حج و عمرہ پر تجارتی سامان لے کر جانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج و عمرہ کے لئے جاتے ہوئے تجارتی سامان ساتھ لے جانے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں عمرہ کے لئے جا رہا ہوں تو کیا ساتھ بیچنے کے لئے کوئی سامان لے جا سکتا ہوں؟
جواب
حج و عمرے کے لیے جاتے ہوئے جائز سامانِ تجارت لے کر جانے میں شرعا کوئی حرج نہیں جبکہ اس کی وجہ سے حج و عمرہ کے افعال میں کوئی فرق نہ آئے۔ البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ سامان اس قسم کا نہ ہو جسے وہاں لے جانے پر قانونی پابندی ہو کہ پکڑے جانے کی صورت میں کسی طرح کی ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے، اسی طرح ایسا بھی نہ ہوکہ اس کی وجہ سے کسی قسم کی غلط بیانی کرنے کی نوبت آئے وغیرہ وغیرہ۔ الغرض! تمام شرعی و قانونی خرابیوں سے بچتے ہوئے جائز سامان تجارت ساتھ لے کرجانے میں حرج نہیں جبکہ اس کی وجہ سے حج وعمرہ کے افعال کی ادائیگی میں کوئی فرق نہ آئے۔
قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے:
لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ
ترجمہ کنز الایمان: تم پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ (سورۃ البقرۃ، پ 02، آیت 198)
امام ابوبکر جصاص رازی علیہ الرحمۃ تحریرفرماتے ہیں:
قال اللہ عقيب ذكر الحج و التزود له [ليس عليكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم] يعني المخاطبين بأول الآية و هم المأمورون بالتزود للحج و أباح لهم التجارة فيه
ترجمہ: اللہ پاک نے حج اور اس کے لیے زادراہ لینے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ یعنی وہ لوگ جو شروع آیت سے مخاطب ہیں، جن کو حج کے لیے زاد راہ لینے کا حکم دیا گیا۔ ان کے لیے حج کے دنوں میں تجارت کو جائز قرار دیا۔ (احکام القرآن، ج 1، ص 386، دار إحياء التراث، بیروت)
اسی آیت مبارکہ کے تحت خزائن العرفان میں ہے شان نزول: بعض مسلمانوں نے خیال کیا کہ راہِ حج میں جس نے تجارت کی یا اونٹ کرایہ پر چلائے اس کا حج ہی کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی مسئلہ: جب تک تجارت سے افعال حج کی ادا میں فرق نہ آئے اس وقت تک تجارت مباح ہے۔ (خزائن العرفان)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3538
تاریخ اجراء: 07 شعبان المعظم 1446ھ / 06 فروری 2025ء