logo logo
AI Search

والدین کا فطرانہ دینا اولاد پر لازم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا والدین کا فطرانہ ادا کرنا اولاد پر لازم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا بوڑھے ماں باپ کا فطرانہ بھی اولاد پر ادا کرنا ضروری ہوگا؟

جواب

بوڑھے والدین کے پاس خواہ مال ہو یا نہ ہو، اولاد پر ان کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا لازم نہیں ہوتا، ہاں! اگر والدین کے پاس حاجات اصلیہ اور قرض کے علاوہ نصاب کی بقدر مال ہونے کی وجہ سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہو، اور اولاد اپنے والدین کی طرف سے ان کی اجازت کے ساتھ صدقہ فطر ادا کردے، تو ادا ہو جائے گا، لیکن یہ یاد رہے کہ اس میں والدین کی اجازت کا ہونا ضروری ہے۔

علامہ ابو بکر بن علی الحدادی الزبیدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 800ھ / 1397ء) لکھتے ہیں: ”و لا يلزم الرجل الفطرة عن أبيه و أمه و إن كانا في عياله لأنه لا ولاية له عليهما كأولاده الكبار“ ترجمہ: آدمی پر اپنے باپ اور اپنی ماں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا لازم نہیں، اگرچہ وہ دونوں اس کے زیرِ کفالت ہوں؛ کیونکہ اسے ان پر ولایت نہیں، جیسا کہ اس کی بالغ اولاد (کا حکم) ہے۔ (الجوهرة النيرة، كتاب الزكاة، باب صدقة الفطر، جلد 1، صفحہ 133، المطبعة الخيرية)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) تحریر فرماتے ہیں: اگر بالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر یا اس کی زکوٰۃ ماں باپ نے اپنے مال سے ادا کردی یا ماں باپ کی طرف سے اولاد نے اور اصل جس پر حکم ہے اس کی اجازت نہ ہوئی تو ادا نہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4945
تاریخ اجراء: 12 شوال المکرم 1447ھ / 01 اپریل 2026ء