logo logo
AI Search

کام آنے کی نیت سے رکھے ہوئے سامان پر زکوٰۃ کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کام آنے کی نیت سے رکھے ہوئے سامان پر زکوٰۃ کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا ساؤنڈ سسٹم کا کام ہے، جسے کرائے پر دیتے ہیں، اس میں ہم کچھ سامان اضافی رکھتے ہیں کہ اگر ہمیں کبھی ضرورت ہوئی تو استعمال کریں گے، لیکن وہ سامان سال میں ایک آدھ مرتبہ استعمال ہوتا ہے اور کبھی سال سے بھی زائد عرصے تک استعما ل نہیں ہوتا، مگر  اس کو اس نیت سے رکھا ہوا ہے کہ یہ ایمرجنسی یا ضرورت پڑنے پر کام آسکے، تو کیا اس اضافی سامان پر زکوۃ ہوگی ؟

جواب

ایسا سامان چونکہ  بیچنے کی نیت سے نہیں خریدا جاتا، بلکہ فی الحال یا آئندہ اپنے کام میں استعمال میں لانے  کی نیت سے خریداجاتا ہے، تو  یہ مال تجارت  نہیں  بنے گا، اور شرعی اعتبار سے  سونے چاندی اور چرائی  کے جانوروں کے علاوہ  باقی چیزوں پر زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جبکہ وہ تجارت کیلئے ہوں یعنی اُنہیں بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہو، ورنہ جو سامان  تجارت کیلئے نہ ہو تو اس  پر زکوۃ بھی فرض نہیں ہوگی۔ صورت مسئولہ میں وہ اضافی سامان اگرچہ  پورے سال کام نہ آئے  اور اگرچہ  اس کی مالیت ہزاروں  بلکہ لاکھوں میں ہو ، بہر حال اس پر زکوۃ فرض نہیں ہوگی۔

زکوۃ کی شرائط میں سے ایک شرط مال نامی ہونا بھی ہے، چنانچہ فتاو ی عالمگیری میں ہے:

’’ومنھا کون النصاب نامیا‘‘ ترجمہ: زکوۃ کی شرائط میں مال کا نامی ہونا بھی ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ،جلد 1، صفحہ 192، دار الکتب العلمیہ ،بیروت)

مبسوط سرخسی  میں ہے:

’’اللؤلؤ والياقوت والجواهر إذا لم تكن للتجارة فإنه لا زكاة فيها؛ لأن وجوب الزكاة فيها باعتبار معنى النماء، ولا يتحقق ذلك إلا بنية التجارة فيها كسائر العروض‘‘

 ترجمہ: موتی، یاقوت اور جواہرات  جب تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں، کیونکہ ان میں زکوٰۃ کا واجب ہونا نمو کے معنی کے اعتبار سے ہے، اور نمو تجارت کی نیت سے ہی ثابت ہوتا ہے، جیسے دیگر سامان میں ہوتا ہے۔ (مبسوط سرخسی، جلد3، صفحہ37، دار المعرفۃ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے "سونے چاندی میں مطلقاً زکاۃ واجب ہے، جب کہ بقدر نصاب ہوں اگرچہ دفن کر کے رکھے ہوں، تجارت کرے یا نہ کرے اور ان کے علاوہ باقی چیزوں پر زکاۃ اس وقت واجب ہے کہ تجارت کی نیّت ہو یا چرائی پر چھوٹے جانور۔" (بہار شریعت، جلد1، حصہ5، صفحہ882، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3628
تاریخ اجراء: 02 رمضان المبارک 1446ھ/03 مارچ 2025ء