ایک فقیر کو کئی قسموں کے کفارے دے سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایک فقیرِ شرعی کو ایک سے زائد قسموں کے کفارے دینے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ قسم کے کفارے میں ایک فقیرِ شرعی کو ایک دن میں ایک ساتھ ایک ہی صدقۂ فطر کی مقدار دی جا سکتی ہے، اس سے زیادہ دینا درست نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص پر ایک سے زائد قسم کے کفارے لازم ہوں، تو کیا ایک ہی دن میں ایک ہی فقیرِ شرعی کو ہر کفارے کے بدلے علیحدہ علیحدہ صدقۂ فطر دیا جا سکتا ہے؟ یعنی ایک فقیر کو پہلے کفارے کا صدقۂ فطر دینے کے بعد، اسی دن دوسرے کفارے کی نیت سے دوسرا صدقۂ فطر بھی دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
جی ہاں! اگر کسی شخص پر ایک سے زائد قسم کے کفارے لازم ہوں تو وہ ایک ہی شرعی فقیر کو ایک ہی دن میں ایک کفارے کی نیت سے صدقۂ فطر ادا کرنے کے بعد، اسی فقیر کو اسی دن دوسرے کفارے کا صدقۂ فطر بھی دے سکتا ہے، بشرطیکہ ہر کفارے کا صدقۂ فطر علیحدہ علیحدہ دے۔ اگر دونوں کفاروں کا صدقۂ فطر ایک ساتھ ادا کرے گا، تو صرف ایک کفارے کی ادائیگی شمار ہوگی۔ البتہ جب وہ ہر کفارے کا صدقۂ فطر علیحدہ علیحدہ دے گا، تو ہر کفارے کی ادائیگی شرعاً صحیح اور معتبر ہوگی۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ 2026ء