logo logo
AI Search

کیا سوتیلی ماں کو صدقہ دیا جا سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سوتیلی ماں کو صدقہ دینے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا سوتیلی ماں کو بیٹی صدقے کے پیسے دے سکتی ہے؟

جواب

سوتیلی ماں ہو یا سوتیلا باپ، انہیں نفلی صدقہ، یونہی صدقات واجبہ جیسے زکوۃ عشر وغیرہ دے سکتے ہیں، البتہ! حقیقی والدین کو صرف نفلی صدقات دے سکتے ہیں، صدقات واجبہ نہیں دے سکتے۔

رد المحتار میں ہے

یجوز دفعھا لزوجۃ ابیہ و ابنہ و زوج ابنتہ

ترجمہ: صدقات واجبہ اپنے باپ کی بیوی (یعنی سوتیلی ماں) کو، شوہر کے بیٹے (یعنی سوتیلے بیٹے) کو، اور اپنی بیٹی کے شوہر (یعنی داماد) کو دینا جائز ہے۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 344، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے اپنی اصل یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی وغیرہم جن کی اولاد میں یہ ہے اور اپنی اولاد بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی وغیرہم کو زکاۃ نہیں دے سکتا۔ یوہیں صدقہ فطر و نذر و کفّارہ بھی انھیں نہیں دے سکتا۔ رہا صدقہ نفل وہ دے سکتا ہے بلکہ بہتر ہے۔۔۔ بہو اور داماد اور سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ یا زوجہ کی اولاد یا شوہر کی اولاد کو دے سکتا ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 927، 928، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-4599

تاریخ اجراء: 11 رجب المرجب 1447ھ / 01 جنوری 2026ء