جمعہ اور عید میں مکبر کسے بنانا چاہئے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
جمعہ و عیدین میں مکبر کس کو بنایا جائے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
مکبر بننا ایک اہم دینی منصب ہے۔ مکبر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اسے امام کا نمائندہ سمجھتے ہوئے اس کی تکبیرات پر نماز ادا کریں گے اور نماز جیسی اہم واعلی عبادت کے بارے میں اس پر مکمل اعتماد کریں گے ،اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں۔ بوقت ضرورت مکبرین کی تعیناتی یا ان کاخود مکبر بننا جائز اور مستحب عمل ہے کہ اس سے مقتدیوں کو نماز کی ادائیگی میں آسانی ہوتی ہے۔تاہم بلا ضرورت مکبرین کی تعیناتی یا بغیر حاجت کے خود مکبر بن جانا مکروہ اور خلاف سنت ہے۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ کہیں بالکل بھی ضرورت نہیں ہوتی پھر بھی لوگ مکبر بن جاتے ہیں یا کہیں ایک دو مکبرین سے ضرورت پوری ہوجاتی ہے لیکن وہاں آٹھ دس لوگ تکبیر کہہ رہے ہوتے ہیں، ظاہر ہےان کا یہ عمل مکروہ اور خلاف سنت ہوگا، کیونکہ جب ضرورت نہیں تو عام حالات کی طرح مقتدیوں کے لئے تکبیرات انتقالات و دیگر اذکار کا آہستہ کہنا مسنون ہوگا اور اس کا خلاف کرناخلاف سنت ہوگا، تاہم اس کے باوجود محض بلند آواز سے تکبیرات وغیرہ کہنے سے ان کی نماز فاسد نہیں ہوگی۔
اب رہا یہ معاملہ کہ مکبر کون بنے؟ تو مکبر اسی شخص کو بننا یا بنانا چاہئے (1) جس کے تلفظ درست ہوں، اور وہ قواعدِ تجوید کے ضروری مسائل کا علم رکھتا ہوں تاکہ تکبیرات میں آواز دراز کرنے کے چکر میں نماز کو فاسد کردینے والی غلطیاں نہ کریں جیسا کہ بہت سے لوگ لفظ ”اکبر“ کو ”اکبار“ یا ”آکبر“، یا لفظ ”اللہ“ کو ”آللّٰہ“ پڑھتے ہیں، حالانکہ اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔
(2) اسی طرح تکبیر سے متعلق ضروری مسائل کا علم بھی ضروری ہے مثلا تکبیر کس وقت کہنی ہے وغیرہ۔ ورنہ لاعلمی کی صورت میں ممکن ہے کہ وہ امام سے پہلے تکبیر کہہ دے، جس سے مقتدی امام سے پہلے رکوع یا سجود میں چلے جائیں، اور امام بعد میں شامل ہو کہ یہ مکروہ و ممنوع عمل ہے۔ اسی طرح اگر مکبّر امام کے رکوع یا سجود سے فارغ ہونے کے بعد تکبیر کہے تو مقتدی امام کے رکن سے فارغ ہونے کے بعد اس رکن میں داخل ہوں گے، جو بلا ضرورت ناجائز اور گناہ ہے ۔
(3) اسی طرح یہ بھی ہوناچاہیے کہ مکبرکسی بھی اعلانیہ گناہ کی وجہ سے فاسق معلن نہ ہو جیسے داڑھی شرعی حد سے کم نہ رکھتا ہو اور نہ داڑھی بالکل منڈواتا ہو،کیونکہ تکبیر کہنا بھی دینی منصب ہے اور جو شخص اعلانیہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ہو، وہ کسی دینی منصب کا اہل نہیں ہوتا۔
البتہ اگر کوئی ایسا شخص خود ہی مکبر بن جائے اور انتظامیہ یا مقتدیوں کی طرف سے اس کی تقرری نہ ہو، تو ظاہر ہے اس کا الزام ان پر نہیں ہوگا اور اگر اس صورت میں ضرورت کے پیش نظر مقتدی ایسے شخص کی آواز پر رکوع و سجود اور پوری نماز ادا کرتے ہیں تو اس سے ان کی اپنی نمازوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ در حقیقت وہ نہ ہی امام ہےا ور نہ ہی لوگ اس کی اقتدا کرتے ہیں بلکہ حقیقت میں اقتدا امام ہی کی کی جا تی ہے، اور مکبر کو صرف امام کا ترجمان سمجھتے ہوئے اس کی تکبیرات پر نماز ادا کرکے ظاہری موافقت پیدا کی جاتی ہے۔ اور چونکہ وہ حقیقتاً امام نہیں ہوتا، اس لیے اس میں صحت امامت یا جواز امامت کی شرائط کا پایا جانا بھی ضروری نہیں۔ لہٰذا اگر مکبر فاسقِ معلن بھی ہو، تب بھی اس کی آواز پر نماز ادا کرنے والے مقتدیوں کی نماز بلا کراہت درست ہوجائے گی۔
متعلقہ مباحث اور جزئیات:
مکبر بننا ایک عظیم دینی منصب ہے۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ اپنے معروف رسالے ”تنبیہ ذوی الافھام علی احکام التبلیغ خلف الامام“ کہ جس میں انہوں نے مکبرین کے حوالے سے ضروری احکامات بیان فرمائیں ہیں،اس میں منصب تکبیر کے حوالے سے لکھتے ہیں: ”ان التبلیغ منصب شریف قد قام بہ افضل الناس بعد الانبیاء و المرسلین ذوی المقام المنیف فلا بد معہ من اجتناب ما احدثہ جھلۃ المبلغین الذی استولت علیھم الشیاطین من منکرات ابتدعوھا، و محدثات اخترعوھا لکثرۃ جھلھم، و قلۃ عقلھم، و عدم اعتنائھم باحکام ربھم“ بلاشبہ مکبر بننا ایک نہایت معزز اور عظیم منصب ہے، جسے انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد لوگوں میں سب سے افضل ہستی (یعنی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ )نے سرانجام دیا۔ لہٰذا اس منصب کے ساتھ ان منکرات اور بدعات سے بچنا ضروری ہے جنہیں بعض جاہل مکبرین نے اپنی جہالت، کم عقلی اور احکامِ الٰہی سے بے اعتنائی کی وجہ سے ایجاد کر لیا ہے۔ (رسالۃ تنبیہ ذوی الافھام علی احکام التبلیغ خلف الامام من رسائل ابن عابدین، ج 01، ص 227، مطبوعہ کوئٹہ)
ضرورت کے وقت مکبربننا مستحب اور بلا ضرورت مکروہ ہے،اس حوالے سےرد المحتار میں ہے ”و في حاشية أبي السعود: و اعلم أن التبليغ عند عدم الحاجة إليه بأن بلغهم صوت الإمام مكروه. و في السيرة الحلبية: اتفق الأئمة الأربعة على أن التبليغ حينئذ بدعة منكرة أي مكروهة و أما عند الاحتياج إليه فمستحب“ حاشیہ ابو السعود میں ہے ”جان لو کہ جب امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچانے کی حاجت نہ ہو بایں صورت کہ مقتدیوں تک امام کی آواز خود ہی پہنچ جائے تو اس وقت (کسی مقتدی کا مکبر بن کر) امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچانا مکروہ ہے، اور سیرت حلبیہ میں ہے کہ ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے کہ ایسی صورت میں مکبر کا، امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچانا بُری بدعت یعنی مکروہ ہے اور جب حاجت ہو تو مستحب ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 01، ص 475،دار الفکر، بیروت)
مکبر کے لئے تکبیر کے حوالے سے ضروری مسائل کا علم ضروری ہے کہ انسان کا واسطہ جس چیز سے پڑے اس کے متعلق اس کے ضروری مسائل کا سیکھنا ضروری ہوتا ہے، اس حوالے سےعلامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”و كل من اشتغل بشيء يفرض عليه علمه و حكمه ليمتنع عن الحرام فيه“ جو شخص جس چیز میں مشغول ہو اس پر اس کے متعلق علم حاصل کرنا اور اس کے متعلق حکم شرعی جاننا فرض ہے تاکہ اس میں حرام سے بچ سکے۔ (رد المحتار، ج 01، ص 42، دار الفکر)
البتہ جس صورت میں مکبر نے بلا ضرورت تکبیر ات وغیرہ کہیں، اس سے اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی، کیونکہ تکبیرات انتقال وغیرہ تو اس نے ویسے بھی کہنی تھیں کہ یہ مقتدی کے حق میں بھی سنت ہے، ہاں البتہ ان کا آہستہ آواز میں کہنا مسنون ہوتا ہے، اور یہاں بلا وجہ اس کی خلاف ورزی پائی گئی تو یوں یہ عمل خلاف سنت تو ہوگا لیکن محض اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔
مقتدی کے لئے تکبیرات انتقال وغیرہ آہستہ کہنا مسنون ہے، چنانچہ سنتوں کے بیان میں در مختار میں ہے: ”(و جهر الامام بالتكبير) بقدر حاجته للاعلام بالدخول و الانتقال، و كذا بالتسميع و السلام. و أما المؤتم و المنفرد فيسمع نفسه“ امام کا نماز میں داخل ہونے اور ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہونے پر آگاہ کرنے کے لیے بقدرِ ضرورت بلند آواز سے تکبیر کہنا اور اسی طرح سمع اللہ لمن حمدہ کہنا اور سلام کہنا (مسنون) ہے۔ اور مقتدی اور تنہا نماز پڑھنے والا صرف اتنی آواز سے کہے گا کہ خود سن لے۔ (الدر المختار، ص 65، دار الکتب العلمیۃ، بیروت(
تکبیرات وغیرہ میں مفسد غلطیوں کی وجہ سے مکبر کی اپنی نماز فاسد ہوجانے کےمتعلق علامہ شامی علیہ الرحمہ فتح القدیر کے حوالے سے لکھتے ہیں: ”من ذلک اللحن بالفاظ التکبیر و التحمید ۔ ۔ ۔ اما خصوص ھذا الذی تعارفوہ فی ھذہ البلاد فلا یبعد انہ مفسد فانہ غالبا یشتمل علی مد ھمزۃ اللہ اکبر و ذلک مفسد“ مکبرین کی غلطیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وه تکبیراور تحمید کے الفاظ میں لحن کرتے ہیں۔ ۔ ۔ اور بالخصوص جس طرح تکبیر کہنا ہمارے یہاں رائج ہوچکا ہے اس کا مفسد نماز ہونا بعید نہیں کیونکہ اکثر یہ اللہ اکبر کے ہمزہ کوکھینچنے پر مشتمل ہوتا ہے جو كہ مفسد نماز ہے۔ (رسالۃ تنبیہ ذوی الافھام علی احکام التبلیغ خلف الامام من رسائل ابن عابدین، ج 01، ص 231، مطبوعہ کوئٹہ)
مکبرین کی جانب سے کی جانے والی غلطیوں میں سے ایک غلطی بیان کرتے ہوئے علامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”و من ذلک مسابقتہ الامام فی الرفع من الرکوع و السجود و ان کان قریبا منه و ذلک مکروہ“ ایک غلطی یہ بھی ہے کہ وہ رکوع اور سجود وغیرہ میں امام سے پہلے تکبیرات کہہ دے اگرچہ امام کے ارکان کے قریب ہو کہ یہ مکروہ ہے۔ (رسالۃ تنبیہ ذوی الافھام علی احکام التبلیغ خلف الامام من رسائل ابن عابدین، ج 01، ص 229، مطبوعہ کوئٹہ)
مکبر، امام نہیں ہوتا، اس لئے اگر وہ فاسق معلن بھی ہو تب بھی اس کی تکبیر پر نماز ادا کرنے والوں کی نماز میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ فتاوی نوریہ میں ہے: ’’تبیین الحقائق ص 143 جلد 01، ثلاثین شامی ص 139 جلد 01 میں “یقتدی الناس بصلوۃ ابی بکر“ کا معنی بیان فرمایا ”ان ابا بکر کان مبلغا اذ لا یجوز ان یکون للناس امامان فی صلوۃ واحدۃ“ یعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ لوگوں کی اقتداء کا یہ معنی ہے کہ مبلغ تھے یعنی ا سوقت حقیقۃ لوگ ان کے مقتدی نہ تھے کہ یہ جائز نہیں کہ ایک نماز میں لوگوں کے دو امام ہوں۔ ۔ ۔ تو آفتاب و ماہتاب سے بھی زیادہ نمایاں ہوا کہ متابعت مکبر بھی متابعت و موافقت صوریہ ہی ہے جو کسی ایسے دوسرے کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے جو نماز میں شریک نہ ہو۔“ (فتاوی نوریہ، ج 1 0، ص 385، طبع: بصیر پور: اوکاڑہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: HAB-0782
تاریخ اجراء: 27 صفر المظفر 1448ھ / 11 اگست 2026ء