بچوں سے چندہ جمع کروا سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نابالغ بچے سے چندہ جمع کروانا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نابالغ بچے سے چندہ جمع کروانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
نابالغ کی اپنی رقم چندے میں نہیں دی جا سکتی البتہ دوسروں سے چندہ وصول کرنے میں حکم شرعی یہ ہے کہ ایسا نابالغ بچہ جو سمجھ دار ہو یعنی اچھے برے کا اور بات چیت کا فہم رکھتا ہے اور قابل اطمینان ہو کہ پیسوں کی حفاظت اور چندہ کرنے کے شرعی احکام کی پاسداری کر سکے تو اس کے والدین کی اجازت کے ساتھ اس سے کسی کار خیر کے لیے چندہ جمع کروانا شرعاً جائز ہے لیکن ایک دوسرا پہلو پیش نظر رکھنا نہایت ضروری ہے کہ بچوں سے چندہ کروا کر انہیں مدرسے اور دینی تعلیم سے باغی نہ کر دیا جائے، کیونکہ بہت سے بچے مدرسے سے اس لئے بھاگتے ہیں کہ یہ ہم سے چندہ منگواتے ہیں اور انہیں دیکھ کر دوسرے بچے مدرسہ میں داخلہ لینے سے بھاگتے ہیں۔ یہ نہایت اہم قابلِ توجہ پہلو ہے، اس پر ضرور نظر رکھی جائے۔
علامہ فقیہ محمد بن محمود اُستروشنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 632ھ / 1234ء) لکھتے ہیں: ”ولو أن الصبي ... وهب ماله أو تصدق به ... فهذه العقود كلها باطلة لا تتوقف وإن أجازها الصبى بعد البلوغ لا تجوز“ ترجمہ: اگر نابالغ بچہ اپنے مال کو ہبہ کرے یا صدقہ کرے، تو یہ تمام عقود باطل ہیں، (ولی کی اجازت پر) موقوف نہیں ہوں گے اور اگر وہ بچہ بالغ ہونے کے بعد انہیں جائز قرار دے تو بھی یہ جائز نہیں ہوں گے۔ (احكام الصغار، مسائل البیوع، صفحہ 182 ملتقطاً، دار الكتب العلمية، بیروت)
سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”معلموں کی عادت ہے کہ بچے جو اُن کے پاس پڑھنے یا کام سیکھنے آتے ہیں ان سے خدمت لیتے ہیں، یہ بات باپ دادا یا وصی کی اجازت سے جائز ہے، جہاں تک معروف ہے اور اس سے بچے کے ضرر کا اندیشہ نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 2، صفحہ 527، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: ”نابالغ بچوں سے ان کی طاقت کے مناسب کام لینے میں حرج نہیں، جبکہ باپ یا ولی کو اعتراض نہیں، جیسا کہ معروف و معتاد ہے۔“ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 58، جامعہ اشرفیہ مبارک پور)
فتاوی بریلی شریف میں سوال ہوا کہ کچھ عالم دین ایک دینی مدرسہ چلاتے ہیں لیکن مدرسہ کے طلبا سے آٹا گھر گھر سے منگواتے ہیں، شریعت کے اعتبار سے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ تو جواباً مذکور ہے: ”گاؤں بلکہ شہر میں بھی ایسا ماحول ہوتا ہے کہ لوگ آٹے کی چٹکی، جسے مٹھیہ بھی کہتے ہیں، روزانہ اپنے گھر کے خرچ سے امدادِ مدرسہ کے لیے نکالتے ہیں جس کو طلبا لے آتے ہیں، وہ جائز و درست ہے، اور چھوٹے بچوں کو اس لیے بھیجتے ہیں کہ وہ گھر میں جا سکتے ہیں۔“ (فتاوی بریلی شریف، صفحہ 399-400، زاویہ پبلشرز، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1151
تاریخ اجراء: 21 شوال المكرم 1447ھ/ 10 اپریل 2026ء