بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی رشتے دار عورت کو صدقہ فطر کا مستحق سمجھتے ہوئے اپنا اور دوسروں کا بھی فطرانہ دے دیا۔ اب دو سال کے بعد معلوم ہوا کہ جس عورت کو فطرانہ دیا تھا وہ گھریلو آزمائش کی بنا پر بے صبری کر رہی تھیں جبکہ ان کے شوہر کی کمائی اچھی خاصی تھی۔ اس صورت میں کیا فطرانہ ادا ہوگیا یا نہیں؟ اب اس سے فطرانہ واپس مانگ سکتے ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر وہ عورت شرعی فقیر تھی، یا اس وقت ظاہری حالات و قرائن سے غالب گمان یہی ہورہا تھا کہ وہ مستحقِ زکوٰۃ و فطرانہ ہے، تو ا ب اگرچہ اُس کے بارے میں صاحب نصاب ہونا بھی معلوم ہوجائے، بہرحال فطرانہ صحیح ادا ہوجائے گا اور شوہر کے اچھا خاصا کمانے سے فطرے کی ادائیگی پر کوئی اثرنہیں پڑے گا اور نہ ہی عورت کے شرعی فقیر ہونے کی صورت میں یہ اُسے شرعی فقیر ہونے سے خارج کرے گا، کیونکہ اگر شوہر صاحب نصاب بھی ہو تو بیوی صاحب نصاب نہیں ہوتی، بلکہ اگر وہ شرعی فقیر ہو تو اسے زکوۃ و فطرانہ دینا شرعاً جائز ہوتا ہے۔ یہی معاملہ شوہر کا بھی ہے کہ اگر شوہر شرعی فقیر ہواور بیوی صاحب نصاب ہو تو بیوی کے صاحب نصاب ہونے سے شوہر صاحب نصاب شمار نہیں ہوتا۔
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
إذا شك و تحرى فوقع في أكبر رأيه أنه محل الصدقة فدفع إليه أو سأل منه فدفع أو رآه في صف الفقراء فدفع فإن ظهر أنه محل الصدقة جاز بالاجماع، و كذا إن لم يظهر حاله عنده، و أما إذا ظهر أنه غني أو هاشمي۔۔۔فإنه يجوز و تسقط عنه الزكاة في قول أبي حنيفة و محمد رحمهما اللہ تعالیٰ
ترجمہ: جب کسی شخص کو شک ہو اور وہ تحری یعنی سوچ بچار کرے یہاں تک کہ اُسے غالب گمان حاصل ہوجائے کہ یہ شخص زکوۃ کا محل ہے پھر اسے زکوۃ دے، یا اس شخص نے دینے والے سے سوال کیا اور اس نے زکوۃ دے دی، یا پھر اُسے فقیروں کی صف میں کھڑا دیکھا اور زکوٰۃ دے دی۔ تو اگر اس کے بعد معلوم ہوا کہ وہ زکوۃ کا مصرف ہے، تو بالاجماع زکوۃ ادا ہوگئی، اور اسی طرح اگر اُس کی کوئی حالت ظاہر نہ ہوئی تب بھی زکوۃ ادا ہوگئی۔ بہر حال جب بعد میں یہ بات ظاہر ہو کہ یہ شخص تو غنی (صاحب نصاب) یا ہاشمی تھا، تو بھی جائز ہے، اور امام اعظم اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہما کے نزدیک دینے والے سے زکوۃ ساقط ہوجائے گی۔ (الفتاوٰی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، جلد 1، صفحہ 190، دارالفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: جس نے تحری کی یعنی سوچا اور دل میں یہ بات جمی کہ اس کو زکاۃ دے سکتے ہیں اورزکاۃ دے دی بعد میں ظاہر ہوا کہ وہ مصرف زکاۃ ہے، یا کچھ حال نہ کُھلا تو ادا ہوگئی اور اگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غنی تھا یا اُس کے والدین میں کوئی تھا یا اپنی اولاد تھی یا شوہر تھا یا زوجہ تھی یا ہاشمی یا ہاشمی کا غلام تھا یا ذمّی تھا، جب بھی ادا ہوگئی۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 932، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
صاحب نصاب شوہر کی وجہ سے بیوی صاحب نصاب نہیں ہوجائے گی، لہذا اگر صاحب نصاب شوہر کی بیوی شرعی فقیر ہو تو اسے زکوٰۃ، فطرانہ دینا جائز ہوگا، چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:
و لو دفع إلى امرأة فقيرة و زوجها غني جاز في قول أبي حنيفة و محمد و هو إحدى الروايتين عن أبي يوسف
ترجمہ: اور اگر فقیر عورت کو زکوۃ دی اور اس کا شوہر غنی ہے تو امام اعظم اور امام محمد علیہما الرحمۃ کے قول کے مطابق یہ جائز ہے اور یہی امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کی دو روایتوں میں سے ایک روایت ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکاۃ، جلد 2، صفحہ 47، دار الكتب العلمية، بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: عورت اور شوہر کا معاملہ دنیاکے اعتبار سے کتنا ہی ایک ہو مگر اللہ عزّوجل کے حکم میں وُہ جدا جدا ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 168، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1003
تاریخ اجراء: 14 جمادی الاخری 1447ھ / 06 دسمبر 2025ء