logo logo
AI Search

صدقہ باکس کی رقم کب ادا شمار ہوتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صدقہ کی نیت سے گھر میں الگ رکھے گئے پیسوں کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہم جو صدقہ نکالتے ہیں، اور اسے گھر میں رکھے ہوئے صدقہ باکس میں ڈالتے ہیں، اور مہینہ پورا ہونے کے بعد وہ رقم (کسی ادارے یا مستحق کو) دیتے ہیں، تو کیا یہ بات درست ہے کہ جب تک وہ رقم مستحق تک نہ پہنچے صدقہ ادا نہیں ہوتا۔؟

جواب

صدقے کی نیت سے رقم الگ کر کے صدقہ بکس میں ڈالنا، یہ ثواب کا کام ہے؛ کہ یہ صدقہ کرنے کی نیت ہے، اور نیکی کی نیت و ارادہ بھی نیکی اور باعثِ ثواب ہے، البتہ! یہ بات اپنی جگہ درست ہے، کہ جب تک یہ رقم اس مقام پر نہ پہنچ جائے، جس کے لیے صدقہ کی ہے، تو یہ صدقہ شمار نہیں ہوگی، کیونکہ جب تک پیسے مطلوبہ مَصرف خیر تک نہ پہنچ جائیں، اس وقت تک بندے کی ملکیت سے نہیں نکلتے، جیسا کہ فقہائے کرام نے زکوٰۃ کے متعلق بیان کیا ہے، کہ زکوٰۃ کی رقم محض اپنے مال سے الگ کرلینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، جب تک وہ رقم کسی مستحق کی ملکیت میں نہ دے دی جائے، یہی وجہ ہے کہ اگر وہ پیسے فقیر کو دینے سے پہلے ضائع ہوجائیں، تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، اور فقیر کو دینے سے پہلے وہ شخص مرجائے، تو ان پیسوں میں وراثت جاری ہوتی ہے۔

صحیح بخاری شریف کی روایت میں ہے "من هم بحسنة فلم يعملها كتبها اللہ له عنده حسنة كاملة" ترجمہ: جو کسی نیکی کا ارادہ کرے، لیکن کر نہ سکے، تو اللہ تعالی اپنے ہاں اس کے لیے ایک مکمل نیکی لکھ دیتاہے۔ (صحیح البخاری، جلد 5، صفحہ 2380، رقم الحدیث 6126، دار ابن کثیر، دمشق)

زکوۃ کی رقم صرف الگ کر دینے سے ادا نہ ہونے کے متعلق در مختارمیں ہے"و لا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء" ترجمہ: مال کو صرف الگ کردینے سے وہ شخص بری الذمہ نہیں ہوگا (یعنی زکوۃ ادانہیں ہوگی) بلکہ فقراء کو مالک بنا نے کے ساتھ بری الذمہ ہوگا۔ مذکورہ بالا عبارت کے تحت علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ’’فلو ضاعت لا تسقط عنہ الزکاۃ و لو مات کانت میراثا عنہ‘‘ ترجمہ: پس اگر وہ مال ضائع ہوگیا، تو زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگی، اور اگر وہ مرگیا، تو وہ مال اس کی میراث ہوگا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزکوۃ، جلد 3، صفحہ 225، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4936
تاریخ اجراء: 04 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 22 اپریل 2026ء