نماز عید کے بعد فطرانہ ادا کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز عید کے بعد صدقۂ فطر اد اکر سکتے ہیں ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اِس بار نمازِ عید سے پہلے اپنا صدقہ ٔفطر ادا نہیں کیا، بلکہ بعد میں ادا کیا، اب سوال یہ ہے کہ کیا عید کے بعد صدقۂ فطر ادا کرنے سے ادا ہو گیا یا نہیں؟ نیز کیا یوں تاخیر کی بنا پر گناہ ہوا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں بغیر گناہ کے صدقہ ٔفطر ادا ہو گیا، لیکن یوں تاخیر کرنا مکروہِ تنزیہی یعنی شرعاً ناپسندیدہ ہے۔
تفصیل: عید کے دن صبح صادق ہوتے ہی شرائط موجود ہونے کی صورت میں صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے اور سنت یہ ہے کہ نمازِ عید سے پہلے ادا کر دیا جائے، لیکن اگر کسی نے نمازِ عید سے پہلے ادائیگی نہیں کی، تو صدقہ فطر اس کے ذمہ سے ساقط یا معاف نہیں ہوتا، بلکہ جب تک ادا نہ کرے، ادائیگی واجب رہتی ہے کہ اس کا وقت عمر بھر ہے، ہاں! تاخیر کرنا مکروہ تنزیہی ہے، اگرچہ تاخیر کی صورت میں بھی ادائیگی ہو جائے گی۔
صدقۂ فطر عید کے دن صبح صادق ہوتے ہی واجب ہوتا ہے، جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ”وقت الوجوب بعد طلوع الفجر الثاني من يوم الفطر“ ترجمہ: صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا وقت عید کے دن صبح صادق ہونے پر ہے۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
صدقۂ فطر کا وقت عمر بھر ہے، جیسا کہ ”تنویر الابصار ودرِ مختار“ میں ہے: ”(تجب)۔۔۔(موسعا فی العمر) عند اصحابنا وھو الصحیح“ ترجمہ: ہمارے اصحاب کے نزدیک صدقۂ فطر کا وجوب عمر بھر رہتا ہے، (جب بھی ادا ہو، واجب ساقط ہو جائے گا۔) اور یہی صحیح ہے۔ (تنویر الابصار ودر مختار، جلد 3، صفحہ 362، مطبوعہ کوئٹہ)
البتہ نمازِ عید سے پہلے ادا کرنا مسنون ہے، چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”عمر بھر اس کا وقت ہے، یعنی اگر ادا نہ کیا ہو، تو اب ادا کر دے۔ ادا نہ کرنے سے ساقط نہ ہوگا، نہ اب ادا کرنا قضا ہے، بلکہ اب بھی ادا ہی ہے، اگرچہ مسنون قبل نمازِ عید ادا کر دینا ہے۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 935، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
جیسا کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازِ عید سے پہلے ادا کر دیا جائے، چنانچہ ”صحیح البخاری“ میں ہے: ”أمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة“ ترجمہ: حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے صدقۂ فطر ادا کر دیا جائے۔ (صحیح البخاری، جلد 2، صفحہ 130، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)
اِس حدیث مبارک کے تحت نمازِ عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کے مسنون ہونے کے متعلق حضرتِ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول نقل کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ/1451ء) لکھتے ہیں: ”من السنة أن تخرج صدقة الفطر قبل الصلاة“ ترجمہ: سنت یہ ہے کہ صدقۂ فطر نمازِ عید سے پہلے ادا کیا جائے۔ (شرح سنن ابی داؤد، جلد 6، باب متی تؤدی، صفحہ 320، مطبوعہ الریاض)
تاخیر کی صورت میں بھی ساقط نہیں ہوتا، بلکہ تب بھی ذمہ پر واجب رہتا ہے۔ علامہ مَرْغِینانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ/ 1196ء) لکھتے ہیں: ”ان اخروھا عن یوم الفطر لم تسقط وكان عليهم إخراجها“ ترجمہ: اگر صدقۂ فطر کو عید کے دن سے مؤخر کیا، تو وہ ساقط نہیں اور اس کی ادائیگی واجب رہے گی۔ (الھدایۃ، جلد 1، صفحہ 115، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)
اور بعد میں ادا کر دینے سے بھی واجب ادا ہو جاتا ہے، لیکن تاخیر کرنا مکروہ ہے۔ علامہ شُرُنبلالی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1069ھ/ 1658ء) لکھتے ہیں: ”صح لو قدم او اخر والتاخیر مکروہ“ ترجمہ: اگر صدقۂ فطر کی ادائیگی کو مقدم یا مؤخر کیا، تو ادائیگی درست ہے، البتہ تاخیر کرنا مکروہ ہے۔ (مراقی الفلاح، باب صدقہ فطر، صفحہ 365، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مذکورہ کراہت ”تنزیہی“ ہے، چنانچہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارک ”اغنوهم عن المسألة في مثل هذا اليوم“ کے متعلق کلام کرتے ہوئے علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”ان الامر ھنا للندب، فخلافہ لایکرہ تحریماً بل تنزیھاً“ ترجمہ: یہاں حدیثِ مبارک میں امر استحباب کے لیے ہے، لہٰذا اس کا خلاف (کرتے ہوئے تاخیر) کرنا مکروہ تحریمی نہیں، بلکہ تنزیہی ہے۔ (ردالمحتار، جلد 3، صفحہ 378، مطبوعہ کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9964
تاریخ اجراء: 11 ذی القعدۃ 1447 ھ / 29 اپریل 2026 ء