بغیر بتائے صدقہ دینے سے صدقہ ادا ہوجائیگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بغیر بتائے صدقہ دینے سے ادا ہو جاتا ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی صدقہ دیتا ہے اور نہیں بتاتا کہ میں نے آپ کو صدقہ دیا ہے تو کیا اس کا صدقہ ادا ہو جائے گا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں صدقہ بغیر بتائے دینے سے ادا ہو جاتا ہے؛ کیونکہ شرعاً دینے والے کی نیت کا اعتبار ہے، لینے والے کو بتانا یا اس کا جاننا اصلاً معتبر نہیں۔ یہاں تک کہ مستحقِ زکوٰۃ کو تحفہ کہہ کر رقم دی اور نیت زکوٰۃ کی ادائیگی کی تھی تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، یہی حکم صدقۂ نافلہ کا ہے، بلکہ اگر اندیشہ ہو کہ حاجت مند شخص صدقہ کہنے سے نہیں لے گا یا اذیت محسوس کرے گا تو اسے بغیر بتائے دینا ہی افضل ہے۔ تاہم صدقۂ واجبہ ادا کرنے سے پہلے مستحق ہونے کی تسلی کر لی جائے۔
علامہ عبد الرحمٰن بن محمد شیخی زاده داماد آفندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1078ھ/1667ء) لکھتے ہیں:
ان العبرة لنية الدافع لا لعلم المدفوع إليه
ترجمہ: اعتبار دینے والے کی نیت کا ہے، نہ کہ جس کو دیا گیا اس کے جاننے کا۔ (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، كتاب الزكاة، شرط صحة أداء الزكاة، جلد 1، صفحہ 196، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: اصل یہ ہے کہ زکوٰۃ میں نیت شرط ہے، بے اس کے ادا نہیں ہوتی… پھر اس میں اعتبار صرف نیت کا ہے اگرچہ زبان سے کچھ اور اظہار کرے، مثلاً دل میں زکوٰۃ کا ارادہ کیا اور زبان سے ہبہ یا قرض کہہ کر دیا، صحیح مذہب پر زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ شامی میں ہے:
لا اعتبار للتسمیۃ فلو سماھا ھبۃ او قرضا تجزیہ فی الاصح
(یعنی: نام لینے کا کوئی اعتبار نہیں، پس اگر اس مال کو ہبہ یا قرض کا نام دیا تو بھی اصح قول کے مطابق زکوٰۃ ادا ہو جائے گی)۔پھر نیت بھی صرف دینے والے کی ہے، لینے والا کچھ سمجھ کرلے، اس کا علم اصلاً معتبر نہیں… ولہذا اگر عید کے دن اپنے رشتہ داروں کو جنہیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے، کچھ روپیہ عیدی کا نام کرکے دیا اور انہوں نے عیدی ہی سمجھ کر لیا اور اس کے دل میں یہ نیت تھی میں زکوٰۃ دیتا ہوں بلاشبہ ادا ہو جائے گی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 65 - 67، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: زکوٰۃ دینے میں اس کی ضرورت نہیں کہ فقیر کو زکوٰۃ کہہ کر دے، بلکہ صرف نیت زکوٰۃ کافی ہے، یہاں تک کہ اگر ہبہ یا قرض کہہ کر دے اور نیت زکوٰۃ کی ہو ادا ہو گئی۔ یوہیں نذر یا ہدیہ یا پان کھانے یا بچوں کے مٹھائی کھانے یا عیدی کے نام سے دی ادا ہو گئی۔ بعض محتاج ضرورت مند زکوٰۃ کا روپیہ نہیں لینا چاہتے، انہیں زکوٰۃ کہہ کر دیا جائے گا تو نہیں لیں گے، لہذا زکوٰۃ کا لفظ نہ کہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 890، مکتبة المدینہ، کراچی)
علامہ عبد الغنی بن اسماعیل نابلسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1143ھ / 1731ء) لکھتے ہیں:
إذا كان المتصدق عليه يؤذيه ذلك ويكرهه فترك أذى المؤمن أفضل
ترجمہ: جسے صدقہ دیا جائے جب اسے وہ (یعنی برملا بتا کر دینا) اذیت پہنچاتا ہو اور وہ اسے ناپسند کرے تو مومن کی اذیت والی چیز کو ترک کر دینا افضل ہے۔ (الحديقة الندية شرح الطريقة المحمدية، الفصل الثانی فی العلوم المقصودة لغیرها، جلد 2، صفحہ 349، دار الكتب العلمية، بیروت)
مفتی عبد الواجد نیّر قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1439ھ / 2018ء) لکھتے ہیں: وہ حضرات جو مصرف زکوٰۃ ہیں، مگر شرم و غیرت کی وجہ سے لوگوں کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے ... انہیں بجائے زکوٰۃ کے تحفہ تحائف ہی کے نام پر دینا افضل ہے۔ (فتاوی یورپ، صفحہ 284، شبیر برادرز، لاھور)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1108
تاریخ اجراء: 05 رمضان المبارک 1447ھ / 23 فروری 2026ء