logo logo
AI Search

وقت کی تنگی کے سبب فرض نماز میں قراءت نہ کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

وقت تنگ ہونے کی وجہ سے فرض نماز میں قراءت نہ کی تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

 کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ سورج طلوع ہونے کا وقت am 05:23:57 ہے۔ ایک شخص نےam  05:22 پر نماز شروع کی اور 05:23:32 پر سلام پھیر دیا۔ تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد دونوں رکعتوں میں 3 بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار قیام کیا۔ رکوع اور سجود کی تسبیحات بھی ایک ایک پڑھیں، صرف التحیات تک پڑھ کر سلام پھیر دیا۔کیا نماز فجر ہو گئی؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں نماز نہیں ہوئی، کیونکہ اس میں نماز کا ایک فرض، قراءت ادا نہیں کیا گیا، لہذا توبہ کرنا بھی ضروری ہے، اور اس نماز کی قضا کرنا بھی ضروری ہے۔ مسئلہ کی تفصیل درج ذیل ہے:

فرض نماز کی دو رکعتوں میں مطلقا ایک آیت کا پڑھنا فرض ہے، اور پوچھی گئی صورت میں یہ فرض چھوڑ دیا گیا، اور اس کی جگہ خاموشی اختیار کی گئی ہے، اس لیے اس فرض کے چھوٹ جانے سے نماز سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ یاد رہے کہ! فجر کا وقت جب اتنا کم ہو کہ جس میں نماز کے واجبات کو ادا کریں گے تو وقت ختم ہوجائے گا تو ایسی صورت میں نماز کے تمام فرائض کو ادا کرتے ہوئے نماز پڑھنا ضروری ہے۔ جب اس طرح نماز پڑھ لیں گے تو نماز کا فرض ادا ہوجائے گا یعنی نماز قضا نہیں کہلائے گی، لیکن ایسی صورت میں نماز دوبارہ پڑھناواجب ہوگی کیونکہ اس میں نماز کے واجبات ادا نہیں کیے گئے۔

رد المحتار ميں ہے "له أن يقرأ في كل ركعة بآية إن خاف فوت الوقت بالزيادة" ترجمہ: اگر زیادہ قراءت کے سبب وقت نکل جانے کا خوف ہو تو اس کے لیے ہر رکعت میں ایک آیت کی قراءت کرنا جائز ہے۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 317، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "مطلقاً ایک آیت پڑھنا فرض کی دو رکعتوں میں اور وتر و نوافل کی ہر رکعت میں امام و منفردپر فرض ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چھوٹی آیت جس میں دو یا دو سے زائد کلمات ہوں پڑھ لینے سے فرض ادا ہو جائے گا اور اگر ایک ہی حرف کی آیت ہو جیسے صۤ، نۤ، قۤ، کہ بعض قراء توں میں ان کو آیت مانا ہے، تو اس کے پڑھنے سے فرض ادا نہ ہوگا، اگرچہ اس کی تکرار کرے۔ رہی ایک کلمہ کی آیت مُدْھَآمَّتَانِاس میں اختلاف ہے اور بچنے میں احتیاط۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 512،مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

مزید بہارشریعت میں ہے "اضطراری حالت میں مثلاً وقت جاتے رہنے یا دشمن یا چور کا خوف ہو تو بقدر حال پڑھے، خواہ سفر میں ہو یا حضر میں، يہاں تک کہ اگر واجبات کی مراعات نہيں کرسکتا تو اس کی بھی اجازت ہے، مثلاً فجر کا وقت اتنا تنگ ہے کہ صرف ایک ایک آیت پڑھ سکتا ہے، تو یہی کرے۔ مگر بعد بلندی آفتاب اس نماز کا اعادہ کرے۔" (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 03، صفحہ 546، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5335
تاریخ اجراء: 10 ربیع الاول 1448ھ / 24 اگست 2026ء