صدقہ ایک بار میں کریں یا تھوڑا تھوڑا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کسی کے پاس رقم ہو، تو وہ ایک ساتھ صدقہ کرے یا تھوڑی تھوڑی کر کے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کسی شخص کے پاس تین سو روپے ہیں، وہ صدقہ کرنا چاہتا ہے، تو کیا ایک ساتھ کرے یا ہر روز دس، دس روپے نکالتا رہے؟
جواب
اکھٹے بھی صدقہ دے سکتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر بھی۔ تاہم بلاؤں، مصیبتوں سے بچنے کیلئے زیادہ فائدہ مند ہر روز صدقہ دینا ہے۔
شعب الایمان میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا:
بَاکِرُوْا بِالصَّدَقَۃِ فَاِنَّ الْبَلَاءَ لَایَتَخَـطَّی الصَّدَقَۃَ
یعنی صبح سویرے صَدَقہ دِیا کرو کیونکہ بَلا صَدَقہ سے آگے قدم نہیں بڑھاتی۔ (شُعَبُ الايمان، جلد 03، صفحہ 214، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2102
تاریخ اجراء: 02 رجب المرجب 1446ھ / 03 جنوری 2025ء