صدقے کی نیت والی رقم سے فطرہ ادا کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صدقہ کی نیت سے رکھے ہوئے پیسوں کو فطرانہ میں دینے کا ارادہ ہو تو کیا فطرانہ ادا ہو جائے گا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی نے کچھ رقم صدقہ دینے کی نیت سے جمع کر رکھی ہو اور بعد میں یہ ارادہ بنا لے کہ اب یہ رقم فطرانہ کی مد میں ادا کرے گا، کیا اس طرح کرنا درست ہے اور فطرانہ ادا ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
صدقے کی نیت سے رقم الگ کر کے جمع کرنا یہ ثواب کا کام ہے کہ یہ صدقہ کرنے کی نیت ہے اور نیکی کی نیت و ارادہ بھی نیکی اور باعثِ ثواب ہے، البتہ جب تک یہ رقم اس مقام پر نہ پہنچ جائے جس پر صدقہ کی ہے، تویہ صدقہ شمار نہیں ہوگی، کیونکہ جب تک پیسے مطلوبہ مَصرف خیر تک نہ پہنچ جائیں، اس وقت تک بندے کی ملکیت سے نہیں نکلتے، لہذا اگر کسی شخص نے کچھ رقم صدقہ دینے کی نیت سے الگ رکھ دی ہو اور بعد میں وہ یہ ارادہ کر لے کہ یہی رقم صدقۂ فطر (فطرانہ) کی مد میں ادا کر دوں گا، تو شرعاً ایسا کرنا جائز ہے اور شرعا فطرانہ ادا ہو جائے گا۔
مسلم شریف کی روایت میں ہے:
من هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة
ترجمہ: جو کسی نیکی کا ارادہ کرے، لیکن کر نہ سکے، تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث 130، ص 67، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
درمختار میں ہے:
و لا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء
ترجمہ: مال کو صرف الگ کردینے سے وہ شخص بری الذمہ نہیں ہوگا (یعنی مال ملکیت سے خارج نہیں ہو گا) بلکہ فقراء کو مالک بنا نے کے ساتھ بری الذمہ ہوگا (اور وہ مال ملکیت سے نکل جائے گا)۔
مذکورہ بالا عبارت کے تحت علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
فلو ضاعت لاتسقط عنہ الزکاۃ ولو مات کانت میراثا عنہ
ترجمہ: پس اگر وہ مال ضائع ہوگیا، تو زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگی اور اگر وہ مرگیا، تو وہ مال اس کی میراث ہوگا۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 3، ص 225، مطبوعہ کوئٹہ)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4854
تاریخ اجراء: 07 شوّال المکرم 1447ھ / 27 مارچ 2026ء