لے پالک بچے کا صدقہ فطر کس پر ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لے پالک بیٹے کا فطرانہ کس پر لازم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ایک خالہ زاد بھائی اولاد کی نعمت سے محروم تھے، جس کی وجہ سے میں نے اپنا ایک نابالغ بیٹا انہیں گود دے دیا۔ ان کے مالی حالات کافی نازک ہیں۔ اور میرے اس نابالغ بیٹے کی اپنی ملکیت میں بھی کوئی رقم، مال یا جائیداد وغیرہ موجود نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ شرعی طور پر اس نابالغ بچے کا صدقہ فطر ادا کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا یہ مجھ پر لازم ہے یا میرے خالہ زاد بھائی پر لازم ہوگا۔ یاد رہے کہ میں خود صاحب نصاب ہوں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کے نابالغ بیٹے کا صدقہ فطر آپ کے خالہ زاد بھائی پر لازم نہیں، بلکہ اس کی ادائیگی آپ پر لازم ہے ۔
مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایک شخص پر کسی دوسرے کا صدقہ فطر واجب ہونے کےلیے دو اسباب ہیں: (1) دوسرے شخص پر کامل ولایت حاصل ہو۔ (2) اور اس کا نفقہ بھی لازم ہو۔ اگر دونوں اسباب اکٹھے پائے جائیں، تو دوسرے کا صدقہ فطر لازم ہے، ورنہ نہیں۔ اور پوچھی گئی صورت میں چونکہ لے پالک بچے میں یہ دونوں اسباب ہی نہیں پائے جا رہے کہ نہ تو گود لینے والے کو اس پر کامل ولایت حاصل ہے اور نہ ہی اس کا نفقہ اس پر واجب ہے، بلکہ لے پالک بچہ اپنے حقیقی والد کی ہی اولاد ہے، لہٰذا اس کا صدقہ فطر بھی والد پر لازم ہے۔ ہاں! جب کوئی شخص کسی بچے کو گود لیتا ہے، تو اگرچہ اس بچہ کی پرورش، تعلیم و تربیت اور ضروریاتِ زندگی کا اہتمام اس پر واجب نہیں ہوتا، لیکن پھر بھی وہ اپنی استطاعت کے مطابق ان چیزوں کا پورا اہتمام کرتا ہے، لہٰذا آپ کاخالہ زاد بھائی لے پالک بچہ کی دیگر ضروریات کے ساتھ اس کا صدقہ فطر بھی اداکردے، تو حرج نہیں۔
کسی دوسرے کا صدقہ فطر واجب ہونے کے دو اسباب ہیں ،چنانچہ امام کمال الدین ابنِ ھُمَّام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 861ھ / 1456ء) لکھتےہیں:
(قوله والسبب رأس يمونه ويلي عليه) ۔۔۔فإنه لا يجب على الإنسان بسبب عبد غيره وولده
ترجمہ : مصنف کا قول: اور (صدقہ فطر کا) سبب ایسا شخص ہے جس کا نفقہ اور ولایت اس (اداکرنے والے) پر ہو۔ لہذا انسان پر کسی دوسرے کے غلام اور اس کی اولاد کا (صدقہ فطر) واجب نہیں ہوتا۔ (فتح القدیر ، جلد 2، صفحہ 288، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
الأصل ان صدقة الفطر متعلقة بالولاية و المؤنة فكل من كان عليه ولايته، و مؤنته و نفقته فإنه تجب عليه صدقة الفطر فيه، و إلا فلا
ترجمہ: اصول یہ ہے کہ صدقہ فطر ولایت اور نفقہ کے ساتھ متعلق ہے، تو جس شخص پر کسی کی ولایت اور نفقہ لازم ہو، تو اس پر اس (ماتحت) کا صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہوگا، ورنہ نہیں۔ (فتاوی عالمگیر ی، جلد 1، صفحہ 193، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
لے پالک بچہ پر ولایت کاملہ کا نہ ہونا تو واضح ہے اور نفقہ اس لیے واجب نہیں کہ شریعتِ مطہرہ میں کسی دوسرے فرد کا نفقہ واجب ہونے کے لیے شرعی اسباب (زوجیت، نسب اور ملکیت) کا ہونا ضروری ہے۔ چونکہ لے پالک بچہ ان تینوں اسباب میں سے کسی میں بھی داخل نہیں ہے، اس لیے اس کا نفقہ گود لینے والے پر شرعاً واجب نہیں۔ چنانچہ نفقہ واجب ہونے کے اسباب بیان کرتے ہوئے علامہ زَبِیدی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 800ھ / 1397ء) لکھتے ہیں:
تجب النفقة على الإنسان بثلاثة أنواع بالزوجية والنسب والملك
ترجمہ: انسان پر (دوسرے کا) نفقہ تین وجوہات کی بنا پر واجب ہوتا ہے: زوجیت (بیوی ہونا)، نسب اور ملک (غلام وغیرہ کا مالک ہونا)۔ (الجوھرۃ النیرۃ ، جلد 2، صفحہ 262، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
لے پالک بچہ کا تعلق اپنے حقیقی والد سے ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ اسی کی اولاد رہتا ہے، جیساکہ فتاوی رضویہ میں ہے:پسرخواندہ نہ چنیں کس راپسرمی شود نہ خود بے علاقہ ازپدر۔ ان الحقائق لاتتغیّرترجمہ: منہ بولا بیٹا نہ ایسے شخص کا بیٹا ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے باپ سے بے تعلق کیونکہ حقیقتوں میں تغیر نہیں ہوتا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 26، صفحہ 178، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
گود لینے والا اس بچے کی دیگر ضروریات پوری کرنے کے ساتھ اس کا صدقہ فطر بھی ادا کردے تو اس میں حرج نہیں، جیساکہ رد المحتار میں ہے:
قال في البحر: و ظاهر الظهيرية انه لو ادى عمن في عياله بغير امره جاز مطلقا بغير تقييد بالزوجة و الولد
یعنی بحر میں فرمایا: اور ظہیریہ کا ظاہر یہ ہے کہ اگر کسی نے ایسے شخص کا صدقہ فطر ادا کر دیا جو اس کی پرورش میں تھا، جب کہ اس نے اس کو کہا نہیں تھا، تب بھی مطلقاً جائز ہے، اس میں زوجہ و بیٹے کی قید نہیں ہے۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 370، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے: قربانی و صدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے، تو بلا اجازت نا ممکن ہے، ہاں اجازت کے لئے صراحۃً ہونا ضرور نہیں، دلالت کافی ہے، مثلاً :زید اس کے عیال میں ہے، اس کا کھانا پہننا سب اس کے پاس سے ہونا ہے یا یہ اس کا وکیلِ مطلق ہے، اس کے کاروبار یہ کیا کرتا ہے ، ان صورتوں میں ادائیگی ہوجائے گی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 453، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9860
تاریخ اجراء: 23 رمضان المبارک 1447ھ / 13مارچ 2026