logo logo
AI Search

مہمان کا صدقہ فطر میزبان پر ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عید کے موقع پر مہمان کا صدقۂ فطر کس پر واجب ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عید کے قریب مہمان آئے، تو مہمان کا صدقۂ فطر بھی میزبان کے ذمہ لازم ہوتا ہے، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

صدقۂ فطر ہر آزاد، مسلمان، مالکِ نصاب (یعنی جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی چاندی کی مالیت کے بقدر رقم یا کوئی سامان حاجتِ اصلیہ اور قرض کے علاوہ موجود ہو، اس) پر عید الفطر کی صبحِ صادق طلوع ہوتے ہی واجب ہو جاتا ہے اور ہر مالکِ نصاب کا فطرانہ اُسی پر واجب ہوتا ہے، دوسرے پر نہیں؛ حتی کہ نابالغ بچہ بھی صاحبِ نصاب ہو، تو اسی کے مال سے ادا کیا جائے گا، یونہی مہمان مالکِ نصاب ہے، تو اس کا صدقۂ فطر بھی اُسی پر واجب ہو گا، میزبان پر نہیں، البتہ اگر میزبان خود ادا کرنا چاہے، تو مہمان کی اجازت سے اس کی طرف سے ادا کرنے میں حرج بھی نہیں۔

صدقہ فطر کے متعلق صحیح بخاری، سنن نسائی اور دیگر کتب احادیث میں ہے:

و النظم للثانی: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرض صدقۃ الفطر علی الصغیر و الکبیر و الحر و العبد و الذکر و الانثی، نصف صاع من بر او صاعاً من تمر او شعیر

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے، بڑے؛ آزاد، غلام اور مرد و عورت پر صدقہ فطر نصف صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جَو فرض کیا ہے۔(سنن نسائی، کتاب صلاۃ العیدین، باب حث الامام علی الصدقۃ فی الخطبۃ، جلد 1، صفحہ 234، مکتبہ رحمانیہ، کوئٹہ)

ہر مسلمان، مالکِ نصاب پر واجب ہے۔ تنویر الابصار اور درمختار میں ہے:

(تجب علی کل) حر (مسلم،ذی نصاب فاضل عن حاجتہ الاصلیۃ) کدینہ و حوائج عیالہ (و ان لم ینم)۔۔ عن نفسہ و طفلہ الفقیر

ترجمہ: صدقہ فطر، ہر آزاد، مسلمان کہ جو حاجت اصلیہ مثلاً دین اور عیال کی ضروریات سے فارغ نصاب، اگرچہ وہ، نامی نہ ہو، اس کا مالک ہو، اس پراپنا اور نابالغ بچے کی طرف سے واجب ہے۔ و طفلہ الفقیر کے تحت رد المحتار میں ہے:

قید بہ، لان الغنی تجب صدقۃ فطرہ فی مالہ

ترجمہ: فقیر کی قید اس لئے لگائی، کیونکہ بچہ غنی ہو، تو اس کے مال کی وجہ سے اسی پر صدقہ فطر واجب ہو گا۔ (ملخصاً از تنویر الابصارمع در مختار، جلد 3، صفحہ 362 تا 365، مطبوعہ کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے: مردمالکِ نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنے چھوٹے بچہ کی طرف سے واجب ہے، جبکہ بچہ خود مالکِ نصاب نہ ہو، ورنہ اس کا صدقہ اسی کے مال سے ادا کیا جائے،۔۔۔ ماں باپ، دادا دادی، نابالغ بھائی اور دیگر رشتہ داروں کا فطرہ اس کے ذمہ نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 5، صفحہ 936، 938، مکتبۃ المدینہ کراچی)

مہمان کا فطرانہ میزبان پر لازم نہیں۔ فتاوی رضویہ میں ہے: مہمان کا صدقہ میزبان پر نہیں، وہ اگر صاحبِ نصاب ہیں، اپنا صدقہ آپ دیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 296، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نوٹ: نابالغ بچہ صاحب نصاب ہو تو اسی کے مال سے اس کا صدقہ فطر ادا کیا جائے گا لیکن صاحبِ نصاب نہ ہو تو پھر اس کا غنی باپ ہی اس کی طرف سے صدقہ فطر دے گا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7197
تاریخ اجراء: 22 رمضان المبارک1444ھ / 13 اپریل 2023ء