logo logo
AI Search

مسجد میں نفلی صدقہ دینے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسجد کو نفلی صدقہ دینا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ہم عام دنوں میں جو صدقہ دیتے ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں آنے والی مصیبتوں سے محفوظ رکھے، یعنی کسی مصیبت کے آنے سے پہلے ہی نفلی صدقہ کیا جاتا ہے، تو یہ جو نفلی صدقہ ہم دیتے ہیں، کیا اسے مسجد میں بھی دیا جا سکتا ہے؟ رہنمائی فرما دیں۔

جواب

مسجد میں نفلی صدقہ دینا، جائز اور اجر و ثواب کا باعث ہے، کہ صدقۂ نافلہ میں تملیکِ فقیر یعنی شرعی فقیر کو مالک بنانا ضروری نہیں ہوتا، صدقۂ نافلہ ہر کارِ خیر، جیسے مسجد و مدرسہ وغیرہ سب میں دے سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ بڑے ثواب کا کام ہے۔

فتاوی رضویہ میں ہے ”چَرمِ قربانی (قربانی کے جانور کی کھال) کا تصدق اصلاً واجب نہیں، ایک صدقہ نافلہ ہے، اس میں اشتراطِ تملیک کہاں سے آیا، بلکہ ہر قربت جائز ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 488، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نفلی صدقہ بغیر حیلہ شرعی ہر نیک کام میں خرچ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ فتاوی بحر العلوم میں ہے ”صدقات نافلہ، جیسے چرم قربانی، چندہ، ہدیہ وغیرہ کو کسی امر خیر میں صرف کرنے کے لیے حیلہ کرنے کی ضرورت نہیں، وہ براہ راست بھی تمام مصارف میں خرچ ہو سکتا ہے۔“ (فتاوی بحر العلوم، جلد 2، صفحہ 207، 208، شبیر برادرز، لاپور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5024
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء