صدقے کے پیسوں میں سے پیسے نکال کرخرچ کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
صدقے کے پیسوں سے رقم نکال کر خرچ کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
صدقے کے پیسوں میں سے کچھ پیسے لے سکتے ہیں اور بعد میں وہاں پہ رکھ دیں ایسا کرنا کیسا؟
جواب
اپنی ذاتی رقم محض صدقہ نافلہ کی نیت سے الگ کر کے رکھ دینے سے اس رقم کو صدقہ کرنا لازم نہیں ہوجاتا بلکہ اس رقم کے بدلے کوئی اور رقم بھی صدقہ کی جاسکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ صدقے کے لئے کسی نے رقم دی ہوتووہ رقم امانت ہے اس رقم کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں کہ یہ خیانت ہوگی اور اس صورت میں لازم ہوگا کہ اصل مالک کو وہ رقم بطورِ تاوان واپس کی جائے یا اس سے اجازت لے کر پھر آگے صدقہ کرے اور استعمال کرنے والا گنہگار بھی ہوگاتوبہ بھی لازم ہوگی۔
واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2385
تاریخ اجرا: 11صفرالمظفر1447ھ/06اگست2025ء