نابالغ بچے سے مسجد کے لئے چندہ لینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نابالغ بچے سے مسجد کے لئے چندہ وصول کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا نابالغ بچے سے مسجد کے لئے چندہ لیا جا سکتا ہے جبکہ وہ خود دے رہا ہو؟
جواب
نابالغ بچوں کی ذاتی رقم سے چندہ نہیں لیا جاسکتا کیونکہ نابالغ کو اپنی ملکیت میں موجود رقم چندے میں دینے کا اختیار نہیں لہٰذا نابالغ کی ذاتی رقم چندے میں وصول کرنا بھی شرعاً، ناجائز و گناہ ہے۔ ہاں اگر وہ چندے میں اپنے ذاتی رقم نہ دے بلکہ والدین سے رقم لے کر آئے جیسے بعض اوقات مسجد میں چندہ ہوتا ہے اور والد اپنی رقم نکال کر بچے کو دیتا ہے کہ وہ مسجد کے چندے میں ڈال دے تو اس صورت میں یہ رقم نابالغ سے لی جاسکتی ہے کہ یہ رقم نابالغ کی ملکیت نہیں بلکہ والد کی ملکیت ہے۔
بہارشریعت میں ہے:”نابالغ کے تصرّفات تین قسم ہیں: ۔۔۔ (2)ضارِّ مَحْض جس میں خالِص نقصان ہو یعنی دنیوی مَضَرَّت ہو اگرچہ آخرت کے اعتبار سے مفید ہو جیسے صدقہ و قرض، غلام کو آزاد کرنا، زوجہ کو طلاق دینا۔ اس کا حکم یہ ہے کہ ولی اِجازت دے تو بھی نہیں کرسکتا بلکہ خود بھی بالغ ہونے کے بعد اپنی نابالغی کے ان تَصَرُّفات کو نافِذ کرنا چاہے نہیں کرسکتا۔“( بہار شریعت، جلد 3، صفحہ 204،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2590
تاریخ اجراء:15 جمادی الاولٰی 1447ھ/07 نومبر 2025ء