ایک کامل نیکی لکھ دیتا ہے، اور اگر وہ نیکی کا ارادہ کرے اور اسے کر بھی لے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیوں سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ (صحیح بخاری، الجزء05، الرقم 6126، دار ابن كثير، دمشق)

نیکی کے ارادے کے بعد کسی عذر کے سبب وہ نیکی نہ ہو سکی، تو اجر پھر بھی ملے گا، چنانچہ بیان کردہ حدیث پاک کی شرح میں علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ/1605ء) لکھتے ہیں:

”(‌من ‌هم ‌بحسنة) أي: عزم على فعلها (فلم يعملها): لمانع شرعي أو عذر عرفي (كتبت)۔۔۔ ثواب حسنة واحدة“

ترجمہ: جس نے نیکی کا ارادہ کیا، یعنی اس کو کرنے کا عزم کیا، لیکن  مانع شرعی یا عرفی عذر کی بنا پر اس نیکی کو بجا نہ لا سکا، تو اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی کا ثواب لکھا جائے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 09، صفحہ  3767، دار الفكر، بيروت)

نذر و منت کے الفاظ ذکر کیے بغیر کسی جانور کو اللہ تعالی کی راہ میں صدقہ کرنے کی نیت کرنا، شرعی نذر نہیں ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”صرف نیت سے تو کچھ لازم نہیں ہوتا جب تک زبان سے الفاظ وایجاب نہ کہے، اور اگر زبان سے الفاظ مذکورہ کہے اور ان سے معنی صحیح مراد لئے یعنی پہلی تنخواہ عزوجل کے نام پر تصدق کروں گا اور اس کا ثواب حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کے نذر کروں گا، یا پہلی تنخواہ عزوجل کے لئے فقراء آستانہ پاک حضرت مخدوم رضی تعالٰی عنہ دوں گا، یہ نذر صحیح شرعی ہے، اور استحساناً وجوب ہو گیا، پہلی تنخواہ اسے فقراء پر تصدق کرنی لازم ہوگئی۔ “ (فتاوٰی رضویہ، جلد 13، صفحہ 590، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

”اعتبر ‌الفقهاء في صيغة النذر أن تكون باللفظ ممن يتأتى منهم التعبير به، وأن يكون هذا اللفظ مشعرا بالالتزام بالمنذور، وذلك لأن المعول عليه في النذر هو اللفظ، إذ هو السبب الشرعي الناقل لذلك المندوب المنذور إلى الوجوب بالنذر، فلا يكفي في ذلك النية وحدها بدونه“

ترجمہ: فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے منت کے صیغے (الفاظ) میں اس چیز کا اعتبار کیا ہے کہ وہ (منت) ایسے الفاظ میں ہو، جو اس شخص کی طرف سے ادا کیے جا سکیں اور وہ  لفظ، منت مانی گئی چیز کے التزام پر دلالت کرتے ہوں، کیونکہ منت میں اصل اعتبار الفاظ کا ہوتا ہے، کہ یہی اس کا شرعی سبب ہیں، جو منت مانی گئی مستحب چیز کو منت کے ذریعے واجب بنا دیتے ہیں۔ لہٰذا صرف الفاظ کے بغیر محض نیت کرنا، منت کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، جلد 40، صفحہ 140، دارالسلاسل الكويت)

نیکی کا عزم کرنے کے بعد بلا وجہ اس سے پھرنا نہیں چاہیے، چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ایک سوال ہوا کہ ایک شخص کی گائے جنی تو انہوں نے کہا کہ یہ بچھیا پال کر ننھی کو دینگے، اب وہ سال بھر کی ہوئی، بہت خوب و مرغوب، دیکھ کر بے ساختہ کہا کہ ﷲ کی نذر کریں گے، ننھی کو دینا یا د نہ رہا، نذر ہوئی یا نہیں؟

تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”اس لفظ سے کہ ''ﷲ کی نذر کریں گے'' نذر نہ ہوئی محض وعدہ ہوا، مگر ﷲ عزوجل سے جو وعدہ کیا اس سے پھرنا بھی ہرگز نہ چاہئے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد  13، صفحہ 581، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

صدقہ کی وہ صورت جس میں دوام(ہمیشگی/تسلسل) ہو، بہتر اور افضل ہے، چنانچہ فتاوی رضویہ میں قاضی خان کے حوالے سے لکھا ہے:

” رجل جاء الی المفتی واراد ان یتقرب الی اﷲ تعالٰی بدارہ فسأل ابیعھا و اتصدق بثمنھا او اشتری بثمنھا عبیدا فاعتقھم او اجعلھا دارالمسلمین ای ذٰلک یکون افضل، قالوا یقال لہ ان بنیت رباطا وتجعل لہا وقفا ومستغلا لعمارتھا فالرباط افضل فانہ ادوم واعم نفعا، وان لم تجعل للرباط مستغلا للعمارۃ فالافضل ان تبیع و تتصدق بثمنہ علی المساکین“

 ترجمہ: ایک مفتی کے پاس ایسا شخص آیا جو اپنے گھر کے ذریعے ﷲ تعالٰی کا قرب حاصل کرنے کا ارادہ رکھتاہے، اس نے کہا کہ میں اس کو فروخت کرکے اس کا ثمن (قیمت) صدقہ کروں یا اس  سے غلام خرید کر آزاد کروں یا اس کو مسلمانوں کے لئے گھر کردوں ؟ ان میں سے کیا افضل ہے؟ تو مشائخ نے فرمایا کہ اس کو یہ جواب دیا جائے گا کہ اگر تو رباط بنا کر اس کی آمدنی کے لئے کوئی شے وقف کردے تو رباط افضل ہے، کیونکہ اس میں زیادہ دوام (ہمیشگی) اور  نفع زیادہ عام ہے، اور اگر تو رباط کی آمدنی کے لئے کوئی چیز وقف نہ کر سکے تو پھر اس کو فروخت کرکے ثمن مسکینوں پر صدقہ کرنا افضل ہے۔“ (فتاوی قاضی خان، جلد 03، صفحہ 178، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)  (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 627، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0193
تاریخ اجراء: 15 رجب المرجب 1447 ھ/05جنوری 2025 ء