logo logo
AI Search

سودی قرض میں ڈوبے ہوئے شخص کو زکوٰۃ دینے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سودی قرض میں ڈوبے ہوئے شخص کو زکوٰۃ دینا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے  کاروباری معاملات چلانے کے لئے بہت سارا سودی قرضہ لیا ہو ا ہے۔ اب کارو باری نقصان کی وجہ سے اتنا زیادہ سودی قرضہ چڑھ گیا ہے کہ زید کی ملکیت میں جتنا بھی سامان ہے وہ سارا  قرض میں دے دیا جائے، تو زید کا سودی قرض نہیں اتارا جا سکتا۔ پوچھنا یہ ہے کہ  زید کو  زکوۃ دے سکتے ہیں  یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرما دیں۔

جواب

سودی لین دین کرنا، ناجائز و گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، لہٰذا سودی لین دین سے توبہ و استغفار کرنا لازم و ضروری ہے، البتہ جس شخص پر اتنا قرض ہو کہ اُسے ادا کرنے کے بعد اپنی حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ نصاب کا مالک نہ رہے اور وہ  سید یا ہاشمی بھی نہ ہو تو ایسے مقروض شخص کو زکوۃ دی جاسکتی ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں سودی قرض میں ڈوبے ہوئے شخص ، زید کو زکوۃ دینا جائز ہے جبکہ زکوۃ دینے والا، زکوۃ لینے والے کے  اصول و فروع میں سے نہ ہو۔

قرآن پاک میں سود کی حرمت پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

﴿اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-﴾

ترجمہ کنزالایمان: وہ جو سود کھاتے ہیں، قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیا ہو۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے۔ (پارہ 3، سورۃ بقرہ، آیت 275)

اس آیت کی تفسیر میں مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سود کی قباحت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اس آیت میں سود کی حرمت اور سود خوروں کی شامت کا بیان ہے۔ سود کو حرام فرمانے میں بہت حکمتیں ہیں۔ بعض ان میں سے یہ ہیں کہ سود میں جو زیادتی لی جاتی ہے وہ معاوضہ مالیہ میں ایک مقدار مال کا بغیر بدل و عوض کے لینا ہے یہ صریح نا انصافی ہے۔“ (تفسیر خزائن العرفان، صفحہ 96، مکتبۃ المدینہ)

مصارف زکوٰۃ کے بارے اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:

﴿اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴾

ترجمہ کنزالایمان : زکوٰۃ تو اِنہیں لوگوں کے لئے ہے، محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو ۔ یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ  کا اور اللہ  علم و حکمت والا ہے۔ (پارہ 10، سورۃ التوبہ، آیت 60)

الدر المختار مع ردالمحتار میں ہے:

”(ومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) الدفع للمديون اولى منه للفقير ای اولى من الدفع للفقير الغير المديون لزيادة احتياجه“

ترجمہ: مصارف زکوۃ میں سے ایک مقروض بھی ہے (اس سے مراد وہ شخص ہے جو قرض کے علاوہ نصاب کا مالک نہ ہو) مقروض کو دینا محض فقیر کو دینے سے بہتر ہے یعنی ایسا فقیر جو مقروض نہیں اس کی نسبت مقروض فقیر کو دینا زیادہ فضیلت  والا ہے کہ یہ زیادہ ضرورت مند ہے۔ (الدر المختار و ردالمحتار، جلد 2، صفحہ 343، دارالمعرفۃ، بیروت)

  امام اہل سنت اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس پر اتنا دین ہو کہ اُسے ادا کرنے کے بعد اپنی حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ چھپن روپے کے مال کا مالک نہ رہے گا اور وہ ہاشمی نہ ہو، نہ یہ زکوٰۃ دینے والا اس کے اولاد میں ہو، نہ باہم زوج و زوجہ ہوں، اسے زکوٰۃ دینا بیشک جائز بلکہ فقیر کو دینے سے افضل۔ ہر فقیر کو چھپن روپے دفعۃً نہ دینا چاہئیں، اور مدیون پر چھپن ہزار دین ہو تو زکوٰۃ کے چھپن ہزار ایک ساتھ دے سکتے ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 250، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ شریف میں  ایک سوال ہوا : ”زید نے اپنے برادرِ حقیقی یا بہنوئی یا بہن یا کسی دوست کو اپنی ضمانت سے مبلغ پچاس 50 روپیہ سُودی قرض دلا دئیے۔  اب وُہ روپیہ اصل و سُود مل کر سو روپیہ ہوگئے، زید نے وُہ روپے اپنی زکوٰۃ کے روپے سے ادا کر دئیے مگر شخص مذکور سے یہ نہیں کہا کہ روپیہ زکوٰۃ کا ہم نے تمھارے قرضہ میں دیا ، کیونکہ اگر اُس سے کہا جائیگا تو وُہ شخص بوجہ برادری کے زکوٰۃ لینا پسند نہیں کرتا۔ اس صورت میں زید سےزکوٰۃ  ادا ہوگیا یا نہیں؟“ اس کے جواب میں امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اگر زید نے وُ ہ روپیہ اپنے اس عزیز کو دل میں نیّتِ زکوٰۃ کرکے دیا تو زکوٰۃ ادا ہوگئی، خواہ کسی خرچ میں صرف کرے اور اگر بطور خودبلا اجازت اس کے قرضہ میں دیا تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، وا ﷲ تعالیٰ اعلم۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 73-74، مطبوعہ رضا فاونڈیشن، لاھور)

سودی قرض میں ڈوبے ہوئے، مقروض شخص کو زکوۃ دینے کے متعلق فتاوی اہل سنت ”احکام زکوۃ“ میں ہے: ”یہ سودی لین دین کا وبال ہے، ا ب تک کئے گئے سودی لین دین سے فورا توبہ کریں۔ سود لینا اور دینا دونوں حرام اور جہنم میں لے کر جانے والا کام ہے۔۔۔نیز آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ کی یہی حالت ہے اور آپ پر علاوہ سود کی مد میں دینے کے اتنا قرض ہے کہ ادا کرنے کی صورت میں نصاب کی مقدار مال آپ کی ملکیت میں نہیں رہےگا، تو آپ مستحق ِزکوۃ ہیں اور زکوۃ لے سکتے ہیں۔“ (ملتقطا از فتاوی اھل سنت،کتاب الزکوۃ، صفحہ 467، 466، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul-2874
تاریخ اجراء: 29 شوال المکرم 1444ھ/20 مئی 2023 ء