کیا یتیم کا فطرہ کفالت کرنے والے پر لازم ہوگا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کیایتیم نابالغ بچوں کا صدقۂ فطر کفالت کرنے والے بھائی یا چچا پر لازم ہوگا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
چچا اور بھائیوں پر اپنے مال میں سے نابالغ بھتیجے یا نابالغ بھائی کا صدقہ فطر لازم نہیں ، اگرچہ وہ ان کی پرورش میں ہو۔ البتہ جس نابالغ بچے کی اپنی ملکیت میں حاجت سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد مال موجود ہے، تو صاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سے اس کا صدقۂ فطر اسی کے مال میں واجب ہوگا۔
رد المحتار میں بدائع الصنائع سے منقول ہے: ”أما العقل، و البلوغ فليسا من شرائط الوجوب فی قول أبی حنيفة و أبی يوسف حتى تجب على الصبی و المجنون إذا كان لهما مال و يخرجها الولی من مالهما“ یعنی امام اعظم ابو حنیفہ و امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہما کے قول کے مطابق عاقل و بالغ ہونا صدقۂ فطر واجب ہونے کی شرائط سے نہیں ہے حتٰی کہ بچے اور مجنون پر بھی صدقۂ فطر واجب ہوگا جبکہ ان کے پاس مال ہو اور ان کا ولی ان کے مال سے ادا کرے گا۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 365، مطبوعہ: بیروت)
بہارِ شریعت میں ہے: ”نابالغ یا مجنون اگر مالکِ نصاب ہیں تو ان پر صدقہ فطر واجب ہے، اُن کا ولی اُن کے مال سے ادا کرے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 936، مکتبۃ المدینہ، کراچی(
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2585
تاریخ اجراء: 13 جمادی الاولٰی 1447ھ / 05 نومبر 2025ء