logo logo
AI Search

جمعہ کا بیان کرسی پر بیٹھ کر کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

جمعہ کا بیان کرسی پر بیٹھ کر کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

صورتِ مسئولہ میں جمعہ کے عربی خطبہ سے پہلے (مقامی زبان میں کی جانے) والی تقریر کُرسی وغیرہ پر بیٹھ کر کرنا جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، کہ یہ وعظ و نصیحت اور تبلیغِ دین ہے اور کرسی پر بیٹھ کر تبلیغِ دین کرنا تو خود نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بھی ثابت ہے۔ لہذا لوگوں کا یہ کہنا ہر گز درست نہیں کہ یہ تقریر ممبر ہی پر بیٹھ کر کرنا ضروری ہے، انہیں چاہئے کہ علم حاصل کریں، تاکہ صحیح اور غلط بات میں فرق کر سکیں۔ البتہ جمعہ کا عربی خطبہ ممبر پر کھڑے ہو کر پڑھنا سنت اور مسلمانوں میں ہمیشہ سے معمول ہے، لہذا اگر ممبر موجود ہو اور کوئی مجبوری بھی نہ ہو، تو عربی خطبہ ممبر پر ہی پڑھا جائے۔

خطبہ جمعہ سے پہلے کی تقریر کا ممبر پر ہونا کچھ ضرور نہیں، کیونکہ وعظ و نصیحت اور تبلیغ  دین جس طرح منبر پر جائز ہے، اسی طرح کسی تخت، کرسی یا مسند وغیرہ پر بیٹھ کر بھی جائز ہے۔ چنانچہ مسلم شریف اور دیگر عامہ کتبِ حدیث میں حضرت ابو رفاعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”قال أبو رفاعة: انتهيت إلى النبي صلى اللہ عليه و سلم و هو يخطب، قال: فقلت : يا رسول اللہ، رجل غريب، جاء يسأل عن دينه، لا يدري ما دينه، قال: فأقبل علي رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، و ترك خطبته حتى انتهى إلي، فأتي بكرسي، حسبت قوائمه حديدا، قال: فقعد عليه رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، و جعل يعلمني مما علمه اللہ، ثم أتى خطبته، فأتم آخرها“ ترجمہ: حضرت ابو رفاعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک اجنبی اور اپنے دین سے ناواقف آدمی اپنے دین کے بارے میں پوچھنے آیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خطبے کو چھوڑ کر میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے میرے پاس تشریف لائے، پھر ایک کرسی لائی گئی میرے گمان کے مطابق اس کے پائے لوہے کے تھے، پس آپ ﷺ اس پر تشریف فرما ہو گئے اور اللہ کے دیئے ہوئے علم سے مجھے میرا دین سیکھانے لگے، پھر دوبارہ اپنے خطبے کی طرف تشریف لے گئے اور اس کو مکمل فرمایا۔ (صحيح مسلم، کتاب الجمعہ، ج 3، ص 15، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

اس حدیث پاک کو نقل کر کے قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ (سال وفات: 544ھ) فرماتے ہیں: ”و فيه جواز الجلوس على الكراسى، و لا سيما فى مثل ذلك و أن النبى صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم دنا من المذكور و نزل عن المنبر، و ترك القيام عليه، و جلس إليه ليقرب منه و يسأله عن دينه، و يتمكن من مباحثته عنه، و ارتفع على الكرسى ليسمع كلامه غيرُه و يشاهدوا محاورته إياه“ ترجمہ: اس میں کرسیوں پر بیٹھنے کا جواز ہے، خصوصاً ایسی صورت میں، اور یہ کہ نبی کریم ﷺ مذکور شخص کے قریب تشریف لے گئے اور منبر سے نیچے اتر آئے، اور منبر پر کھڑے رہنے کو چھوڑ کر اس کے پاس بیٹھ گئے، تاکہ اس کے قریب ہو کر اس سے اس کے دین کے بارے میں سوال کریں اور اس سے اس کے دین کے متعلق گفتگو و مذاکرہ کرنے میں سہولت ہو، اور آپ ﷺ کرسی پر اس لیے بلند ہوئے تاکہ دوسرے لوگ بھی آپ کا کلام سن سکیں اور آپ کی اس شخص کے ساتھ گفتگو کو دیکھ سکیں۔ (إكمال المعلم بفوائد مسلم، ج 3، ص 281، مطبوعہ دار الوفاء، مصر)

امام اہلسنت، اعلی حضرت علیہ الرحمہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) نے جمعہ کے روز کُرسی پر بیٹھ کر وعظ کہنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرمایا: ”واعظ کا کُرسی پر مسجد میں بیٹھنا جائز ہے، جبکہ نماز اور نمازیوں کا حرج نہ ہو۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 8، ص 108، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ (1422ھ / 2001ء) فرماتے ہیں: ”اذانِ خطبہ سے پہلے منبر سے نیچے یا منبر پر اردو وغیرہ میں تقریر کرنابلا شبہ جائز ہے، شرعاً کوئی قباحت نہیں۔“ (فتاویٰ فیض الرسول، ج 1،ص 409،مطبوعہ لاہور)

البتہ جمعہ کا عربی خطبہ ممبر پر پڑھنا سنت ہے، لہذا بلاوجہ اس سنت پر عمل کو ترک نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ علامہ ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ بحر الرائق میں فرماتے ہیں: ’’و من السنة أن يكون الخطيب على منبر اقتداء برسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم‘‘ ترجمہ: (جمعہ کے خطبے کے لیے) سنت یہ ہے کہ خطیب رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کرتے ہوئے منبر پر ہو۔ (البحر الرائق، کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الجمعۃ، جلد 2، صفحہ 259، مطبوعہ کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: GUJ-0173
تاریخ اجراء: 28 صفر المظفر 1448ھ / 12 اگست 2026ء