صدقہ بکس کی رقم دوسرے نیک کام میں لگانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
گھریلو صدقہ بکس کی رقم کو دیگر نیک کاموں میں خرچ کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ صدقہ بکس میں رقم ڈالی، لیکن وہ رقم ابھی گھر میں ہی ہے تو کیا اس رقم کو کسی دوسرے نیک کام جیسے جامعۃ المدینہ کی سجاوٹ وغیرہ میں لگا سکتے ہیں؟
جواب
گھروں میں صدقہ کے لیے رکھے بکس میں رقم ڈال دینے سے وہ رقم مالک کی ملکیت سے خارج نہیں ہوتی، بلکہ یہ صرف صدقہ کرنے کی نیت اور ارادہ ہوتا ہے، لہذا ایسی رقم کو کسی دوسرے نیک کام، مثلاً جامعۃ المدینہ کی سجاوٹ وغیرہ میں خرچ کرنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم اگر مالی گنجائش ہو تو بہتر یہ ہے کہ صدقہ بکس کی رقم کو اُسی مقصد کے لیے باقی رکھا جائے جس نیت سے اُسے رکھا گیا تھا، اور دیگر نیک کاموں کے لیے الگ سے خرچ کیا جائے تاکہ پہلی نیت بھی برقرار رہے اور اُس پر بھی عمل ہو سکے لیکن اگر ایسا نہ کیا اور وہی رقم کسی دوسرے نیک کام میں خرچ کردی، تو بھی کوئی گناہ نہیں۔
گھروں میں رکھے صدقہ بکس میں رقم ڈالنے سے وہ رقم صدقہ نہیں ہوجاتی جیسا کہ زکوٰۃ کی رقم محض اپنے مال سے الگ کرلینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، چنانچہ در مختار مع رد المحتار میں ہے ’’(و لا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء) فلو ضاعت لا تسقط عنه الزكاة و لو مات كانت ميراثا عنه‘‘ ترجمہ: مال کو (بنیتِ زکوۃ) الگ کردینے سے برئ الذمہ نہیں ہوگا بلکہ فقراء کو مالک بنا کر برئ الذمہ ہوگا، لہذ اگر زکوۃ کی رقم ضائع ہوگئی تو زکوۃ ساقط نہ ہوگی اور اگر مرگیا تو (چونکہ یہ رقم اس کی ملکیت سے خارج نہیں ہوئی تھی لہذا) یہ اس کی طرف سے میراث بن جائے گی۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 3، کتاب الزکوۃ، صفحہ 225، دار المعرفۃ، بیروت)
نہرالفائق میں ہے: ’’لا یخرج بالعز ل عن العھدۃ بل لابد من التصدق بہ حتی لو ضاعت لم تسقط عنہ کذا فی الخانیۃ‘‘ ترجمہ: زکوۃ الگ کرنے سے ذمہ داری سے خارج نہیں ہوتا، بلکہ اس کا صدقہ کرنا ضروری ہے، یہاں تک کہ اگر وہ ضائع ہوگئی تو زکوۃ ساقط نہیں ہوگی، اسی طرح "خانیہ" میں مذکور ہے۔ (النھر الفائق، جلد 1، صفحہ 419، دار الكتب العلمية، بیروت)
گھر میں رکھے صدقہ بکس میں ڈالی گئی رقم کو کسی دوسرے نیک کام میں خرچ کیا جاسکتا ہے، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سائل نے کاروبار کے نفع کا کچھ حصہ حضرت سیدنا عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام بطورِ تبرک مقرر کیا تھا، جو اب جمع ہو چکا ہے مگر پہلے سے یہ طے نہیں تھا کہ اسے کس نیک کام میں خرچ کیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ جمع شدہ رقم مسجد کی مرمت اور دیگر دینی مصارف میں خرچ کی جا سکتی ہے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: نیت کرنے والوں کو مولی تعالی جزائے خیر دے۔ بہت محمود (اچھی) نیت ہے اور ہر دینی مصرف میں اسے صرف کرسکتے ہیں۔ مسجد ویران کی آبادی نہایت اہم کام ہے اس میں صرف کرنا مقدم ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 582، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہتر یہ ہے کہ صدقہ بکس کی رقم کو اسی مقصد میں خرچ کرے اور دوسرے نیک کام کیلئے الگ سے رقم دے تا کہ پہلی نیت پر بھی عمل ہوسکے، جیساکہ سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: جو نیت اللہ عزوجل کے لئے (ہو) اس کا پورا کرنا ہی چاہیئے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 594، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نوٹ: گھریلو صدقہ باکس میں ایک چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ تمام رقم اپنی ذاتی ہو تو اوپر والا حکم لاگو ہوگا لیکن اگر اس میں دوسروں نے رقم ڈالی ہو خواہ گھر کے افراد ہوں یا باہر سے آنے والا کوئی مہمان تو ایسی صورت میں جس جس کی رقم ہے، اس کی نیت کے مطابق یا اس کی اجازت لے کر خرچ کرنا ہی ضروری ہوگا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1154
تاریخ اجراء: 21 شوال المکرم 1447ھ / 10 اپریل 2026ء