logo logo
AI Search

Bade Janwar Mein Aqiqah ka Hissa aur Baki Gosht Bechne ka Hukum

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بڑے جانور میں ایک حصہ عقیقے کا رکھ کر، بقیہ حصے قصائی کو بیچنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

زید اپنی بیٹی کا عقیقہ کرنا چاہتا ہے، بکرا خریدنے میں مہنگا پڑے گا وہ بڑے جانور میں حصہ لینا چاہتا ہے لیکن باقی سات حصے پورے کرنا مشکل ہے تو کیا ایسا کرسکتا ہے کہ بقیہ چھ حصے کسی قصائی کی دوکان پر کلو کے حساب سے بیچ دے؟

جواب

جو قربانی کے احکام ہیں، عقیقے کے احکام بھی وہی ہیں، اور بڑے جانور میں قربانی درست ہونے کے لیے ساتوں حصوں میں تقرب یعنی نیکی کی نیت ہونا ضروری ہے، خواہ ایک قسم کی نیکی ہو مثلا تمام حصے قربانی کے لیے ہوں یا مختلف اقسام کی مثلا کچھ حصے قربانی کے لیے اور کچھ عقیقے کے لیے وغیرہ، اور اگر کوئی ایک حصہ بھی گوشت بیچنے یا بغیر ثواب کی نیت کے محض گوشت حاصل کرنے کے لیے ہوا، تو قربانی نہیں ہوگی۔ پس عقیقے کے متعلق بھی یہی تفصیل بنے گی۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں گوشت بیچنے کی نیت سے اگر عقیقے کا جانور ذبح کیا، تو عقیقہ نہیں ہوگا۔

البحر الرائق میں ہے

لا بد أن يكون الكل مريدا للقربة، و إن اختلفت جهة القربة فلو أراد أحد السبعة لحما لأهله لا يجزئهم

ترجمہ: ضروری ہے کہ تمام شرکاء کا ارادہ قربت کا ہو اگرچہ قربت کی جہت مختلف ہو، لہٰذا اگر ایک شریک نے اپنے اہلِ خانہ کے لئے گوشت حاصل کرنے کا ارادہ کیا، تو تمام شرکاء کی قربانی نہیں ہوگی۔ (البحر الرائق، ج 2، ص 631، کوئٹہ)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں: عقیقہ کے احکام مثل اضحیہ ہیں، اس سے بھی مثل اضحیہ تقرب الی اللہ عزوجل مقصود ہوتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 501، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ایک گائے میں ایک سے سات کا عقیقہ ہوسکتا ہے، اگر عقیقہ کے سوا دوسرا حصہ ایک یا دو یا کتنا ہی خفیف غیر قربت مثلاً اپنے کھانے کی نیت کو رکھا تو عقیقہ ادا نہ ہوگا، ہاں اگر وہ حصے بھی قربت کے ہوں، مثلا ایک حصہ عقیقہ، ایک حصہ قربانی عید اضحٰی، تو جائز ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 593، 594، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3103
تاریخ اجراء: 24 ربیع الاوّل 1446ھ / 27 ستمبر 2024ء