logo logo
AI Search

فدیہ کی رقم مدرسے کی تعمیر میں خرچ کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فدیے کی رقم مدرسے کی تعمیر میں دینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا فدیہ کی رقم مدرسے کی تعمیر میں دے سکتے ہیں؟

جواب

فدیے کی رقم براہِ راست مدرسے کی تعمیر میں دینا جائز نہیں؛ کیونکہ اس کے مصارف وہی ہیں، جو زکاۃ، فطرہ وغیرہ صدقات واجبہ کے ہیں، اور اس میں کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو رقم یا سامان کا مالک بنانا ضروری ہوتا ہے، جبکہ مدرسے کی عمارت یا تعمیراتی کام میں تملیک نہیں پائی جاتی۔ البتہ! اگر کسی مدرسے میں مستحقِ زکوٰۃ طلبہ موجود ہوں، تو فدیہ کی رقم اُن طلبہ کویاان کے وکیل کو مالک بنا کر دی جا سکتی ہے۔
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا: (میت کی طرف سے ادا کیے جانے والے فدیے) اس کے مستحق کون کون اشخاص ہیں ؟ سیّد کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟ اقربا میں جو لوگ غریب ہیں ان کو دینے کا حکم ہے یا نہیں ؟ گھر کے نوکر چاکر کو اگر دیں اور مشاہرہ یا کھانے میں وضع نہ کریں تو جائز ہے یا نہیں؟

آپ علیہ الرحمۃ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: ”مصرف اس کا مثل مصرفِ صدقہ فطر و کفارہ یمین و سائر کفارات و صدقات واجبہ ہے بلکہ کسی ہاشمی مثلاً شیخ علوی یا عباسی کو بھی نہیں دے سکتے۔ غنی یا غنی مرد کے نابالغ فقیر بچے کو نہیں دے سکتے کافر کو نہیں دے سکتے، جو صاحبِ فدیہ کی اولاد میں ہے جیسے بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی، یا صاحبِ فدیہ جس کی اولاد میں ہے جیسے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی، انہیں نہیں دے سکتے، اور اقربا مثلاً بہن بھائی، چچا، ماموں خالہ، پھوپھی، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا، بھانجی، ان کو دے سکتے ہیں جبکہ اور موانع نہ ہوں، یونہی نوکروں کو جبکہ اجرت میں محسوب نہ کریں۔۔۔۔صدقاتِ واجبہ زوجین کو بھی نہیں دے سکتے۔ اقول: فدیہ نماز و روزہ جب بعد مرگ دیا جائے تو مقتضائے نظر فقہی یہ ہے کہ زوجہ کا فدیہ شوہر فقیر کو فورا اور شوہر کا زوجہ فقیرہ کو بعد عدت گزرنے کے دینا جائز ہو کہ اب زوجیت نہ رہی اور شوہر زوجہ کے مرتے ہی اجنبی ہو جاتا ہے ولہذا اسے مَس جائز نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 524 تا 529، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5034
تاریخ اجراء: 06 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 23 مئی 2026ء