logo logo
AI Search

بیماری یا کمزوری کی صورت میں ٹیک لگا کرنماز پڑھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نماز ٹیک لگا کر پڑھنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

نماز ٹیک لگا کر پڑھ سکتے ہیں؟ اور اگر کوئی عذر ہو تو پھر کیا حکم ہوگا؟

جواب

نماز میں بغیر کسی عذر کے ٹیک لگانا مکروہ ہے،البتہ کوئی عذر(مثلاً بیماری یا شدید کمزوری ہو) تو اب ٹیک لگانے کی اجازت ہے۔

بہار شریعت میں ہے:’’ بغیر عذر دیوار یا عصا پر ٹیک لگانا مکروہ ہے اور عذر سے ہو تو حرج نہیں، بلکہ فرض و واجب و سنت فجر کے قیام میں اس پر ٹيک لگا کر کھڑا ہونا فرض ہے جب کہ بغیر اس کے قیام نہ ہوسکے، جیسا کہ بحث قیام میں ذکر ہوا۔‘‘(بہار شریعت، جلد 3، صفحہ 634، مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2448

تاریخ اجرا: 14ربیع الاول1447ھ/08ستمبر2025ء