logo logo
AI Search

دکان کے نفع میں سے سید کو دینا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دکان سے حاصل ہونے والے نفع سے سادات کو حصہ دینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا ایک سوال ہے، میری دکان ہے، جس میں جو بھی نفع ہوتا ہے، اس میں کچھ حصہ نیک کام کے لیے رکھ دیتا ہوں، کیا اسی حصے میں سے سادات کو دے سکتے ہیں ؟

جواب

آپ جو مال نیک کاموں کے لئے الگ کر کے رکھتے ہیں، اس کی حیثیت نفلی صدقے کی ہے، اور سادات کرام کو نفلی صدقات میں سے دینا جائز ہے۔ سادات کرام کو صرف صدقات واجبہ (یعنی زکوۃ، عشر اور کفاروں وغیرہ) میں سے دینے کی ممانعت ہے۔ لہذا سادات کرام کو دکان کے نفع میں سے دینا جائز، بلکہ عظیم کار ثواب ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے "ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم .... ‌هذا ‌في ‌الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم" ترجمہ: بنی ہاشم یعنی آلِ علی، آلِ عباس، آلِ جعفر، آلِ عقیل اور آلِ حارث بن عبد المطلب کو زکوۃ نہیں دی جا سکتی جیسا کہ ہدایہ میں ہے۔ بنی ہاشم کے علاوہ دیگر کو دی جا سکتی ہے۔ یہ حکم صدقات واجبہ کا ہے، جیسے زکوۃ، نذر عشر اور کفارہ۔ البتہ نفلی صدقات میں انھیں دینا جائز ہے۔ (فتاوى عالمگیری، جلد 01، صفحہ 189، دار الفکر، بیروت)

البحر الرائق میں ہے "النفل ‌يجوز ‌للغني كما للهاشمي" ترجمہ: نفلی صدقہ غنی کے لئے جائز ہے جیسے ہاشمی کے لئے جائز ہے۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، جلد 02، صفحہ 263، دار الكتاب الإسلامي، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5036
تاریخ اجراء: 06 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 23 مئی 2026ء